#تیری_دیوانی_از_سحرعلی #قسط_17 اس بات کو چار دن…

#قسط_17
اس بات کو چار دن ہو گئے تھے گھر کا ماحول بہت خراب ہو گیا تھا۔۔ احمد صاحب اور زاویار کے درمیان بھی خاموشی تھی۔۔ یہ سب دیکھ کر شہناز بیگم کا دل کٹ جاتا۔۔
زرتاشہ بھی زاویار کے ہوتے ہوئے کم ہی کمرے میں جاتی۔۔ نجانے اصل وجہ کوئی شرمندگی تھی یا کچھ اور۔۔ مگر زاویار کی لاپرواہی سے وہ اندر ہی اندر کٹ رہی تھی۔
وہ کمرے میں داخل ہوئی تو زاویار بیڈ پر بیٹھا سگریٹ پھونک رہا تھا۔۔
وہ کچھ پل کے لیے وہیں رک گئی اور زاویار کو بغور دیکھتی رہی۔
اس نے بھی پل بھر کے لیے اس کی طرف دیکھا پھر نظروں کا زاویہ بدل لیا۔
زرتاشہ کچھ شرمندگی ہوئی۔۔ پھر کمرے میں موجود صوفے پر ٹک گئی۔۔ اس کی نظر اب بھی زاویار پر تھی۔۔
زار آپ پھر سگریٹ پی رہے ہیں۔۔ میرے سے وعدہ کیا تھا۔۔ آپ وعدہ خلافی کر رہے ہیں۔۔ وہ یہ سب اسے کہنا چاہتی تھی۔۔ مگر کہہ نہ سکی۔۔
میں کیسے منع کروں آپ کو۔۔ کس حق سے؟ خود ہی تو اپنے ہر حق سے دستبردار ہوئی ہوں۔۔ وہ اپنے دونوں ہاتھوں کی ہتھیلیوں کو آپس میں رگڑتے ہوئے سوچنے لگی۔
اس کی ایک ایک حرکت پر زاویار کی نظر تھی۔۔ وہ اسکی ذہنی کیفیت سمجھ سکتا تھا۔۔ وہ جانتا تھا زرتاشہ اس وقت کیا سوچ رہی ہے۔۔ وہ کیا کہنا چاہتی ہے۔۔ مگر نہ تو اس نے سگریٹ پینا بند کی اور نہ کچھ بولا۔۔ کمرے میں گہری خاموشی کا راج تھا۔۔
زرتاشہ کی آنکھوں کی جلن میں اضافہ ہوتا جا رہا تھا۔۔ بار بار آنکھوں میں پانی آ رہا تھا مگر وہ اسے باہر آنے نہ دیتی۔
کمرے میں سگریٹ اور اس کے پرفیوم کی مہک پھیلی ہوئی تھی۔۔ جیسے جیسے کمرے میں سگریٹ کی سمیل میں اضافہ ہوا زرتاشہ نے ایک التجا بھری نظر اس پر ڈالی۔۔ پھر اپنی ہتھیلی کی پشت سے آنکھوں کو رگڑا۔
زاویار نے ہاتھ میں پکڑا سگریٹ بجھایا اور خاموشی سے اٹھ کر کمرے سے منسلک سٹڈی میں چلا گیا۔
وہ اسے جاتا دیکھتی رہی۔۔ پھر اٹھ کر شیشے کے سامنے کھڑی ہو گئی۔۔ خود پر گہری نگاہ ڈالی۔۔
تاشہ ہم جیسا گمان کرتے ہیں ہمیں ویسا ہی ملتا ہے۔۔ اگر تم یہ سب سوچتی رہی تو۔۔۔ زاویار کی کہی گئی بات اس کے کانوں میں گونجی۔
زار۔۔ ن نہیں۔۔ آپ مجھ سے دور نہیں ہو سکتے۔۔
ہاہاہا اس کے اندر کوئی ہنسا۔۔ وہ دور ہو چکا ہے۔۔ اور خود تم نے ہی کیا ہے۔
نہیں۔۔ اس نے اپنے کانوں پہ ہاتھ رکھ لیا۔۔
زار۔۔ میری وجہ سے۔۔ بابا نے آپ کو۔۔ یہ میں نے کیا کر دیا۔۔ وہ اپنے بالوں کو ہاتھوں میں جکڑے چلائی۔۔۔
