عالمی ادب
ننھا شہزادہ باب ہفتم پانچویں دن ننھے شہزادے کی زندگی کا راز مجھ پر کھلا، اور ہم…
ننھا شہزادہ
باب ہفتم
پانچویں دن ننھے شہزادے کی زندگی کا راز مجھ پر کھلا، اور ہمیشہ کی طرح اس مرتبہ بھی بھیڑ کی مہربانی سے۔ ایک دم، بغیر کسی تمہید کے اس نے سوال کیا، جیسے یہ سوال اس کے اپنی مشکل پر طویل عرصے کے غورو فکر سے نکلا ہو:
اگر ایک بھیڑ چھوٹی جھاڑیاں کھا جاتی ہو، تو کیا وہ پھول بھی کھا جائے گی؟
ایک بھیڑ، میں نے جواب دیا، اپنی پہنچ میں آنے والی ہر چیز کھا جاتی ہے۔
کانٹوں والے پھول بھی؟
ہاں، کانٹوں والے پھول بھی۔
تو پھر کانٹوں کا مقصد کیا ہے؟
میں یہ نہیں جانتا تھا۔ اس وقت میں اپنے انجن میں پھنسی ہوئی ایک بولٹ نکالنے میں ازحد مصروف تھا۔ میں بہت پریشان تھا، کیونکہ مجھ پر واضح ہو رہا تھا کہ میرے جہاز کی خرابی کافی سنگین ہے۔ پھر میرے پاس پینے کا پانی اس قدر کم رہ گیا تھا کہ مجھے بدترین صورت حال کا دھڑکا لگ گیا تھا۔
تو کانٹوں کا مصرف کیا ہے آخر؟
ننھا شہزادہ ایک مرتبہ سوال پوچھ لیتا تو اس کی جان نہیں چھوڑتا تھا۔ جہاں تک میری بات ہے، میں بولٹ میں الجھا ہوا تھا۔ اور میں نے وہ پہلی بات کہہ دی جو میرے ذہن میں آئی:
کانٹوں کا کوئی مقصد نہیں۔ پھول انھیں تکلیف پہنچانے کی نیت سے ساتھ رکھتے ہیں۔
اوہ!
اس کے بعد، ایک لمحے کے لیے، مکمل خاموشی چھا گئی۔ پھر ننھا شہزادہ مجھ پر پل پڑا، غصے اور تلخی کے ساتھ۔۔
مجھے تم پر بھروسہ نہیں! پھول کمزور ہوتے ہیں، اور سادہ دل بھی۔ وہ اپنے آپ کوجتنا دلاسہ دے سکیں، دیتے ہیں۔ وہ ایمان رکھتے ہیں کہ ان کے کانٹے، خطرناک ہتھیار ہیں۔
میں نے جواب نہیں دیا۔ اس لمحے میں، میں اپنے آپ سے کہہ رہا تھا، اگر یہ بولٹ ابھی بھی نہ گھومی تو میں اسے ہتھوڑا مار کر نکالوں گا۔ ایک مرتبہ پھر ننھے شہزادے نے میرے خیالات کی رو میں خلل ڈالا:
اور تمھیں یہ یقین ہے کہ پھول۔۔
اوہ، نہیں! میں چلایا، نہیں نہیں! میں کسی بات پر یقین نہیں رکھتا۔ میں نے تو تمھیں وہ پہلی بات کہہ ڈالی جو میرے ذہن میں آئی۔ کیا تم نہیں دیکھتے کہ میں اہم معاملات میں مصروف ہوں!
وہ مجھے پھٹی پھٹی نظروں سے دیکھنے لگا، جیسے اس پر بجلی گری ہو:
اہم معاملات!
اس نے مجھے ہتھوڑا تھامے ہوئے دیکھا، جبکہ میری انگلیاں انجن کی گریس سے سیاہ تھیں، اور میں ایک ایسی شے پر جھکا ہوا تھا جو اسے انتہائی بدصورت نظر آتی تھی۔
تم تو بالکل بڑوں کی طرح بات کرتے ہو!
