منتخب غزلیں
یوم پیدائش حسن شمسی 16 فروری 1946 … وفا کا یہ صل…

یوم پیدائش حسن شمسی
16 فروری 1946
…
وفا کا یہ صلہ اچھا دیا ہے
مجھے ہی بیوفا ٹھہرا دیا ہے
عزیزوں دوستوں کے مشوروں نے
ہمارا مسئلہ الجھا دیا ہے
بڑھائے جب بھی پاؤں حق کی جانب
مرے رب نے مجھے رستہ دیا ہے
کھلا کر خوبصورت گل خدا نے
ہمارا گلستاں مہکا دیا ہے
سڑک پر آئے دہقانوں نے بھاؤ
سب آٹے دال کا بتلا دیا ہے
‘حسن’ بندوں نے جیسے بیج بوئے
خدا نے پھل انھیں ویسا دیا ہے
…………….
آزمانے کے لیے اس کا کرم نکلے ہیں
آج بت خانے سے ہم سوئے حرم نکلے ہیں
کیسے تخلیق ہوئی، بعد اجل کیا ہو گا
ان سوالوں ہی سے سب دین و دھرم نکلے ہیں
غلبہ تھا ذہن پہ رنگین سے کچھ خوابوں کا
عشق میں ڈوبے تو اب سارے بھرم نکلے ہیں
کھائے ہیں اہلِ زباں خوفِ ستم گر کتنا
لب بھی خاموش ہیں، کاغذ نہ قلم نکلے ہیں
ضد ہے اس یار کو ہرگز نہ اٹھائے گا نقاب
کھا کے دیدار کی پر ہم بھی قسم نکلے ہیں
فخر سے قوتِ باطل کو کیا ہے مفلوج
جب ذرا سر پہ کفن باندھ کے ہم نکلے ہیں
پلٹے اوراق ذرا آج جو کچھ ماضی کے
ہر ستم ان کے حسن دل پہ رقم نکلے ہیں
……….
16 فروری 1946
…
وفا کا یہ صلہ اچھا دیا ہے
مجھے ہی بیوفا ٹھہرا دیا ہے
عزیزوں دوستوں کے مشوروں نے
ہمارا مسئلہ الجھا دیا ہے
بڑھائے جب بھی پاؤں حق کی جانب
مرے رب نے مجھے رستہ دیا ہے
کھلا کر خوبصورت گل خدا نے
ہمارا گلستاں مہکا دیا ہے
سڑک پر آئے دہقانوں نے بھاؤ
سب آٹے دال کا بتلا دیا ہے
‘حسن’ بندوں نے جیسے بیج بوئے
خدا نے پھل انھیں ویسا دیا ہے
…………….
آزمانے کے لیے اس کا کرم نکلے ہیں
آج بت خانے سے ہم سوئے حرم نکلے ہیں
کیسے تخلیق ہوئی، بعد اجل کیا ہو گا
ان سوالوں ہی سے سب دین و دھرم نکلے ہیں
غلبہ تھا ذہن پہ رنگین سے کچھ خوابوں کا
عشق میں ڈوبے تو اب سارے بھرم نکلے ہیں
کھائے ہیں اہلِ زباں خوفِ ستم گر کتنا
لب بھی خاموش ہیں، کاغذ نہ قلم نکلے ہیں
ضد ہے اس یار کو ہرگز نہ اٹھائے گا نقاب
کھا کے دیدار کی پر ہم بھی قسم نکلے ہیں
فخر سے قوتِ باطل کو کیا ہے مفلوج
جب ذرا سر پہ کفن باندھ کے ہم نکلے ہیں
پلٹے اوراق ذرا آج جو کچھ ماضی کے
ہر ستم ان کے حسن دل پہ رقم نکلے ہیں
……….