آنکھوں سے آنسو بہنے لگے۔۔
دیکھو چندا۔۔ اگر تم انہیں ان کا حق نہیں دو گی تو۔۔ اگلے ہی پل مومنہ کی باتیں ذہن میں گردش کرنے لگیں۔۔ اس کے آنسو تھم گئے۔
اس نے ہاتھ مار کر ڈریسنگ ٹیبل پر پڑی ہر چیز نیچے پٹخ دی۔۔ نہیں۔۔ نہیں وہ ایسا نہیں کر سکتے۔۔ وہ چلائی۔۔ زاویار شور سن کر سٹڈی سے نکلا۔۔ وہ اپنے بالوں کو ہاتھوں میں جکڑے دیوانوں کی سی کیفیت میں سامنے کھڑی تھی زاویار اسے اس حال میں دیکھ کر حیران رہ گیا۔
زرتاشہ۔۔ کڑک دار آواز اس کو اپنے عقب سے سنائی دی۔۔ لمحہ ضائع کیے بنا پلٹی اور اسے دیکھنے لگی۔
زاویار اس کے قریب پہنچا۔۔ کیا کر رہی ہو یہ۔۔ کندھوں سے تھام کر بےلچک انداز میں استفسار کرنے لگا۔
زرتاشہ نے ایک نظر اس پر ڈالی۔۔ پھر اس کے ہاتھ اپنے شانوں سے ہٹائے اور موڑ کر آئینے میں نظر آتے اپنے عکس پر ڈالی۔۔ وہ ابھی بھی اپنے بالوں کو مظبوطی سے جکڑے کھڑی تھی۔۔ دوپٹہ پیروں میں پڑا تھا۔۔ اور ڈریسنگ ٹیبل پر پڑی چیزیں بھی زمین پر جگہ جگہ بکھری ہوئی تھیں۔۔ کچھ پل لگے اسے سب کچھ سمجھنے میں۔۔ اگلے ہی پل اس نے زمین پر پڑا اپنا دوپٹہ اٹھایا اور اس کے ساتھ سے گزر کر اپنی جگہ پر لیٹ گئی۔۔ زاویار کچھ پل کھڑا یہ سب دیکھتا رہا۔۔ زرتاشہ کی یہ حالت دیکھ کر اس کے دل کو سخت تکلیف ہوئی۔۔ مگر وہ اس کے پاس نہ گیا۔۔ وہ اسے کچھ وقت کے لیے اس کے حال پر چھوڑنا چاہتا تھا۔۔ زرتاشہ کو خود اپنی ذہنی کیفیت کو سمجھنے کا وقت دینا چاہتا تھا۔۔ وہ جانتا اگر اس وقت وہ تھوڑا سا بھی نرم پڑ گیا تو وہ کبھی اس وہم سے باہر نہیں آئے گی۔۔ اس لیے خاموشی سے زمین پر بکھری چیزیں اٹھا کر واپس رکھیں اور اپنی جگہ پر لیٹ گیا۔
۞۞۞۞
احمد صاحب کرسی سے ٹیک لگائے آنکھیں موندے بیٹھے تھے جب زاویار ہلکی سی دستک دے کر ان کے آفس میں داخل ہوا۔۔ انہوں نے آنکھیں کھول دیں۔۔ سامنے اسے کھڑے دیکھا تو سیدھے ہو کر بیٹھ گئے۔
بابا آپ نے بلایا؟
ہمم۔۔ بیٹھو۔۔
وہ خاموشی سے کرسی پر ٹک گیا۔
میں سب سچ جاننا چاہتا ہوں۔۔ انہوں نے بغیر تمہید باندھنے اپنا مدعا بیان کیا۔
سچ۔۔ کیا آپ کو بھی لگتا ہے میں۔۔۔ وہ بات مکمل کیے بنا انہیں دیکھنے لگا۔
احمد صاحب کچھ پل خاموش رہے۔۔ نہیں۔۔ مگر ڈرتا ہوں انجانے میں اس بچی کے ساتھ کوئی زیادتی نہ ہو جائے۔۔ روز قیامت میں اپنے بھائی کو کیا جواب دوں گا؟
میں اس بات کا کیا مطلب سمجھوں؟ آپ کو مجھ پہ یقین ہے یا نہیں؟
