مختصر کہانیاں

عداوت (ریاض عاقب کوہلر) قسط نمبر 7 رات کا نہ جان…

عداوت (ریاض عاقب کوہلر)
قسط نمبر 7

رات کا نہ جانے کون سا پہر تھا کہ اچانک ثوبان نے کروٹ بدلی اور لیٹے لیٹے ہی اس نے اپنا بازو پھیلایا۔اس کا بازو بستر پر پڑنے کے بجائے سیدھا نیہا پر پڑا اور وہ جاگ گیا ۔بازو کے نیچے گداز بدن کے لمس نے اسے چونکنے پر مجبور کر دیا تھا ۔مگر کمرے میں سخت اندھیرا تھا ۔ گھر میں یوپی ایس کی موجودی میں بجلی کے نہ ہونے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا تھا ۔اس نے جلدی سے اٹھ کر لائیٹ کا بٹن آن کیا اور یہ دیکھ وہ غصے سے بھر گیا تھا کہ نیہا بڑے سکون سے بیڈ پر سوئی تھی ۔
نیہا کو جھنجوڑنے کے لیے اس کا ہاتھ آگے بڑھا ،مگر اس کے چہرے پر نظر پڑتے ہی وہ رک گیا ۔اس کے چہرے پر چھائی معصومیت نے اسے حیران کر دیا تھا ۔نخوت ،حقارت ،غرور و تکبر سے مزین چہرہ اس وقت سادگی ،معصومیت اور بھول پن کا مرقع نظر آ رہا تھا ۔ایک بار اس کے جی میں آیا کہ اٹھ کر صوفے پر لیٹ جائے مگر پھر اسے نیہا کے پچھلے کرتوت یاد آئے ،اس کی بدتمیزیاں اور بد اخلاقیاں تصویر کی طرح نگاہوں کے سامنے ابھریں اور اس نے نیہا کے بازو سے پکڑ کر زور سے ہلا دیا ۔
”کک ….کیا ہے ؟“وہ متوحش ہو کر اٹھ بیٹھی تھی ۔
”یہ کیا ہے ؟“اس نے بپھر کر پوچھا ۔
”وہ ….میں ….میں نے سوچا کہ ….“نیہا کو صورت حال کا احساس ہوا تو اس سے کوئی بات نہیں بن پائی تھی ۔
”بکری کی طرح میں میں کی ضرورت نہیں،وہاں صوفے پر دفع ہو جاو۔“ ثوبان کے ہاتھ اسے بے عزت کرنے کا موقع آ گیا تھا ۔
”کیا ہوگیا اگر یہاں لیٹ گئی ہوں ،مجھے صوفے پر نیند نہیں آ رہی تھی۔“وہ ایک دم پھٹ پڑی ۔
”یہ میرا درد سر نہیں ہے۔“ثوبان نے منہ بنایا۔
”میں یہیں لیٹوں گی جاو۔“وہ اکڑ گئی ۔
”مس نیہا اکرام الحق !….تمھاری اطلاع کے لیے عرض ہے کہ تم میری قانونی اور شرعی بیوی ہو ،کچھ بھی ایسا ویسا ہونے کی صورت میں نہ تو تم عدالت کا دروازہ کھٹکھٹا سکو گی اور نہ کسی ہوتے سوتے سے شکایت کر سکو گی ۔تمھاری باتیں سن کر بس لوگوں کو ہنسنے کا بہانہ ہاتھ آئے گا کہ ایک بیوی اپنے شوہر کے حقوق کے خلاف آواز اٹھا رہی ہے ۔یہاں تو کوئی لبرل عدالت بھی تمھارا کیس لینے کو تیار نہیں ہو گی۔“
اس کی بات ایسی نہیں تھی کہ نیہا نہ ڈرتی ۔اس نے فوراََ تکیہ اٹھا یا اور صوفے کی طرف بڑھ گئی ۔”بھاڑ میں جائے تمھارا غلیظ اور بدبودار بیڈ۔“منہ ہی منہ میں بڑبڑاتی وہ صوفے پر جا کر لیٹ گئی تھی۔
اس کی تیزی دیکھتے ہوئے ثوبان کے ہونٹوں پر طنزیہ مسکراہٹ نمودار ہوئی اور نائیٹ بلب جلا کرو ہ دوبارہ سونے کے لیٹ گیا ۔اسے یقین تھا کہ وہ پھرایسی غلطی کبھی نہیں دہرائے گی ۔
آنکھیں بند کرتے ہی نیہا کے ساتھ چھونے والے بازو کواس لمس کا ذائقہ یاد آ گیا اس کے ساتھ ہی نیہا کے خوابیدہ چہرے کا منظر کسی فلم کی طرح گھومنے لگا ۔اس نے سر جھٹک کر ارم کا تصور کیا تاکہ وہ چہرہ نگاہوں سے اوجھل ہو جائے مگر اسے کامیابی نہیں ہوئی تھی۔ نیہا سے حد درجہ نفرت کے باوجود وہ اس کی دلکشی اور خو ب صورت کو نہیں جھٹلا سکتا تھا ۔اور بقیہ رات وہ سونے میں کامیاب نہ ہو سکا ۔