اس پر میں ذرا شرمندہ ہو گیا۔ لیکن وہ اپنی شدت میں آگے بڑھتا گیا۔
تم سب کچھ ملا دیتے ہو۔ تم ساری باتیں گڈمڈ کر دیتے ہو۔
اب اسے شدید غصہ آ چکا تھا۔ اس نے اپنے سنہرے گھنگریالے بال ہوا میں جھلائے۔
میں ایک سیارے سے واقف ہوں جہاں ایک سرخ چہرے والے حضرت قیام پذیر ہیں۔ انھوں نے کبھی کوئی پھول نہیں سونگھا۔ انھوں نے کبھی کوئی ستارا نہیں دیکھا، کبھی کسی سے محبت نہیں کی۔ انھوں نے ساری زندگی اعداد و شمار جوڑنے کے علاوہ کوئی کام نہیں کیا۔ اور پورے دن یہ حضرت یہی دہراتے ہیں بار بار، بالکل آپ کی طرح، میں اہم معاملات میں مصروف ہوں! اور اس پر ان کا سینہ فخر سے چوڑا ہو جاتا ہے۔ لیکن وہ ایک انسان نہیں ہیں، صرف ایک کھمبی ہیں!
ایک۔۔۔کیا؟
ایک کھمبی!
اب ننھا شہزادہ غیض وغضب کے مارے سفید پڑ چکا تھا۔
پھول تو کئی ملین سالوں سے کانٹے اگاتے آ رہے ہیں۔ اور ملین سالوں سے ہی بھیڑیں انھیں کھاتی آ رہی ہیں۔ پھر بھی یہ سمجھنے کی کوشش کرنا اہم نہیں کہ پھول اتنی مصیبت میں پڑ کر کانٹے اگاتے ہی کیوں ہیں، اگر انھیں اس سے کوئی فائدہ نہیں؟ کیا بھیڑوں اور پھولوں کے درمیان جنگ اہم نہیں؟ کیا یہ ایک فربہ، سرخ چہرے والے صاحب کے اعداد و شمار سے زیادہ اہم نہیں؟ اور اگر میں جانتا ہوں، میں بذات خود، ایک پھول کو جو دنیا میں یکتا ہے، جو میرے سیارے کے علاوہ کہیں نہیں اگتا، لیکن جسے کوئی ننھی سی بھیڑ کسی صبح اپنے ایک ہی لقمے میں چبا سکتی ہے، یہ دھیان دیے بغیر کہ وہ کیا کر رہی ہے۔۔۔اوہ، مگر تمھارا خیال ہے کہ یہ اہم نہیں!
اس نے بات جاری رکھی، اور اس کا چہرہ سفید سے سرخ ہوتا گیا:
اگر کوئی ایک پھول سے محبت کرتا ہے، جو لاکھوں کروڑوں ستاروں میں کہیں صرف ایک جگہ اگتا ہے، تو وہ صرف ستاروں کو دیکھ کر ہی خوش ہو جائے گا۔ وہ اپنے آپ کو سمجھا سکتا ہے، وہاں کسی جگہ میرا پھول بھی موجود ہے! لیکن اگرکوئی بھیڑ وہ ایک پھول کھا گئی، تو ایک لمحے میں اس کے سب ستارے بجھ جائیں گے۔ اور تم سمجھتے ہو کہ یہ اہم نہیں!
وہ کچھ اور نہیں کہہ پایا۔ اس کے الفاظ کا رستہ آنسووں نے روک لیا تھا۔
رات ہو چکی تھی، سو میں نے اوزاروں کو اپنے ہاتھ سے پھسلنے دیا۔ اس وقت میرے ہتھوڑے، میری بولٹ، میری پیاس یا موت کی کیا اہمیت تھی؟ ایک ستارے، ایک سیارے پر، میرے ہی سیارے زمین پر ایک ننھا شہزادہ تھا جسے تسلی کی ضرورت تھی۔ میں نے اسے اپنے بازوؤں کے حصار میں لے لیا، اور اسے جھلانے لگا۔ میں نے کہا:
تم جس پھول سے محبت کرتے ہو، وہ خطرے میں نہیں۔ میں تمھاری بھیڑ کے لیے منہ بند رکھنے والا پٹہ بناؤں گا۔ میں تمھیں پھول کے لیے حفاظتی باڑ بنا دوں گا۔میں۔۔۔۔۔۔۔