میں اس تھپڑ کی اصل وجہ جاننا چاہتا ہوں۔۔ زرتاشہ نے جو کہا وہ سچ نہیں ہے۔۔ مگر۔۔ احمد صاحب نے اس کی بات کا جواب دیے بنا کہا۔
آپ "مگر” کہہ کے مجھے شرمندہ کر رہے ہیں۔۔ زاویار نے دھیمے لہجے میں کہا۔
زاویار مجھے اس دن تمہارے پہ ہاتھ نہیں اٹھانا چاہیے تھا۔۔ مگر تھپڑ کا سن کر میں۔۔ انہوں نے نظریں جھکا لیں۔
کمرے میں خاموشی چھا گئی۔۔ اس نے مجھ پر الزام لگایا تھا۔۔ مگر شاید مجھے اس بات کا بھی اتنا دکھ نہیں ہوا۔۔ کیونکہ میں اس کی ذہنی کیفیت سے اچھی طرح واقف ہوں۔۔ مگر اس نے مجھ سے طلاق کا مطالبہ کیا تو مجھ سے برداشت نہ ہوا۔۔ اور۔۔ زاویار نے سب ان کے گوشگزار کر دیا۔
اب تم نے کیا سوچا ہے۔۔ یہ سب کب تک چلے گا؟ کچھ توقف کے بعد احمد صاحب نے پوچھا۔
کچھ وقت کے لیے میں اسے اس کے حال پر چھوڑنا چاہتا ہوں۔۔ میں چاہتا ہوں اسے خود اپنی غلطی کا احساس ہو۔۔ اور شاید اب تک احساس تو اسے ہو گیا ہے۔۔ مگر کچھ کہتی نہیں ہے۔۔ اور میں چاہتا ہوں اس بار وہ خود آئے میرے پاس۔۔ کچھ توقف کے بعد بولا بابا وہ اب تک اس چیز سے باہر نہیں نکلی۔۔ وہ چاچو اور چاچی کی موت کی زمہ دار خود کو سمجھتی ہے۔۔ اور اب مجھے کھونے سے ڈرتی ہے۔۔ میں اس کا یہ ڈر ختم کرنا چاہتا ہوں۔
تو بیٹا اسے پیار سے سمجھاؤ شاید وہ سمجھ جائے۔
سمجھا کے دیکھ لیا ہے بابا جان۔۔ مگر وہ کچھ دیر کے لیے سمجھتی ہے اور بعد میں پھر اسی مقام پر کھڑی ہو جاتی ہے۔۔ زاویار کے لہجے میں تھکاوٹ تھی۔۔ جسے احمد صاحب نے محسوس کر لیا۔
ہمت سے کام لو۔۔ اللہ سب ٹھیک کر دے گا۔۔ انہوں نے اسے تسلی دی۔
ان شاءاللہ۔۔
بابا۔۔ آپ ماما سے بھی ابھی کوئی بات مت کریے گا۔۔ وہ ماں ہیں میری۔۔ میں نہیں چاہتا ان کے دل میں زرا برابر بھی زرتاشہ کے بارے میں غلط خیال آئے۔۔ آخر کونسی ماں برداشت کر سکتی ہے کہ اس کی اولاد کو ایسے برا بھلا کہا جائے۔۔ بے شک وہ زرتاشہ سے بہت محبت کرتی ہیں۔۔ مگر نجانے کیوں دل میں ایک خوف سا ہے۔
ہمم۔۔ سچ کہتے ہو تم۔۔ کبھی کبھی ایک پل نہیں لگتا اپنے جان سے پیارے لوگوں کے بارے میں غلط رائے قائم کرنے میں۔۔ انہوں نے کھوئے کھوئے انداز میں کہا۔
زاویار کے چہرے پر پھیکی سی مسکراہٹ نمودار ہوئی۔۔ میں دبئی جا رہا ہوں کچھ دن کے لیے۔۔ امید ہے میری واپسی تک سب ٹھیک ہو جائے گا۔۔ آپ خیال رکھیے گا اس کا۔۔ اور مجھے خبر دیتے رہیے گا۔
ٹھیک ہے بیٹا۔۔ اللہ تمہاری ہر مشکل آسان کرے۔۔