جبکہ نیہا اپنی بے وقوفی پر کڑھنے کی وجہ سے دوبارہ نہیں سو سکی تھی ۔بیڈ پر سوتے وقت اسے یہ خیال ہی نہیں آیا تھا،کہ غیر مرد کے ساتھ ایک ہی بیڈ پر سونے میں کیا قباحتیں پیش آ سکتی تھیں ۔اورمرد بھی ایسا جو اس سے نفرت کا دعوے دار ہو۔ایسے آدمی سے تو کچھ بعید نہ تھا اور ہر ایسی حرکت متوقع تھی جس سے اس کا چین و سکون برباد ہو جاتا ۔وہ اس صورت حال سے جان چھڑانے کی تجویز سوچنے لگی ۔اچانک اس کے ذہن میں اپنی چھوٹی بہن اقرا کی آواز ابھری ۔
”آپ ہنی مون پر کب جا رہی ہیں باجی ؟“اور ایک دم اسے اس ماحول سے جان چھڑانے کا بہانہ سوجھ گیاتھا۔
صبح کی آذان سن کر وہ اکٹھے ہی اٹھ بیٹھے تھے ۔ثوبان شروع دن سے نماز کا عادی تھا ۔ نیہا البتہ اس معاملے میں سست تھی مگر کبھی کبھار وہ بھی نماز پڑھ لیتی ۔
ثوبان نے نہا کر کپڑے بدلے اور مسجد چلا گیا ۔واپسی پر نیہا کو تلاوت کرتے دیکھ کر اسے کافی حیرت ہوئی تھی ۔لیکن کچھ بھی تھا یہ ایک اچھا کام تھا۔ اس کا طنز کرنا مناسب نہیں تھا ۔
ٹریک سوٹ پہن کر وہ بوٹ کے تسمے باندھ رہا تھا کہ اس کے کانوں میں نیہا کی آواز پڑی ۔
”ایک بات کرنا تھی تم سے ۔“وہ قرآن مجید بند کر کے کپڑے میں لپیٹنے لگی ۔
”کہو ۔“وہ اس کی جانب دیکھے بغیر مختصراََ بولا۔
”دیکھو میں اس واہیات روز وشب سے تنگ آ گئی ہوں ۔دادا جان بھی ہر وقت ہمارے پیچھے پڑے رہتے ہیں۔اکٹھے رہنا بھی ہمیں گوارا نہیں ۔میری باتیں تمھیں بری لگتی ہیں اور تمھاری بکواس سے میں تنگ پڑتی ہوں ۔تو کیوں نہ کچھ دن کے لیے کہیں چلے جائیں۔“
”کیا ….؟“وہ ششدر رہ گیا تھا ۔”کہاں چلے جائیں ؟“
”کہیں بھی ،ہنی مون کا بہانہ کر کے ماہ ڈیڑھ ماہ کہیں باہر گزار آتے ہیں ۔ دادا جان کی نگرانی سے بھی جان چھوٹے گی اور ہو سکتا وہ خوش ہو کر جائیدادا وغیرہ اپنے بیٹوں کے نام چڑھا دیں ۔اور ہم وہاں ہوٹل میں علاحدہ علاحدہ کمرہ لے کر اپنے مرضی سے گھومیں گے ،اس بہانے پاکستان کے خوب صورت علاقے بھی دیکھ لیں گے ۔“
اس کی بات نے ثوبان کو بھی سوچنے پر مجبور کر دیا تھا ۔اس نے گھڑی دیکھ کر کہا۔
”ناشتے سے ایک گھنٹا رہتا ہے ۔میں پار ک کا ایک چکر لگا کر آتا ہوں ۔ڈائننگ ٹیبل ہی پر دادا جان کو بات کریں گے ۔“شادی کے بعد یہ پہلا مکالمہ تھا جس میں انھوں نے ایک دوسرے کوکوسا نہیں تھا ۔
ورزش سے واپسی پر وہ ٹریک سوٹ ہی میں ناشتے کی ٹیبل پر بیٹھ گیا تھا کہ نہانے اور لباس بدلی کرنے کا وقت نہیں رہا ۔
”میاں !نہا تو لیتے۔“اسے پسینے میں شرابور دیکھ کر ضیاءالحق شفقت سے بولا۔
”بعدمیںنہا لوں گا دادا جان !….ابھی اگر نہانے کی کوشش کرتا تو آپ لوگوں کے ساتھ ناشتا نہ کرپاتا۔“
”تو کیا ہوا،تم دونوں اکٹھے اپنے کمرے میں ناشتا منگوا لیا کرو ۔“
