عالمی ادب

– فلسفہ کی تاریخ (History of philosophy) – قسط: 19 – ڈیموکریٹس (Democritus) ڈیمو…

– فلسفہ کی تاریخ (History of philosophy)
– قسط: 19
– ڈیموکریٹس (Democritus)
ڈیموکریٹس کی تقریباً 460BCE میں پیدائنس ہوتی ہے
اور 370BCE میں اس کی وفات ہوجاتی ہے۔
ڈیموکریٹس کا یہ ماننا تھا کہ ایک "untrouble” زندگی گزارنی چاہیئے، ایسی زندگی کہ جس میں آپ علم حاصل کریں اور خوش رہے۔
ڈیموکریٹس کہتا تھا کہ جب آپ دنیاوی چیزوں کے پیچھے بھاگو گے تو آپ کبھی بھی خوش نہیں رہ سکتے۔
ریاضی میں ڈیموکریٹس شاید پہلا ہی بندہ تھا جس نے مشاہدہ کیا کہ "Prism” کا جو "volume” ہوتا ہے وہ اس کے base کے حساب سے ہوتا ہے یعنی کہ ایک ہی base کا cylinder اور ایک ہی اسی base کا اگر ہم prism بنائیں تو وہ سلنڈر کے volume کا 1/3rd ہوگا۔
مزید یہ کہ ڈیموکریٹس نے پرمینڈیز کے تھیری پر غور کرنا شروع کر لیا، اس نے اس چیز سے اتفاق کیا کہ ہمارے سامنے چیزیں تبدیل ہوتی نظر آرہی ہے مگر اس کے ساتھ ساتھ اس کا یہ بھی خیال تھا کہ جو تبدیلی ہمیں نظر آرہی ہے اس کی بنیاد کوئی ایسی پرمینیڈین "Parmenidian” چیز ہے جو کہ تبدیل نہیں ہو رہی ہے۔
پرمینیڈیز کی تھیری کو پڑھ کر وہ یہ کہتا تھا کہ خلاء میں سے کوئی چیز پیدا نہیں ہوسکتی مگر پرمینیڈیز جب اس نتیجے پر پہنچا کہ خلاء میں سے کوئی چیز پیدا نہیں ہو سکتی تو خلاء ہے ہی نہیں لیکن ڈیموکریٹس بالکل اس کے الٹ نتیجے پر پہنچا کہ اگر خلاء میں سے کوئی چیز پیدا نہیں ہو سکتی تو وہ جو چیز ہے وہ خلاء سے علیحدہ ہے یعنی خلاء جو ہے وہ مختلف چیزوں کے درمیان پائی جا سکتی ہے۔
اس نے سوچا کہ اگر آپ کوئی بھی چیز لے، جیسے سیب لے لیں، اس کا ادھا حصہ کر لیں، پھر اس ادھے حصے کا ادھا حصہ کر لیں، پھر اس ادھے حصے کا ادھا حصہ کر لے تو ایک ایسا ذرا نکلے گا کہ جس کو مزید ادھا نہیں کیا جا سکتا وہ uncuttable ہوگا اور جس کو مزید کاٹا نہیں جا سکتا اس کو یونانی زبان میں ایٹم (atom) کہتے ہیں۔
ڈیموکریٹس نے تھیری بنائی "The Atomic Theory”۔
وہ تھیری یہ تھی کہ دنیا کے اندر جو چیز مادی کی بنیاد ہے وہ چھوٹے چھوٹے "uncuttable” ذرے ہیں اور ان ذروں کے درمیان صرف اور صرف خلاء ہے وہ خلاء جس کی پرمینڈیز بات کر رہا تھا وہ ذرے ایک دوسرے کے ساتھ جوڑے ہیں۔
ڈیموکریٹس کا خیال تھا کہ ایٹمز (atoms) ایک جیسے نہیں ہیں بلکہ ایک دوسرے سے مختلف ہیں۔
وہ یہ کہتا تھے کہ کچھ smooth ایٹم ہیں اور کچھ گول ہیں، کچھ ایٹمز کا ایک رنگ تو کچھ ایٹمز کا دوسرا رنگ ہے۔
نیز ڈیموکریٹس کہتا تھا کہ ایٹم کے اندر ایٹم جیسے ہوکس بنے ہوئے ہیں۔ اور وہ جب ایک دوسرے کے ساتھ جوڑ جاتے ہیں اس سے ایٹمز ایک دوسرے کے ساتھ جوڑ جاتے ہیں۔ آج ہمیں پتہ ہے کہ ایٹم کی کوئی ہوکس نہیں ہوتے۔ ان میں مختلف قسم کے بونڈز (bonds) ہوتے ہیں جیسے ایونک بونڈ (Ionic bond)، covalent اور metallic وغیرہ۔
مگر تصور کتنا مذیدار ہے کہ کسی آلے کے بغیر ڈیموکریٹس بتا رہا ہے کہ ایٹم کس طرح جوڑتے اقر ٹوٹتے کس طرح ہیں اور مختلف شکلیں اور خصوصیات کیا ہیں۔

