خزاں گاؤں کے بے چراغ رستے میں میلی چادر بچھا کے م…

گاؤں کے بے چراغ رستے میں
میلی چادر بچھا کے مٹی پر
یہ جو اندھے اداس دل والی
ایک پگلی دکھائی دیتی ہے
جس کی بے لفظ گفتگو اکثر
بام و در کو سنائی دیتی ہے
جس کی آنکھوں میں رات ڈھلتی ہے
جس کی شہ رگ کے بجھتے موسم میں
زندگی کی تپش پگھلتی ہے
جم گئے جس کے خواب چہرے پر
( جھریاں بے حساب چہرے پر )
کانپتے ہاتھہ ، جن کے سائے سے
آخر شب دعا لرزتی ہے
جس کی اکھڑی اکھڑتی سانسوں سے
روز و شب کے بھنور گریزاں ہیں
یہ جو بسری ہوئی کہانی ہے
بھوک جس کے لئے غذا جیسی
جس کے نزدیک پیاس پانی ہے
اس کو عبرت سے دیکھنے والو
اس کے بارے میں اپنے گاؤں کے
داستاں گو بزرگ کہتے ہیں
یہ اکیلی اداس بنجارن
اب سے ادھی صدی کے اس جانب
روپ میں دھوپ سے بھی اجلی تھی
پھول کھلتے تھے اس کے آنگن میں
خوشبوؤں سے خراج لیتی تھی
اب سے آدھی صدی کے اس جانب
یہ اکیلی اداس بنجارن
اپنے گاؤں کی اپسراؤں میں
خوبصورت ترین لڑکی تھی
محسن نقوی

