پٹوفی -Pètõfi :علامہ اقبال (شاعرِ جوانا مرگِ ہنگری کہ درِ معرکہ کارزار درِ ح…

:علامہ اقبال
(شاعرِ جوانا مرگِ ہنگری کہ درِ معرکہ کارزار درِ حمایت وطن کشتہ شد و نعش او نیافتند تا یادگارِخاکی از او بماند)
"ہنگری کا جوان شاعر جس نے معرکہ جنگ میں اپنے وطن کی حمایت میں جان دی ، اور جس کی زمین پر کوئی یادگار باقی نہیں کیونکہ اس کی لاش گم ہو گئی تھی۔”
نفسے دریں گلستاں زِ عروسِ گل سرودی
بہ دلے غمے فزودی ، ز دلے غمے زبودی
تو بخونِ خویش بستی کفِ لالہ را نگارے
تو بآہِ صبحگاہے دلِ غنچہ را کشودی
بنو اے خودگم استی سخنِ تو،مرقد تو
بہ زمین نہ باز رفتی کہ تو از زمیں نہ بودی
اس دنیا کے گلستاں میں دلنشینیء گلاب کے لیے بس تو نے ایک سانس کا نغمہ گایا.
تو نے کچھ دلوں کا غم بڑھا دیا ، اور چند دلوں سے غم محو کر دیا.
اس چمن میں تو نے لالہء کی ہتھیلی کو اپنے خون کی مہندی سے سجا دیا.
تو نے اپنی آہِ صبح گاہی سے کلیوں کے دل کھول کر وا کر دیے..
اے اپنے سخن میں گم رہنے والے ، تیرا سخن ہی تیری قبر ہے .
شہادت پا کر تو زمین کی طرف نہ لوٹا ، کیونکہ تو اس زمین کا باسی نہیں تھا.
بشکریہ
https://www.facebook.com/groups/1876886402541884/permalink/3846297388934099




خلیق بھائی آپنے اقبال صاحب کی تخلیق کو آسان کرکے ہم جیسے کم علم شخص پر احسان کرنے کا شکریہ صاحب