منتخب غزلیں
سیما غزل کی پیدائش Feb 17, 1964 …. سیما غزل کے چ…

سیما غزل کی پیدائش
Feb 17, 1964
….
سیما غزل کے چند اشعار
……
ایسے کچھ حادثے بھی گزرے ہیں
جن پہ میں آج تک نہیں روئی
….
بے قراری سے مرے پاس وہ آیا لیکن
اس نے پوچھا بھی تو بس یہ کہ فلاں کیسا ہے
….
ایک آواز میں نے سنی تھی ابھی کون بولا تھا یہ تو خبر ہی نہیں
یہ تعلق ضروری ہے کس نے کہا وہ بھی خاموش تھا میں بھی خاموش تھی
…..
جذبوں پر جب برف جمے تو جینا مشکل ہوتا ہے
دل کے آتش دان میں تھوڑی آگ جلانی پڑتی ہے
…..
خود اپنے آپ سے ملنے کی خاطر
ابھی کوسوں مجھے چلنا پڑے گا
….
میں ایک روز اسے ڈھونڈ کر تو لے آؤں
وہ اپنی ذات سے باہر کہیں ملے تو سہی
…..
میں نے کہا تھا مجھ کو اندھیرے کا خوف ہے
اس نے یہ سن کے آج مرا گھر جلا دیا
….
مجھ کو اس کے نہیں خود میرے حوالے کرتے
کم سے کم یہ تو مرے چاہنے والے کرتے
….
سرد ہوتے ہوئے وجود میں بس
کچھ نہیں تھا الاؤ آنکھیں تھیں
……………………..
Feb 17, 1964
….
سیما غزل کے چند اشعار
……
ایسے کچھ حادثے بھی گزرے ہیں
جن پہ میں آج تک نہیں روئی
….
بے قراری سے مرے پاس وہ آیا لیکن
اس نے پوچھا بھی تو بس یہ کہ فلاں کیسا ہے
….
ایک آواز میں نے سنی تھی ابھی کون بولا تھا یہ تو خبر ہی نہیں
یہ تعلق ضروری ہے کس نے کہا وہ بھی خاموش تھا میں بھی خاموش تھی
…..
جذبوں پر جب برف جمے تو جینا مشکل ہوتا ہے
دل کے آتش دان میں تھوڑی آگ جلانی پڑتی ہے
…..
خود اپنے آپ سے ملنے کی خاطر
ابھی کوسوں مجھے چلنا پڑے گا
….
میں ایک روز اسے ڈھونڈ کر تو لے آؤں
وہ اپنی ذات سے باہر کہیں ملے تو سہی
…..
میں نے کہا تھا مجھ کو اندھیرے کا خوف ہے
اس نے یہ سن کے آج مرا گھر جلا دیا
….
مجھ کو اس کے نہیں خود میرے حوالے کرتے
کم سے کم یہ تو مرے چاہنے والے کرتے
….
سرد ہوتے ہوئے وجود میں بس
کچھ نہیں تھا الاؤ آنکھیں تھیں
……………………..