دادا جان کی بات سن کر اسے نیہا کی تجویز اور زیادہ مناسب لگنے لگی ۔اس نے گلا کھنکھارکر بات کرنے کے لیے مناسب الفاظ سوچے اور پھر نپے تلے انداز میں اپنے باپ سے مخاطب ہوا ۔
”ابو جان !….آپ سے ایک بات کرنا تھی ۔“
”کہو بیٹا !“چاے کی چسکی بھرتا احسان اس کی جانب متوجہ ہوا ۔
”ابو جان !….ہم ….دونوں…. ہنی مون پر جانا چاہ رہے تھے ۔“اس نے اٹکتے اٹکتے اپنی بات پوری کی ۔
”کیا ….؟“احسان کے ساتھ فرخندہ کے منہ سے بھی حیرت بھرے انداز میں ادا ہوا۔
”ارے واہ ….“ضیاءالحق خوشی سے چہکا ۔”ٹھیک ہی تو کہہ رہے بچے ،اس میں حیران ہونے کی کیا بات ہے ۔“
”نہیں ابو جی !….میرا وہ مطلب نہیں تھا ۔میں تو ….“
”بس چھوڑو مطلب وغیرہ کو۔“ضیا ءالحق نے اسے بات پوری نہیں کرنے دی تھی ۔
”اچھا کہاں جانا ہے بیٹا؟“اس نے ثوبان سے پوچھا ۔
”چترال ۔“اس نے پہلے سے سوچی ہوئی جگہ کا نام لیا ۔
”بالکل ٹھیک ہے ۔وہاں چترال شہر میں میرا قریبی دوست شریف دین رہتا ہے، میں آج ہی اسے فون کرتا ہوں ۔“ضیا ءالحق نے فوراََ اس سے متفق ہو گیا تھا ۔
”نہیں ….نہیں دادا جان ،مجھے تو گلگت دیکھنے کا شوق ہے ۔“نیہا نے فوراََ کہا اور پھر ثوبان کو مخاطب ہو کر بولی ۔”رات تو تم نے گلگت کا وعدہ کیا تھا اب دوبارہ چترال کا ذکر لے بیٹھے۔“
ثوبان دل ہی دل میں اس کی مکاری کا معترف ہو گیا تھا ۔اس نے ایک لمحے میں بات سنبھال لی تھی ۔
”کیا میری بیٹی ٹھیک کہہ رہی ہے ثوبان !….؟“ضیاءالحق نے ثوبان سے تصدیق چاہی ۔
”جی دادا جان!….ہم نے طے تو یہی کیا تھا کہ گلگت جائیں گے ،مگر پھر میں نے سوچا کہ میں چونکہ دو تین بار جا چکا ہوں تو ….خیر کوئی بات نہیں چترال پھر کبھی چلے جائیں گے۔ فی الحال نیہا کا مشورہ مان لیتے ہیں۔“
”تو پھر طے ہو گیا ہے نا ؟“ضیاءالحق نے بچوں کی سی خوشی سے پوچھا ۔
”جی دادا جان !“ثوبان نے اثبات میں سر ہلادیا ۔
”احسان بیٹا !…. ہنی مون ٹرپ کے اخراجات کے لیے میری طرف سے پانچ لاکھ روپے ثوبان کے اکاونٹ میںمنتقل کرا دو۔“
”یہ بھلا کیا بات ہوئی داداجان!“نیہا فوراََ معترض ہوئی ۔”آپ چاہتے ہیں میں بس شوہر کی محتاج بنی رہوں کہ کب مجھے کچھ خرید کر دیتے ہیں ۔اورمنت زاری کے بعد بھی کچھ لے کر دیں گے تو ان پیسوں سے جن پر میرا بھی حق ہوگا ۔“
”ہاں بات تو پتے کی کی ہے میری گڑیا نے ۔“ضیاءالحق کو اس چرب زبان سے متفق ہوتے ہی بنی تھی ۔”ٹھیک ہے پھر یوں ہے احسان بیٹا کہ تم تین لاکھ نیہا کے اکاونٹ میں اور تین لاکھ ثوبان کے اکاو¿نٹ میں منتقل کرا دو ۔“
”جی ابو جان !“احسان نے بحث کرنا مناسب نہیں سمجھا تھا ۔یوں بھی ثوبان اسے آنکھ مار کر اشارہ کر چکا تھا کہ اصل معاملہ کچھ اور ہے ۔
”اچھا بھئی !….میں تو چلا چہل قدمی کے لیے ۔“ضیاءالحق روزانہ ناشتے کے بعد ہی پارک کا چکر لگانے جاتا تھا ۔ا س کے اٹھتے ہی نیہا بھی اپنے کمرے کی طرف بڑھ گئی ۔
”یہ کیا ڈراما ہے برخوردار!“نیہا کے جاتے ہی احسان نے پوچھا ۔فرخندہ بھی بیٹے کی طرف متوجہ ہو گئی ۔