آمین۔۔
اچھا زاویار گھر جاتے ہوئے رانیہ کے گھر کا چکر لگا لینا۔۔ دیکھنا ان لوگوں کسی چیز کی ضرورت نہ ہو۔
زاویار انہیں دیکھ کر مسکرایا۔۔ بتاؤں گا آپ کی بہو کو جس کی وجہ سے اس نے یہ سب ڈرامہ کیا تمہارے سسر پھر مجھے ادھر ہی بھیج رہے ہیں۔
احمد صاحب بھی اس کی بات پر ہنسنے لگے۔
۞۞۞۞
وہ مومنہ کے پاس بیٹھی اس کے موبائل پر تصویریں دیکھ رہی تھی کہ اس کی نظر تصویر میں مومنہ کے ساتھ کھڑی لڑکی پر پڑی۔۔۔ اسے وہ کچھ جانی پہچانی لگی۔
بھابھی یہ کون ہے؟ اس نے موبائل ان کی طرف کیا۔
یہ۔۔ رانیہ ہے۔۔ رانیہ۔۔ اسے اچانک یاد آیا۔۔ وہ ہی مال میں جو ملی تھی وہ ہی رانیہ اس نے سوچا۔
آپ کیسے جانتی ہیں اسے؟ اس نے اگلا سوال کیا۔
یہ آفس میں کام کرتی ہے۔۔ میں تابش کے ساتھ گئی تھی کسی فنکشن پہ وہیں ملی تھی مجھے۔۔ بہت اچھی لڑکی ہے۔۔ پچھلے دنوں بیچاری کا بہت برا ایکسیڈنٹ ہوا اور۔۔ پیرالائز ہو گئی۔۔ مومنہ نے افسوس سے بتایا۔
اوہ۔۔۔ اسے بھی یہ سن کر دکھ ہوا۔
تمہیں زاویار بھائی نے نہیں بتایا؟ چار پانچ دن پہلے کی ہی تو بات ہے۔۔ جب بڑی ماما وغیرہ اسلام آباد گئے ہوئے تھے۔۔ تابش بتا رہے تھے بہت برا ایکسیڈنٹ تھا۔۔ ڈاکٹرز کو تو امید بھی نہیں تھی بچنے کی۔
مجھے لگا تمہیں پتہ ہو گا۔۔ کیونکہ تابش تو گھر آگئے تھے رات کو زاویار بھائی ادھر ہاسپٹل میں ہی رکے تھے۔۔ اصل میں اس کا کوئی بھائی بھی نہیں ہے اور والد کی بھی ڈیتھ ہو گئی بس تین بہنیں اور ماں ہیں۔
ج جی۔۔۔ ہاں وہ بتا رہے تھے۔۔ میں نے دھیان سے سنا نہیں۔۔ زرتاشہ نے بات بنائی۔۔ اس کا ذہن کہیں اور بھٹک گیا تھا۔۔ اس دن کا سارا واقعہ ذہن کے پردے پر چھا گیا۔
تاشہ تم کب سمجھو گی۔۔ اس دن میں نے تمہیں کتنا سمجھایا تھا اور تمہیں اثر نہیں ہوا۔۔ کچھ تو خیال رکھا کرو زاویار بھائی کب گھر آتے ہیں کب جاتے ہیں کیا پرابلمز چل رہی ہیں ان کے ساتھ۔۔ بیوی ہو تم ان کی مگر تمہیں کوئی ہوش ہی نہیں۔۔ انہوں نے اسے اچھا خاصہ ڈانٹ دیا۔ مگر وہ سن ہی کہاں رہی تھی۔
اچھا سنو میں تو تابش کے ساتھ گئی تھی ان کے گھر۔۔ تم بھی چلی جانا زاویار بھائی کے ساتھ۔۔ ہمارا فرض بنتا ہے بیمار کی تیمارداری کے لیے جانا۔ اس نے کوئی جواب نہ دیا تو مومنہ نے اسے غور سے دیکھا۔۔ وہ اس وقت خود تو یہاں موجود تھی مگر ذہن کہیں اور تھا۔
زرتاشہ۔۔ مومنہ نے اسے ہلایا۔۔ کیا ہوا ہے کیا سوچ رہی ہو؟ مومنہ کو پریشانی نے گھیر لیا۔