میری سمجھ میں نہیں آیا کہ اسے کیا کہوں۔ میں عجیب سا ہو گیا اور اٹکنے لگا۔ میں اندازہ نہیں لگا پا رہا تھا کہ اس تک کیسے پہنچوں، اسے اپنے راستے میں کیسے جا پکڑوں اور ایک مرتبہ پھر اس کے ہاتھ میں ہاتھ ڈال کر کیسے گھوموں۔
کیا کیجیے کہ آنسووں کی دنیا ایسی ہی خفیہ جگہ ہے۔
۔۔۔۔۔
بشکریہ
https://www.facebook.com/groups/1876886402541884/permalink/3863731247190713
باب ہفتم
پانچویں دن ننھے شہزادے کی زندگی کا راز مجھ پر کھلا، اور ہمیشہ کی طرح اس مرتبہ بھی بھیڑ کی مہربانی سے۔ ایک دم، بغیر کسی تمہید کے اس نے سوال کیا، جیسے یہ سوال اس کے اپنی مشکل پر طویل عرصے کے غورو فکر سے نکلا ہو:
اگر ایک بھیڑ چھوٹی جھاڑیاں کھا جاتی ہو، تو کیا وہ پھول بھی کھا جائے گی؟
ایک بھیڑ، میں نے جواب دیا، اپنی پہنچ میں آنے والی ہر چیز کھا جاتی ہے۔
کانٹوں والے پھول بھی؟
ہاں، کانٹوں والے پھول بھی۔
تو پھر کانٹوں کا مقصد کیا ہے؟
میں یہ نہیں جانتا تھا۔ اس وقت میں اپنے انجن میں پھنسی ہوئی ایک بولٹ نکالنے میں ازحد مصروف تھا۔ میں بہت پریشان تھا، کیونکہ مجھ پر واضح ہو رہا تھا کہ میرے جہاز کی خرابی کافی سنگین ہے۔ پھر میرے پاس پینے کا پانی اس قدر کم رہ گیا تھا کہ مجھے بدترین صورت حال کا دھڑکا لگ گیا تھا۔
تو کانٹوں کا مصرف کیا ہے آخر؟
ننھا شہزادہ ایک مرتبہ سوال پوچھ لیتا تو اس کی جان نہیں چھوڑتا تھا۔ جہاں تک میری بات ہے، میں بولٹ میں الجھا ہوا تھا۔ اور میں نے وہ پہلی بات کہہ دی جو میرے ذہن میں آئی:
کانٹوں کا کوئی مقصد نہیں۔ پھول انھیں تکلیف پہنچانے کی نیت سے ساتھ رکھتے ہیں۔
اوہ!
اس کے بعد، ایک لمحے کے لیے، مکمل خاموشی چھا گئی۔ پھر ننھا شہزادہ مجھ پر پل پڑا، غصے اور تلخی کے ساتھ۔۔
مجھے تم پر بھروسہ نہیں! پھول کمزور ہوتے ہیں، اور سادہ دل بھی۔ وہ اپنے آپ کوجتنا دلاسہ دے سکیں، دیتے ہیں۔ وہ ایمان رکھتے ہیں کہ ان کے کانٹے، خطرناک ہتھیار ہیں۔
میں نے جواب نہیں دیا۔ اس لمحے میں، میں اپنے آپ سے کہہ رہا تھا، اگر یہ بولٹ ابھی بھی نہ گھومی تو میں اسے ہتھوڑا مار کر نکالوں گا۔ ایک مرتبہ پھر ننھے شہزادے نے میرے خیالات کی رو میں خلل ڈالا:
اور تمھیں یہ یقین ہے کہ پھول۔۔
اوہ، نہیں! میں چلایا، نہیں نہیں! میں کسی بات پر یقین نہیں رکھتا۔ میں نے تو تمھیں وہ پہلی بات کہہ ڈالی جو میرے ذہن میں آئی۔ کیا تم نہیں دیکھتے کہ میں اہم معاملات میں مصروف ہوں!
وہ مجھے پھٹی پھٹی نظروں سے دیکھنے لگا، جیسے اس پر بجلی گری ہو:
اہم معاملات!
اس نے مجھے ہتھوڑا تھامے ہوئے دیکھا، جبکہ میری انگلیاں انجن کی گریس سے سیاہ تھیں، اور میں ایک ایسی شے پر جھکا ہوا تھا جو اسے انتہائی بدصورت نظر آتی تھی۔
تم تو بالکل بڑوں کی طرح بات کرتے ہو!