”کیسا ڈراما ابوجان!….جان عذاب میں آ گئی ہے اس ڈائن کے ساتھ ۔نہ اسے کسی کا ادب لحاظ ہے اور نہ اس میں اخلاق کا مادہ ہے ۔چرب زبان اتنی ہے کہ آپ نے ملاحظہ کر لیا ہوگا اور پھر داداجان بھی مسلسل اس کوشش میں ہیں کہ ہم اچھے میاں بیوی بن جائیں ،ان کی ہر وقت کی نگرانی سے بچنے کے لیے ہمیں یہی طریقہ سوجھا کہ کچھ عرصے کے لیے گھر سے دور چلے جائیں ۔وہاں کچھ دن سکون سے سانس لینے کا موقع تو ملے گا نا اور اس سے دادا جان بھی خوش ہوں گے ہو سکتا اس دوران وہ زمین جائیداد آپ لوگوں کے نام منتقل کرنے پر تیار ہو جائیں ۔بس یہی سوچا ہے ۔اور دیکھ لیں دادا جان کس قدر خوش دکھائی دے رہے ہیں ۔“
”ہونہہ!….“احسان نے تفہیمی انداز میں سر ہلایا۔
فرخندہ نے پھیکی مسکراہٹ سے کہا ۔”میں تو ڈر ہی گئی تھی ۔“
”کیوں امی جان !….آپ تو کہتی تھیں بہت خوب صورت اور دلکش لڑکی ہے تو پھر ڈرنا کیسا،کہیں اس نے آپ کے ساتھ کوئی بدتمیزی تو نہیں کی ؟“
”اگر بدتمیزی صرف زبانی کلامی بد اخلاقی کا نام ہے تو وہ ایسا کچھ نہیں ہے ۔البتہ اس کا رویہ اور انداز ایسا ہے کہ زبا ن سے کچھ کہنے کی ضرورت ہی نہیں پڑتی ۔ ناشتے پر آ کر کبھی جھوٹے منہ بھی سلام نہیں کیا۔ابھی کی بات لے لویہاں سے اٹھ کر گئی ہے اور مجھے چھوڑو کیا اپنے سگے تایا ہی سے اجازت مانگی ہے اس نے جانے کی ۔کل دوپہرکواپنے لیے چاے بنا رہی تھی، میں نے سمجھاملازما ہے ۔میں نے ملازما کو پکارنے کے لیے جانے کتنی آوازیں دیں کہ ایک پیالی چاے کی بنا دے مگر چاے بنانا تو درکنار اس نے صرف جواب دینا ہی گوارا نہ کیا کہ ملازما وہاں موجود نہیں ہے ۔“
”صحیح کہا بیگم !….میرے قریب سے بھی یونھی گزر جاتی ہے کبھی جھوٹے منہ بھی اسلام علیکم نہیں کہا ۔“
”یہ اتنی بڑی بات نہیں ہے ؟“ثوبان نے پھیکی مسکراہٹ سے کہا ۔”اگر آپ اس کا میرے ساتھ برتاو دیکھ لیں تو پتا چلے میں کس عذاب سے گزر رہا ہوں ۔“
”اچھا دفع کرو بیٹا !….کچھ دنوں کی بات ہے ،چھوٹ جائے گی جان ۔“فرخندہ بیگم کھڑے ہو کر میز سے برتن اکٹھے کرنے لگی کہ ملازما کمروں کی صفائی میں مصروف تھی ۔
”اچھا میں آفس جا رہا ہوں اور بیٹا محترما کا اکاونٹ نمبر مجھے میسج کر دینا ۔“احسان اپنے بیٹے کے ذمہ ناپسندیدہ کام لگا کر رخصت ہو گیا ۔نیہا سے اکاو¿نٹ نمبر پوچھنا اس کے لیے کارے دار تھا۔وہ اٹھ کر اپنے کمرے کی جانب بڑھ گیا ۔نیہا بیڈ پر لیٹی تھی ۔اس نے ایک کاغذ پر اپنے والد کا موبائل فون نمبر لکھ کر اس کے سامنے رکھا اور کہا ۔
”یہ ابوجان کا موبائل فون نمبر ہے….اس پر اپنا اکاونٹ نمبر ٹیکسٹ کر دو ۔اور اپنا نام بھی ساتھ لکھ دینا کہ ان کے پاس تمھارا نمبر نہیں ہو گا ۔“یہ کہہ کر وہ غسل خانے میں گھس گیا ۔ جبکہ نیہا بے دلی سے تایا کو اکاونٹ نمبر میسج کرنے لگی ۔
٭٭٭
ضیاءالحق گھر سے نکل کر پارک کی طرف بڑھ گیا ۔پارک اس کی کوٹھی سے ڈیڑھ دو کلومیٹر دور تھا ۔پارک میں جا کر وہ درخت کے سائے میں گڑی سنگی بینچ پر بیٹھ گیا ۔اکتوبر کی شروعات ہوچکی تھی اس کے باوجود سایا اچھا لگ رہا تھا ۔ موبائل فون نکال کراس نے کسی کا نمبر ڈھونڈا اور کال ملانے لگا ۔