ج جی۔۔ کیا؟ اس نے سوالیہ نظروں سے مومنہ کو دیکھا۔
میں تم سے کہہ رہی ہوں کہ ان کی طرف ہو آنا۔۔ مگر تم میری بات ہی نہیں سن رہی۔ نظریں اب تک زرتاشہ کے چہرے پر تھیں۔۔ وہ کچھ بھی سمجھ نہ سکی۔۔
زرتاشہ تم جواب کیوں نہیں دے رہی؟
جی۔۔۔ جی چلی جاؤں گی۔۔ مختصر جواب دیا اور سوچنے لگی۔۔ یہ۔۔ یہ میں نے کیا کر دیا۔۔ زاویار۔۔۔
تم اتنی پریشان کیوں لگ رہی ہو کیا بات ہے؟
کچھ نہیں بھابھی۔۔ اس نے ایک دم خود کو نارمل کیا۔ پھر موبائل وہیں رکھا اور کھڑی ہو گئی۔۔ بھابھی میں گھر جا رہی ہوں۔۔
کیا ہوا تاشہ۔۔ کچھ برا لگا؟ انہوں نے گھبرا کر پوچھا۔
نہیں نہیں۔۔ ایک کام یاد آگیا۔۔ وہ کہتی ہوئی چلی گئی۔
مومنہ اسے جاتا دیکھتی رہ گئیں۔
گھر جا کر وہ جلے پیر کی بلی بنی اپنے کمرے میں چکر کاٹنے لگی۔۔
وہ مجھے معاف نہیں کریں گے۔۔
میں نے الزام لگایا ہے۔۔۔ سوچوں نے ایسا حملہ کیا کی دماغ گھوم گیا۔۔
زاویار۔۔ اس نے پکارا۔
یہ کیا کر دیا میں نے۔۔ میں نے اپنے ہاتھوں سے اپنی زندگی برباد کر دی۔۔ انہیں کتنی تکلیف دی ہے۔
وہ چلتی ہوئی اسی جگہ پر کھڑی ہو گئی جدھر کھڑے ہو کر اس نے زاویار پر الزام لگایا تھا۔۔
زار۔۔ زار۔۔ مجھے ماریں۔۔ وہ یوں بات کر رہی تھی جیسے وہ اس کے سامنے کھڑا ہو۔
زاویار۔۔ آپ مجھ سے نارض ہیں۔۔ ہاں ناراض ہیں۔۔ اچھی بات ہے۔۔ میں ہوں ہی اسی قابل۔۔ میں نے خود ہی آپ کو اپنے سے دور کر دیا۔
دور کر دیا۔۔ وہ بڑبڑائی۔۔ پھر اپنے خالی ہاتھوں کو دیکھنے لگی۔۔ یہ۔۔ یہ میں نے کیا کیا۔ کہتے ہی انہیں ہاتھوں سے اپنا چہرہ پیٹنے لگی۔۔ جب تھک گئی تو وہیں بیٹھ گئی۔
میں کیسے سامنا کروں گی آپ کا۔۔ یہ یہ میں نے کیا۔۔ کردیا۔
زاویار مجھے معاف کر دیں۔۔ میں آپ سے کیسے معافی مانگوں۔۔ اگر آپ نے مجھے معاف نہ کیا تو۔۔ گھبراہٹ سے برا حال تھا۔۔ کافی وقت گزر گیا۔۔ مگر اسے کچھ سمجھ نہ آیا۔۔ جیسے ہی اس کے آنے کا وقت ہوا تو وہ کمرے سے نکل گئی۔۔ وہ اس کا سامنا کرنے کی ہمت نہیں رکھتی تھی۔
وہ گھر آیا مگر زرتاشہ اس کے سامنے نہ آئی۔۔ وہ کسی اور سے بات بھی نہ کر سکتی تھی۔۔ کس منہ سے وہ شہناز بیگم کو بتائے کہ یہ سب اس کی غلط فہمی تھی۔۔ وہ زاویار کے ساتھ ساتھ شہناز بیگم اور احمد صاحب کی بھی مجرم تھی۔۔ وہ اپنی ہی نظروں میں گر گئی۔۔ اوپر سے زاویار کی یہ لاپرواہی اسے اندر سے ختم کر رہی تھی رات کافی بیت گئی۔۔ جب اسے یقین ہو گیا زاویار سو گیا ہو گا تو دبے پاؤں کمرے میں گئی اور اپنی جگہ پر جا کے لیٹ گئی۔۔ نیند آنکھوں سے کوسوں دور تھی۔۔ وہ بار بار کروٹ بدلنے لگی۔
