منتخب غزلیں

یہ مجھ سے کِس طرح کی ضد دلِ برباد کرتا ہے میں جِس…

یہ مجھ سے کِس طرح کی ضد دلِ برباد کرتا ہے
میں جِس کو بُھولنا چاہُوں ، اُسی کو یاد کرتا ہے

قفس میں جِس کے بازُو شل ہُوئے رزقِ اَسیری سے
وہی صیدِ زبُوں صیّاد کو صیّاد کرتا ہے

طریقے ظُلم کے صیّاد نے سارے بدل ڈالے
جو طائر اُڑ نہیں سکتا ، اُسے آزاد کرتا ہے

اُفق سے دیکھ کر رعنائیاں ہم خاک زادوں کی
زمِیں بَوسی کی کوشش چرخِ بے بُنیاد کرتا ہے

سِتم اہلِ جہاں کا، حوصلہ دیتا ہے جینے کا
وہ بارِ غم اُٹھانے میں مِری امداد کرتا ہے

کِیا تھا خُلد میں اِبلیس نے گمراہ آدم کو !
اب آدم زاد کو گمراہ آدم زاد کرتا ہے

دِلِ افسُردہ میں، جب ضُعف سے کُچھ بھی نہیں باقی
نَشاطِ شوق کا مژدہ، کسے پِھر شاد کرتا ہے

وہ جُوئے شِیر ہو ، یا جُوئے خُوں، دونوں برابر ہیں
کہ اِن دونوں کو جاری تیشۂ فرہاد کرتا ہے

دِلِ وِیراں میں تابؔش! کیوں تمنّائیں بساتے ہو
بڑے ناداں ہو، صحرا بھی کوئی آباد کرتا ہے

(تابؔش دہلوی)

انتخاب :-: ابوالحسن علی ندوی

Related Articles

Back to top button
تفکر ڈاٹ کام
situs judi online terpercaya idn poker AgenCuan merupakan salah satu situs slot gacor uang asli yang menggunakan deposit via ovo 10 ribu, untuk link daftar bisa klik http://faculty.washington.edu/sburden/avm/slot-dana/