”اسلام علیکم !….چودھر ی صاحب !“یقینادوسری جانب موجود شخص کے پاس بھی اس کا نمبر محفوظ تھا۔
”شہباز شاہ!…. کیسے ہو ؟“
”بالکل ٹھیک ٹھاک چودھری جی !….آپ سنائیں اور کیسے یاد فرمالیا؟“
وہ ہنسا ۔”بس بھائی جب کام پڑ جائے تو یاد تو آ ہی جایا کرتی ہے۔“
”اللہ پاک کرے آپ کو ہمیشہ کام پڑتا رہے ۔“شہباز دعائیہ انداز میں بولا۔
”اب بد دعائیں تو نہ دو بھئی !….کسی سے کام پڑنا کوئی اچھی بات تو نہیں ہوتی۔“
”میرے لیے تو ہے چودھر ی جی !….بہ ہرحال حکم کریں ؟“
”آج کل کہاں ہوتے ہو ؟“
”وہیں جہاں آپ نے چھوڑا تھا ۔“شہباز شاہ عقیدت سے بولا۔
”واہ !….مسئلہ ہی حل ہو گیا ….ایسا ہے کہ دو تین دنوں تک میرا پوتا اور پوتی گلگت آ رہے ہیں آپ نے …………“وہ اسے تفصیل بتانے لگا ۔
اس کی بات ختم ہوتے ہی شہباز شاہ اطمینان سے بولا ۔”آپ فکر ہی نہ کریں چودھری صاحب !….میں سب سنبھال لوں گا ۔“اور اس نے شکر یہ ،جزاک اللہ کہتے ہوئے رابطہ منقطع کر دیا ۔
شہباز شاہ سے اس کی ملاقات چند سال پہلے اپنے ایک دوست کی وساطت سے ہوئی تھی ۔شہباز شاہ کو اپنا کاروبار ڈوبنے سے بچانے کے لیے رقم کی اشد ضرورت تھی ۔اس سلسلے میں اس نے اپنے قریبی دوستوں سے رابطہ کیااور پھر ضیاءالحق اور اپنے ایک مشترکہ دوست کی وساطت سے وہ ضیاءالحق سے ملا ۔اپنے دوست کی گواہی اور شہباز شاہ کے چہرے سے ہویدا راست بازی ،ضیاءالحق کو رقم ادھار دینے پر آمادہ کر گئی ۔اس کے بعد وعدے کے مطابق شہباز شاہ نے اس کی رقم لوٹا دی تھی۔ مگر اس کے ساتھ ضیاءالحق کے حلقہ احباب میں ایک مخلص دوست کا اضافہ بھی ہو گیا تھا ۔ اس کی دعوت پر وہ ایک مرتبہ اس کے پاس گلگت بھی چکر لگا چکا تھا ۔ناشتے کی میز پر ثوبان کا چترال ذکر کرنا اور پھر چترال میں اس کے دوست کی موجودی کا سنتے ہی نیہا کا گلگت جانے کا شوق ظاہر کرنے پر اسے اندازہ لگانے میں دیر نہیں لگی تھی کہ اس کے پوتا پوتی کا مقصد ہنی مون منانا ہرگز نہیں تھا ۔اس نے انھیں گلگت کے بارے حتمی فیصلہ کرنے دیا اور فی الحال اپنے دوست کی بابت انھیں کچھ بتانے سے پرہیز کیا کہ وہ یہ سب انھیں بالکل آخری وقت بتانا چاہتا تھا۔
٭٭٭
دو روز بعد وہ جانے کے لیے تیار تھے ۔ثوبان اپنی نئی فور ڈور ٹویوٹا ہی ساتھ لے جا رہا تھا ۔سامان گاڑی میں رکھ کر وہ ناشتا کرنے بیٹھ گئے ۔
ضیاءالحق نے کہا ۔”ثوبان بیٹا !….نیہا کا خاص خیال رکھنا ۔کسی پہاڑی علاقے میں جانے کا اس کا پہلا موقع ہے ۔“
”جی دادا جان !“ثوبان فرماں برداری سے بولا۔
”اور اپنا موبائل فون نکال کر ذرا یہ نمبر نوٹ کر و۔“
”جی بتائیں ؟“ثوبان نے اپنا موبائل فون ہاتھ میں پکڑ لیا ۔
ضیاءالحق نے شہباز شاہ کا نمبر نوٹ کرا کرکہا ۔”یہ میرے قریبی دوست کا نمبر ہے ۔ اسے اپنے باپ یا دادا کی جگہ سمجھنا ۔میں نے اسے تمھارے بارے بتا دیا ہے ۔یہ گلگت میں تمھارا منتظر ہوگا۔تم لوگوں نے اسی کے ہاں ٹھہرنا ہو گا ۔گلگت جاتے ہی اسے اپنی آمد کا بتا دینا۔“