کیا بےچینی ہے۔۔ سکون سے سو جاؤ اور مجھے بھی سونے دو۔۔ زاویار کی رعب دار آواز اسے سنائی دی تو وہ جیسے تھی ویسے ہی ٹک گئی۔۔ اپنی جگہ سے ہلنے کی ہمت نہ رہی۔۔ آنکھوں سے پانی بہنے لگا۔۔ ساری رات سوچ سوچ کر گزر گئی۔۔ صبح اذان کی آواز پر اٹھ کر نماز پڑھی۔۔ اتنی دیر میں زاویار بھی نماز کے لیے اٹھ گیا۔۔ جائے نماز پہ بیٹھی زرتاشہ کا دل کانپنے لگا۔۔ وہ اس کا سامنا کرنے سے خوفزدہ تھی۔۔ زاویار وضو کرنے واش روم گیا تو وہ جلدی جلدی دعا مانگ کر اپنے بستر پر لیٹ گئی اور آنکھیں بند کر لیں۔۔ وہ اس وقت کبوتر بنی ہوئی تھی جو بلی کو اپنے سامنے دیکھ کر آنکھیں بند کر لیتا ہے۔۔ اسے بھی یوں محسوس ہو رہا تھا اگر وہ زاویار کے سامنے آئی تو شرمندگی سے ہی ختم ہو جائے گی۔۔ کچھ دیر گزری تو اس کی آنکھ لگ گئی۔
زاویار اپنی روٹین کے مطابق تیار ہو کر چلا گیا اس نے زرتاشہ کو اٹھانا چھوڑ دیا تھا۔۔ نہ اسے یونیورسٹی جانے کو کہتا اور نہ کوئی اور بات کرتا۔۔ زرتاشہ کے لیے یہ سب برداشت کرنا مشکل ہوتا جا رہا تھا۔۔ اسے اپنی غلطی کا احساس تو پہلے ہی ہو گیا تھا۔۔ کہ ایک بار پوچھنا چاہیے تھا زاویار سے مگر اس نے تو آتے ہی الزام لگا دیا۔۔ مگر دوسرے ہی پل اسے شیطان بہکا دیتا اور وہ اپنی غلطی ماننے سے انکاری ہو جاتی۔
مگر اب مومنہ سے جو کچھ سن کر آئی تھی اس کے بعد وہ اپنی ہی نظروں میں گر گئی تھی۔۔ دل چاہا خود کو ہی ختم کر لے۔
دوپہر ہو گئی مگر زرتاشہ اپنے کمرے سے نہ نکلی تو شہناز بیگم اسے اٹھانے کے لیے کمرے میں گئیں۔۔ اسے جگانے کے لیے ہاتھ لگایا تو وہ بخار میں تپ رہی تھی۔
زرتاشہ۔۔ اف تمہیں تو اتنا تیز بخار ہے۔۔ بیٹا آنکھیں کھولو۔۔ زاویار کو زرا ہوش نہیں ہے۔۔ وہ بڑبڑانے لگیں۔۔ انہیں زاویار کی لاپرواہی پر غصہ آنے لگا۔
زرتاشہ۔۔ بچے آنکھیں کھولو۔۔ انہوں نے اسے ہلایا تو اس نے آنکھیں کھول کر انہیں دیکھا۔
بیٹا اٹھو ہمت کرو میں ڈاکٹر کو بلواتی ہوں۔۔
ماما۔۔ میں ٹھیک ہوں۔۔
حد کرتی ہو۔۔ کہاں ٹھیک ہو اتنا تیز بخار ہے۔۔ وہ اسے کہتے ہی باہر گئیں اور ڈاکٹر کو کال کر کے بلوا لیا۔
ڈاکٹر چیک اپ کے بعد دوائیں اور ہدایات دے کر چلا گیا۔۔ اس کے جانے کے بعد شہناز بیگم نے اسے تھوڑا سا کھلا کر دوائیں دیں اور اس کے پاس بیٹھ گئیں۔۔
