منتخب نظمیں

**مارننگ شوز*****:***** تفریح، تماشا یا معاشرتی زو…

**مارننگ شوز*****:***** تفریح، تماشا یا معاشرتی زوال؟**

پاکستانی ٹی وی اسکرین پر مارننگ شوز ایک وقت میں گھریلو خواتین کی معلومات، رہنمائی اور ہلکی پھلکی تفریح کا ذریعہ ہوا کرتے تھے۔ ان پروگرامز میں کھانا پکانے سے لے کر بچوں کی تربیت، صحت، اور معاشرتی مسائل تک ہر موضوع کو سنجیدگی سے پیش کیا جاتا تھا۔ مگر وقت کے ساتھ ساتھ یہ شوز اپنی اصل روح سے ہٹ کر ایک ایسی دوڑ میں شامل ہو چکے ہیں جہاں مقصد صرف اور صرف توجہ حاصل کرنا رہ گیا ہے۔

حال ہی میں ایک لائیو شو کے دوران پیش آنے والا واقعہ اسی بدلتے رجحان کی واضح مثال ہے۔ ایک شو ہوسٹ کو ان کے شوہر نے کیمروں کے سامنے اٹھا لیا—ایک ایسا لمحہ جو شاید نجی زندگی میں ایک معصوم اور محبت بھرا اظہار ہو سکتا ہے، لیکن جب یہی منظر نیشنل ٹی وی اسکرین پر دکھایا جائے تو سوالات جنم لیتے ہیں۔

سوال یہ نہیں کہ ایک شوہر اپنی بیوی سے محبت کیوں ظاہر کر رہا ہے۔ سوال یہ بھی نہیں کہ ایک جوڑا اپنی خوشی کے لمحات کیوں شیئر کر رہا ہے۔ اصل سوال یہ ہے کہ **کیا ہر نجی لمحہ عوامی نمائش کے لیے ہوتا ہے؟** اور کیا ناظرین کی توجہ حاصل کرنے کے لیے ہر حد پار کرنا ضروری ہو چکا ہے؟

ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ ٹی وی اسکرین صرف ایک ذاتی پلیٹ فارم نہیں بلکہ ایک اجتماعی آئینہ ہے، جہاں دکھائی جانے والی ہر چیز کسی نہ کسی سطح پر معاشرے کی عکاسی بھی کرتی ہے اور اس کی تشکیل بھی۔ جب سینئر اور تجربہ کار شخصیات خود ایسے اقدامات کریں گی تو نئی نسل اسے نارمل سمجھے گی۔

یہاں ایک اور پہلو بھی قابل غور ہے۔ آج کا میڈیا صرف معلومات یا تفریح فراہم نہیں کرتا بلکہ ایک ذہنی رویہ تشکیل دیتا ہے۔ جب بار بار ایسے مناظر دکھائے جائیں گے تو آہستہ آہستہ ناظرین کی حساسیت کم ہوتی جائے گی، اور وہ چیزیں بھی عام لگنے لگیں گی جو کبھی غیر مناسب سمجھی جاتی تھیں۔

ہمیں یہ بھی تسلیم کرنا ہوگا کہ سوشل میڈیا کے اس دور میں “وائرل ہونا” ایک نئی کرنسی بن چکی ہے۔ لائکس، ویوز اور شیئرز نے معیار کی جگہ لے لی ہے۔ اب سوال یہ نہیں ہوتا کہ “کیا صحیح ہے؟” بلکہ یہ ہوتا ہے کہ “کیا بکے گا؟”

لیکن یہاں ایک حد ضرور ہونی چاہیے۔

آزادی اظہار اپنی جگہ، تفریح اپنی جگہ، لیکن ایک ذمہ داری بھی ہوتی ہے—خاص طور پر ان لوگوں پر جو لاکھوں لوگوں کے گھروں میں روزانہ داخل ہوتے ہیں۔ نیشنل ٹی وی پر بیٹھ کر ہر عمل صرف ذاتی نہیں رہتا، وہ ایک پیغام بن جاتا ہے۔

یہ واقعہ شاید ایک لمحاتی جذبات کا نتیجہ تھا، شاید اس میں کوئی بدنیتی نہیں تھی، لیکن ایسے واقعات ایک بڑے مسئلے کی نشاندہی ضرور کرتے ہیں:
**ہم بطور معاشرہ سنجیدگی سے تماشا بنتے جا رہے ہیں۔**

اگر ہم نے ابھی بھی اپنی حدود کا تعین نہ کیا تو وہ دن دور نہیں جب ہمیں خود یہ سمجھ نہیں آئے گا کہ تفریح کہاں ختم ہوتی ہے اور بیہودگی کہاں شروع ہوتی ہے۔

آخر میں سوال صرف ایک ہے:
**کیا ہم اپنے میڈیا کو آئینہ بنانا چاہتے ہیں یا سرکس؟**


Related Articles

Back to top button
تفکر ڈاٹ کام
situs judi online terpercaya idn poker AgenCuan merupakan salah satu situs slot gacor uang asli yang menggunakan deposit via ovo 10 ribu, untuk link daftar bisa klik http://faculty.washington.edu/sburden/avm/slot-dana/