دادا جان کی بات ختم ہوتے ہی ثوبان نے گہرا سانس لے کر ان کی بات کو ہضم کرنے کی کوشش کی ۔نیہا کا بھی منہ بن گیا تھا مگر اس وقت وہ اس کا متبادل سوچنے کی پوزیشن میں نہیں تھے ۔
”جی دادا جان !“طوعن و کرہن اسے کہنا پڑا۔
گاڑی میں بیٹھتے ہی وہ طنزیہ انداز میں بولا۔”ہونہہ!….گلگت۔“
وہ ترکی بہ ترکی بولی ۔”تو چترال میں کون سا تم سے جان چھوٹ جاتی۔“
”ویسے کسی نے تمھیں بتایا ہے کہ تمھاری زبان بہت چلتی ہے ۔“گاڑی آگے بڑھاتے ہی ثوبان نے کہا ۔
”اگر کسی نے تمھیں یہ بتایا ہوتا کہ تم ایک نالائق اور بے عقل شخص ہو تو مجھے بھی ضرور بتاد یتا۔“
”تم بہت چالاک و مکار ہو نا ،پھر بولتی کیوں بند ہوگئی تھی؟“
”اگر تم میں ذرا سی بھی عقل ہوتی تو تمھاری سمجھ میں آتا کہ میں جس جگہ کا بھی نام لیتی۔ دادا جان وہاں کوئی نہ کوئی جاننے والا پیدا کر لیتے اور یہی وجہ تھی کہ اس نے گلگت میں اپنے جاننے والے کا کوئی ذکر نہیں کیا تھا ۔“
”ہاں۔“ثوبان نے اثبات میں سر ہلاتے ہوئے تلخی بھرے لہجے میں کہا ۔” کیوں کہ انھیں اس شادی پر شک ہے اور اس کی وجہ ہو تم ….صرف تم ۔جب ایک بار معاہدہ ہوگیا تھا کہ یہ شادی عارضی ہے، طلاق کا اختیار بھی تمھیں تفویض ہو گیا ،پھر دادا جان کے سامنے گھٹیا طریقے سے اظہار ِنفرت کی کیا تُک ہے ؟“
”نفرت کے قابل تو تم ہو ،مگر دادا جان کے سامنے میں نے کب ایسا کچھ کیا ہے ؟“
”اس دن اگر میں نے گجرے پہنا دیے تھے تو واپسی پر انھیں اتار کر پھینکنے کی کیا ضرورت تھی ؟“
”ضرورت تھی اور گجرے ایک رات پہنے جاتے ہیں سال بھر نہیں ۔“
”ٹھیک ہے۔ لیکن کچرے کی ٹوکری میں نہیں پھینکے جاتے ۔“
”ا بتدا تمھاری جانب سے ہوئی ۔کیا تم منہ دکھائی کے لیے کوئی تحفہ نہیں لا سکتے تھے ؟ علاحدگی ہوتے ہی میں بے شک میں تمھارے منہ پر مار کر جاتی ۔“
”منہ دکھائی انھیں دی جاتی ہے جن کا منہ اس قابل ہو۔“
”آ گئے اپنی اصلیت پر،پھر مجھ سے تعاون کی توقع کس لیے،؟جبکہ میرے دل میں تم سے درجہا بڑھ کر تمھاری نفرت بھری ہے ۔“
”میں نے کہا ہے کہ نفرت نہ کرتیں۔“وہ غضب ناک ہوتا ہوا بولا۔”میں نے صرف یہ کہا ہے کہ داداجان کے سامنے اپنی گھٹیا حرکتوںسے باز آ جاتیں۔میری منہ دکھائی کی تمھیں ضرورت نہیں تھی پھر دکھ کا اظہار کس لیے؟….داداجان کے سامنے مجھے نیچا دکھانے کی کیا ضرورت تھی ۔کہہ دیتیں کنگن دیے ہیں،اگر وہ پہننے پر اصرار کرتے تو تمھیں لا دیتا۔“
”تم میں اتنا ظرف اور غیرت ہوتی تو یوں ایک کمزور لڑکی کو صوفے پر نہ سلاتے ؟“
”باری باری سوتے ہیں صوفے پر اور بند کمرے میںداداجان جھانک تو نہیں رہے ہوتے، تم داداجان کی غیر موجودی میں جومرضی آئے کرتیں۔“
”میرا دل تو تمھیں قتل کرنے کو کرتا ہے پھر ؟“
”خودکشی کا اچھا طریقہ ہے۔“
”پھنّے خان!….“نیہا نے طنزیہ لہجے میں کہا ۔