– انسان کی روح
ڈیموکریٹس کا خیال تھا کہ انسان کی روح جو ہے وہ بھی ایٹم سے بنی ہے جب انسان مر جاتا ہے تو اس کا کہنا تھا کہ جو ہماری روح کی ایٹمز ہیں وہ مرنے کے بعد پھیل جاتے ہیں اور کسی اور روح کا حصہ بن جاتے ہیں۔
اسی طرح ڈیموکریٹس کا خیال تھا کہ جب ہم چیزوں کو دیکھتے ہیں کہ جس طرح ایمپیڈکُلیز نے کہا تھا کہ ہماری آنکھوں سے شعاعیں نکلتی ہیں لیکن اس کا یہ خیال تھا کہ ایسا نہیں ہے۔
ڈیموکریٹس کا کہنا تھا کہ یہ دراصل ہم چاند کی طرف دیکھتے ہیں تو چاند کے جو ایٹمز ہیں وہ ہمارے انکھوں کے اندر آتے ہیں۔ اس طرح ہم ان کو دیکھ سکتے ہیں۔
یعنی چاند کے ایٹمز ہیں، روح کے ایٹمز ہیں اور ہر قسم کے ایٹمز ہیں۔
ایک ایٹم اور دوسرے ایٹم کے درمیان خلاء ہے وہ خلاء جس کے بارے میں پرمینڈیز کہتا تھا کہ وہ وجود نہیں رکھتا اسی طرح دنیا کا جو مادہ ہے جو ہر طرف پھیلا ہوا ہے وہ بنیادی طور پر Internal Indestructible ایٹم سے بنا ہوا ہے اور ان کے درمیان صرف خلاء ہے۔

نیز ڈیموکریٹس کی اس پوری تھیری میں دیوتاؤں کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔ یعنی اس کے مطابق دنیا ایٹمز سے بنی ہوئی ہے اور ایٹم سے چل رہی ہے اس لئے ہم کہتے ہیں کہ ڈیموکریٹس جو ہے وہ ایک Materialist ہے۔

اس کے علاوہ ڈیموکریٹس نے اپنی Atomic Theory کی بنیاد پر ایک پورا فلسفہ کھڑا کیا، علم کا فلسفہ، metaphysics کا فلسفہ، epistemology کا فلسفہ۔

– علمیات (Epistemology)
ڈیموکریٹس کا خیال تھا کہ دو قسم کے علوم ہیں؛
1) اللیجٹمیٹ علم (Illegitimate Knowledge)
2) لیجیٹمیٹ علم (Legitimate Knowledge)

1) اللیجٹمیٹ علم (Illegitimate Knowledge)
یہ علم کا وہ اپروچ ہے کہ جو ہم اپنی حس سے دیکھتے ہیں، سنتے ہیں یا چھو کر محسوس کرکے ہمارے ذہنوں تک پہنچتی ہے اور یہ کبھی سو فیصد درست نہیں ہو سکتی۔

2) لیجیٹمیٹ علم (Legitimate Knowledge)
ان معلومات کو درست کرنے کے لئے ہم نے اس کو Inductive logic process سے گزرنا ہوگا، ہمیں دیکھنا ہوگا کہ ایک معلومات جو ہے وہ دوسرے معلومات کو conflict تو نہیں کرتا اور ان دونوں میں سے کون سی معلومات درست ہیں اور اس طرح اس کو process کرکے جو ہم معلومات حاصل کرتے ہیں جس کو inductive logic کے ذریعے گزار کے جو علم ہم حاصل کرتے ہیں وہی صرف Legitimate علم ہے اور وہی صرف درست علم ہے۔