اس پر میں ذرا شرمندہ ہو گیا۔ لیکن وہ اپنی شدت میں آگے بڑھتا گیا۔
تم سب کچھ ملا دیتے ہو۔ تم ساری باتیں گڈمڈ کر دیتے ہو۔
اب اسے شدید غصہ آ چکا تھا۔ اس نے اپنے سنہرے گھنگریالے بال ہوا میں جھلائے۔
میں ایک سیارے سے واقف ہوں جہاں ایک سرخ چہرے والے حضرت قیام پذیر ہیں۔ انھوں نے کبھی کوئی پھول نہیں سونگھا۔ انھوں نے کبھی کوئی ستارا نہیں دیکھا، کبھی کسی سے محبت نہیں کی۔ انھوں نے ساری زندگی اعداد و شمار جوڑنے کے علاوہ کوئی کام نہیں کیا۔ اور پورے دن یہ حضرت یہی دہراتے ہیں بار بار، بالکل آپ کی طرح، میں اہم معاملات میں مصروف ہوں! اور اس پر ان کا سینہ فخر سے چوڑا ہو جاتا ہے۔ لیکن وہ ایک انسان نہیں ہیں، صرف ایک کھمبی ہیں!
ایک۔۔۔کیا؟
ایک کھمبی!
اب ننھا شہزادہ غیض وغضب کے مارے سفید پڑ چکا تھا۔
پھول تو کئی ملین سالوں سے کانٹے اگاتے آ رہے ہیں۔ اور ملین سالوں سے ہی بھیڑیں انھیں کھاتی آ رہی ہیں۔ پھر بھی یہ سمجھنے کی کوشش کرنا اہم نہیں کہ پھول اتنی مصیبت میں پڑ کر کانٹے اگاتے ہی کیوں ہیں، اگر انھیں اس سے کوئی فائدہ نہیں؟ کیا بھیڑوں اور پھولوں کے درمیان جنگ اہم نہیں؟ کیا یہ ایک فربہ، سرخ چہرے والے صاحب کے اعداد و شمار سے زیادہ اہم نہیں؟ اور اگر میں جانتا ہوں، میں بذات خود، ایک پھول کو جو دنیا میں یکتا ہے، جو میرے سیارے کے علاوہ کہیں نہیں اگتا، لیکن جسے کوئی ننھی سی بھیڑ کسی صبح اپنے ایک ہی لقمے میں چبا سکتی ہے، یہ دھیان دیے بغیر کہ وہ کیا کر رہی ہے۔۔۔اوہ، مگر تمھارا خیال ہے کہ یہ اہم نہیں!
اس نے بات جاری رکھی، اور اس کا چہرہ سفید سے سرخ ہوتا گیا:
اگر کوئی ایک پھول سے محبت کرتا ہے، جو لاکھوں کروڑوں ستاروں میں کہیں صرف ایک جگہ اگتا ہے، تو وہ صرف ستاروں کو دیکھ کر ہی خوش ہو جائے گا۔ وہ اپنے آپ کو سمجھا سکتا ہے، وہاں کسی جگہ میرا پھول بھی موجود ہے! لیکن اگرکوئی بھیڑ وہ ایک پھول کھا گئی، تو ایک لمحے میں اس کے سب ستارے بجھ جائیں گے۔ اور تم سمجھتے ہو کہ یہ اہم نہیں!
وہ کچھ اور نہیں کہہ پایا۔ اس کے الفاظ کا رستہ آنسووں نے روک لیا تھا۔
رات ہو چکی تھی، سو میں نے اوزاروں کو اپنے ہاتھ سے پھسلنے دیا۔ اس وقت میرے ہتھوڑے، میری بولٹ، میری پیاس یا موت کی کیا اہمیت تھی؟ ایک ستارے، ایک سیارے پر، میرے ہی سیارے زمین پر ایک ننھا شہزادہ تھا جسے تسلی کی ضرورت تھی۔ میں نے اسے اپنے بازوؤں کے حصار میں لے لیا، اور اسے جھلانے لگا۔ میں نے کہا:
تم جس پھول سے محبت کرتے ہو، وہ خطرے میں نہیں۔ میں تمھاری بھیڑ کے لیے منہ بند رکھنے والا پٹہ بناؤں گا۔ میں تمھیں پھول کے لیے حفاظتی باڑ بنا دوں گا۔میں۔۔۔۔۔۔۔
میری سمجھ میں نہیں آیا کہ اسے کیا کہوں۔ میں عجیب سا ہو گیا اور اٹکنے لگا۔ میں اندازہ نہیں لگا پا رہا تھا کہ اس تک کیسے پہنچوں، اسے اپنے راستے میں کیسے جا پکڑوں اور ایک مرتبہ پھر اس کے ہاتھ میں ہاتھ ڈال کر کیسے گھوموں۔
کیا کیجیے کہ آنسووں کی دنیا ایسی ہی خفیہ جگہ ہے۔
۔۔۔۔۔
بشکریہ
https://www.facebook.com/groups/1876886402541884/permalink/3863731247190713




There you go