”اچھا اب اپنی کائیں کائیں بند کرو یہ نہ ہو تمھیںپبلک ٹرانسپورٹ میں گلگت پہنچنا پڑے۔“
”تم بھی اپنی ڈھینچوں ڈھینچوں پر قابو رکھو ۔“وہ کہاں ڈرنے والی تھی ۔”اور پبلک ٹرانسپورٹ سے سفر کرتی ہے میری جوتی ۔میں ضیاءالحق کی پوتی اور اکرام الحق کی بیٹی ہوں۔“
”یہ گاڑی میری ہے ۔“
”داداجان نے لے کر دی ہے ؟“
”تو مجھے لے کردی ہے نا ،جیسے تمھیں کنگن دیے ہیں اور میں چاہوں تولات مار کر تمھیں باہر پھینک سکتاہوں ۔“
”اگر فٹ پاتھ پر آنے کا زیادہ ہی شوق ہے تو کوشش کر کے دیکھ لو ،میں داداجان کے پاس جا کرسب کچھ بتادوں گی ۔“
”اور وہ تمھیں انعام و کرام دے کر ہمیں گھر سے باہر نکال دیں گے ہے نا ۔احمق عورت فٹ پاتھ پر آئیں گے تو دونوں خاندان آئیں گے ۔“
”جی ….اور شکل و صورت دیکھ کر مجھے پھر بھی کہیں نہ کہیں جاب مل جائے گی تمھیں تو کسی نے چپڑاسی کی جگہ بھی نہیں رکھنا ۔“
”بھول ہے تمھاری ،میں کھلاڑی ہوں،کھیل کے میدان میں لاکھوں کما سکتا ہوں۔“
نیہا کے منہ سے بے ساختہ قہقہہ ابل پڑا ۔اسے ثوبان کا وہ ٹورنامنٹ یاد آگیا تھا جس میں اس نے اسے عباس کے ہاتھوںپیچس آور دوائی کھلائی تھی ۔
ثوبان نے اسے غصے سے گھورا مگر اس کا غصہ ایک دم استعجاب میں ڈھل گیا۔” کیا کوئی لڑکی ہنستے ہوئے اتنی بھلی بھی لگ سکتی ہے ؟“ایک عجیب سی سوچ اس کے دماغ میں پیدا ہوئی ۔اسے معلوم تھا کہ وہ کیوں ہنس رہی ہے ۔وہ ٹورنامنٹ اسے بھی تو نہیں بھولا تھا ،مگر جانے کیوں اس کا ہنسااسے برا نہیں لگا تھا ۔وہ سر جھٹک کر سامنے کی طرف متوجہ ہو گیا ۔وہ موٹر وے پر چڑھنے لگے تھے ۔
ثوبان کی طرف سے کوئی جواب نہ ملنے پر اس کی ہنسی تھم گئی تھی ۔وہ موبائل فون نکال کر کوئی گیم کھیلنے لگی ۔
ثوبان کا موبائل فون بجا ۔وہ ارم کی کال تھی ۔ہینڈ فری لگا کر اس نے کال اٹینڈ کر لی ۔
”جی ؟“
”کہاں ہو تم ؟“ثوبان نے اسے اس سفر سے لاعلم رکھا تھا ۔
”میں راولپنڈی جا رہا ہوں ،موٹر وے پر ہوں ۔“
”کیوں ،خیریت؟“
”بالکل خیریت ،بس سیر سپاٹے کو دل کر رہا تھا ،راولپنڈی سے گلگت جاو¿ں گا ،وہاں سے سکردو ….شاید کے ٹو کے بیس تک چلا جاو¿ں۔“
”اکیلے ہو ؟“
”سمجھو اکیلا ہی ہوں۔“
”اپنی بیوی کو گھر چھوڑ کر جا رہے ہو ؟“
”کاش ایسا ممکن ہوتا۔“اس نے حسرت بھرے لہجے میں جواب دیا ۔
ارم نے بپھر کر پوچھا ۔”تو کیا وہ ساتھ ہے ؟“
”ہاں ۔“اس نے اعتراف کیا۔
”تو یوں کہو نا ،ہنی مون ٹرپ پر جا رہے ہو اور اس سے نفرت بس مجھے دکھانے کے لیے کرتے ہو ،ورنہ حقیقت وہی ہے جو مجھے نیہا نے بتائی تھی کہ تم اسے بہت چاہتے ہو۔“
وہ ہنسا ۔”اچھا لطیفہ ہے۔“
”پھراس ہنی مون کی کیا توجیہہ کرو گے ؟“
”میں اس کے ساتھ اکٹھے رہتا رہتا تنگ آ گیا ہوں اور اس سے دور رہنے کا یہی طریقہ تھا کہ ہم گھر سے دور ہو جاتے ،ہنی مون وغیرہ کوئی نہیں ہے ۔“
”واہ ….بہت اعلا قسم ہے یہ تو دوری کی۔ثوبان خدا کے لیے مجھے بے وقوف بنانا بند کرو سمجھے ۔“اس نے رابطہ منقطع کر دیا ۔
”ہیلو بات سنو….“اس نے ایک دو بار پکارا مگر وہ رابطہ منقطع کر چکی تھی ۔