– نیچرل میکینزم (Natural Mechanism)
ڈیموکریٹس کی جو ایٹامک تھیری تھی اس میں ایک natural mechanism ہے، ایک قدرتی نظام ہے، جو کہ دنیا کو چلا رہا ہے اس میں کسی ایسے ذہن کی ضرورت نہیں کہ وہ اس کو حکم دے اس کو تبدیل کرے، وہ اس کو اگے لے کے جائیں یا پیچھے لے کے جائیں، پس یہ کائنات ایک مشین کی طرح ہے۔
اخر میں یہ کہ ڈیموکریٹس وہ پہلا فرد تھا کہ جس نے milky way کو اخذ کیا اور اس نے تصور دیا کہ یہ تمام milky way جو ہیں یہ دور ستارے ہیں، دور سورج ہیں، مختلف سورج ہیں جو کہ ہم سے انتہائی دور ہیں۔
ڈیموکریٹس کی سب سے دلچسپ بات یہ تھی کہ وہ تاریخ میں پہلا ریکارڈیڈ شخص ہے کہ جس نے یہ پیش کیا کہ کائنات کے اندر کئی دنیا ہیں اور کوئی ایسی دنیا بھی ضرور ہوگی کہ جہاں ذہانت کی زندگی ہوگی کہ جہاں اور قسم کے لوگ اور قسم کی جانور بستے ہوں گے۔
سائنس fiction آج بھی اس پر فلمیں بناتی ہیں کہ جہاں ایلین ہیں، کسی اور دنیا پر، یہ تصور ڈیموکریٹس نے دیا۔

سوچنے کی بات ہے کہ یہ کس طرح ممکن ہے کہ آج سے 25، 26 سو سال پہلے ایک بندہ جو ہے وہ اٹامک تھیری پیش کرتا ہے، وہ ایٹامک تھیری تو نہیں جو آج کی ہیں مگر ایک قسم کی اٹامک تھیری تو ہے مکمل طور پر درست نہیں مگر اپنی بنیاد میں تا درست ہے۔
اگر اس کی منطق کی طرف ہم دیکھے تو ہمیں یہ نظر آتا ہے کہ ہراکلائٹس اور پرمینیڈیز کے درمیان جو بحث ہے کہ تبدیلی ہو رہی ہے یا نہیں ہو رہی ہے اگر ہو رہی ہے تو being اور non being کی interaction سے ہو رہی ہے اور اگر نہیں ہو رہی ہے تو یہ انٹریکشن ناممکن ہے کیونکہ non being ہے ہی نہیں لیکن ڈیموکریٹس یہ کہتا ہے کہ وہ non being ہے، یعنی خلاء ہے اگر خلاء ہے تو جو مادہ ہمیں نظر اتا ہے اس کا جو سب سے چھوٹا ذرا ہے ان کے درمیان خلاء ضرور موجود ہیں۔ اسی طرح اس نے یہ نتیجہ اخذ کیا کہ تمام مادہ جو ہے وہ چھوٹے چھوٹے ذروں سے بنا ہوا ہے۔ جس کو اس نے نام دیا ایٹم۔
بہرحال ڈیموکریٹس کی یہ تھیری واقعاً حیران کن ہے کہ بغیر کسی آلے، بغیر کسی مادے کے حوالے سے بنیادی علم کے، صرف اور صرف منطق کی بنیاد پر وہ اس نتیجے پر پہنچا کہ دنیا ایٹم سے بنی ہوئی ہے۔

لیکچرر: ڈاکٹر تیمور رحمان
تحریر و ترتیب: میثم عباس علیزی


بشکریہ
https://www.facebook.com/groups/1876886402541884/permalink/3746577268906112

Related Articles

4 Comments

Back to top button
تفکر ڈاٹ کام
situs judi online terpercaya idn poker AgenCuan merupakan salah satu situs slot gacor uang asli yang menggunakan deposit via ovo 10 ribu, untuk link daftar bisa klik http://faculty.washington.edu/sburden/avm/slot-dana/