کچھ دیر گزری تو اس کا بخار کچھ کم ہوا۔۔ شہناز بیگم اس کے بالوں میں ہاتھ پھیرنے لگیں۔
بیٹا کیوں اتنا سٹریس لیتی ہو تم۔۔ پتہ بھی ہے پہلے بھی ایک بار تم اس وجہ سے کتنی تکلیف سے گزری ہو۔۔ اللہ پہ چھوڑ دو سب ٹھیک ہو جائے گا۔
زرتاشہ نے کوئی جواب نہ دیا۔۔ بس خاموش موتی اس کی آنکھوں سے ٹوٹ کر تکیے میں جزب ہونے لگے۔
زرتاشہ۔۔ بیٹا رو تو نہیں۔۔ میں جانتی ہوں ایک عورت کہ لیے یہ سہنا کتنا مشکل ہے مگر بیٹا۔۔ ہمت کرو۔۔۔ وہ کچھ دیر کے لیے خاموش ہوئیں۔
ایک بات کہوں مانو گی؟
جی ماما۔۔ بولیں۔
بیٹا۔۔ پتہ نہیں مجھے کیوں لگتا ہے شاید تمہیں کوئی غلط فہمی ہوئی ہے۔۔ میرا بیٹا ایسی گری ہوئی حرکت نہیں کر سکتا۔۔ شاید ماں ہوں اس لیے سیلفش ہو رہی ہوں۔۔ تم بھی کہتی ہو گی تمہارے سے محبت کے دعوے کرنے والی اب کیسے بیٹے کی ماں بن گئی ہیں۔۔ انہوں نے خود ہی اپنے اوپر طنز کیا۔
نہیں ماما پلیز ایسے کہہ کے مجھے شرمندہ مت کریں۔۔ اس نے تڑپ کر ان کے ہاتھ پر اپنا ہاتھ رکھا۔
بیٹا ایک بار تم اور زاویار بیٹھ کر بات کر کے دیکھو۔۔ کچھ تو کلیئر ہو گا۔۔ میرا دل کہتا ہے ایسا کچھ نہیں ہو گا۔۔ میرا دل کٹتا ہے تم دونوں کو ایسے دیکھ کر۔۔ میں ماں ہوں ناں اس لیے برداشت نہیں ہوتا۔۔ شہناز بیگم کی باتیں اسے مزید شرمندگی کے گہرے سمندر میں دھکیلتی جا رہی تھیں۔۔ اس نے کوشش کی کہ وہ انہیں کہہ دے۔۔ ہاں ماما زاویار ایسے نہیں ہیں۔۔ میں نے ان پر الزام لگایا ہے۔۔ وہ بہت پاک ہیں۔۔ گناہگار تو میں ہوں جو ان پر شک کیا۔۔ مگر وہ کچھ بھی کہہ نا پائی۔۔ بس خاموش سے انہیں دیکھتی رہی۔۔
شہناز بیگم کو اس کی ویران آنکھیں دیکھ کر خوف محسوس ہوا۔۔ وہ ایسی تو نہیں تھی۔۔ وہ تو ہر وقت ہنسنے والی لڑکی تھی۔۔ خوش رہتی اور سب کو خوش رکھتی تھی پھر اچانک یہ سب کیا ہو گیا۔۔ وقت نے کتنے مشکل امتحان میں ڈال دیا ہے۔
تاشہ کیا سوچ رہی ہو بیٹا۔۔ میری بات کا جواب نہیں دیا تم نے۔۔ اسے سوچ میں ڈوبا دیکھ کر انہیں نے اسے پکارا۔
ج جی۔۔ جی ماما۔۔ میں کروں گی۔۔ آپ پریشان نہ ہوں۔
تھینک یو بیٹا۔۔ اللہ تمہیں ہمیشہ خوش رکھے۔۔ اچھا تم آرام کرلو میں نماز پڑھ آؤں ٹائم بہت ہو گیا ہے۔
جی ماما۔۔ میں بھی پڑھ لوں ٹائم کا پتہ ہی نہیں چلا۔۔ زرتاشہ نے کہا اور سہارا لیتی اٹھ گئی۔
چلو ٹھیک ہے پھر میں تمہارے لیے کچھ کھانے کو بھی بنا دوں۔۔ وہ کہہ کر چلی گئیں۔
جاری ہے۔۔
..