اس کی گفتگو سے نیہا جان گئی تھی کہ دوسری جانب کون ہوسکتا ہے ۔اس نے فوراََارم کا نمبر ڈائل کر دیا ۔وہ جو ثوبان کی کال کی توقع کر رہی تھی اس نے بغیر دیکھے اٹینڈنگ بٹن آ ن کر دیا ۔
”ارے ارم ….میری جان کیسی ہو ؟“اس نے ہنستے ہوئے پوچھا ۔
”تم ….؟“ارم حیران رہ گئی تھی ۔
”ہاں نا ،تم ابھی ثوبی ڈئیر سے بات کر رہی تھیں اور وہ مجھے آنکھ مار کے ہنس رہے تھے۔ تم بھی بہت بھولی ہو ارم۔“
نیہا کی بات سن کر ثوبان دھاڑا ۔”شٹ اپ !….جھوٹی ۔“مگراس کی بات ارم کے کانوں تک نہیں پہنچ سکی تھی کہ ارم رابطہ منقطع کر چکی تھی ۔
”رابطہ ہی منقطع کر دیا “وہ ثوبان کے غصے کی پروا نہ کرتے ہوئے دوبارہ گیم کھیلنے لگی ۔
ثوبان نے ارم کو کال ملانے کی کوشش کی مگر وہ اٹینڈ نہیں کر رہی تھی ۔
نیہا ہنسی ۔”اتنی جلدی تو راضی نہیں ہو نے والی ،بے چاری ارم۔“
”واہیات عورت ۔“ثوبان دانت پیستے ہوئے بولا۔
”میں بتاو¿ں گی اسے کہ تم پیٹھ پیچھے اسے واہیات کہتے ہو۔“یہ کہہ کر وہ دوبارہ زور زور سے ہنسنے لگی تھی ۔
اس کی ہنسی ثوبان کو زہر لگنی چاہیے تھی ،مگر عجیب بات تھی کہ اس پر اس کے بر عکس اثر ہو رہاتھا۔ذہن بٹانے کے لیے وہ احمر کا نمبر ڈائل کر کے اس سے گپ شپ کرنے لگا ۔یہاں تک کہ احمر ہی نے تھک کر اسے خدا حافظ کہا ۔وہ خاموشی سے باہر کے مناظر میں کھوئی ہوئی تھی ۔ راستے میں ایک ہوٹل کو دیکھ کر اس نے گاڑی روڈ سے اتار لی ۔دو تین مسافر بسیں بے ترتیبی سے کھڑی تھیں ۔کچھ مسافر بسوں کے ارد گرد بکھر چہل قدمی کے انداز میں ٹہل رہے تھے اور کچھ سر سبز گھاس پر لیٹ کر خود کو دوبارہ تکلیف دہ سفر کے لیے تیار کر رہے تھے ۔جبکہ زیادہ تر کھانے پینے کو جڑے تھے ۔
”دس پندرہ منٹ رکیں گے ۔“کہہ کر وہ نیچے اتر گیا ۔اس کارخ وہاں بنے مردانہ بیت الخلا کی طرف تھا ۔نیہا خاموشی سے دائیں بائیں پھرتے لوگوں کو دیکھنے لگی ۔ثوبان کے بیت الخلا میں داخل ہوتے ہی وہ بھی نیچے اترکر زنانہ بیت الخلا کی طرف بڑھ گئی تازہ دم ہو کر وہ بسکٹ اور کافی کا ڈسپوزایبل کپ لے کر گاڑی میں آن بیٹھی۔ثوبان نے اسے بسکٹ اور کافی لیتے دیکھ لیا تھا۔وہ وہیں بیٹھ کر اپنے لیے کھانے کا بتانے لگا ۔
٭٭٭
د و بجے وہ راولپنڈی پہنچ گئے تھے ۔مگر وہاں رکنے کے بجائے ثوبان آگے نکلتا گیا ۔ نیہا کو خاموش بیٹھے بیٹھے اونگھ آگئی تھی ۔حسن ابدال پہنچ کر اس نے ڈیزل ڈلوانے کے لیے گاڑی کو روکا ۔گاڑی رکنے پر نیہا بھی جاگ گئی تھی ۔نیچے اتر کر وہ بیت الخلا کی طرف بڑھ گئی ۔ثوبان نے پٹرول پمپ کے لڑکے کو پیسوں کی ادائی کر کے گاڑی آگے بڑھا کر ایک طرف روکی اور نیچے اتر کر منہ ہاتھ دھونے لگا ۔مسلسل ڈرائیونگ بھی انسان کو تھکا دیتی ہے ۔وہ جانتا تھا کہ نیہا ڈرائیونگ کر لیتی ہے مگر اسے نیہا کی مدد لینا کسی طور بھی گوارا نہیں تھا۔ہاتھ منہ دھو کر اس نے گاڑی میں بیٹھنے سے پہلے پٹرول پمپ کے سامنے موجود چاے کے ہوٹل والے کو ایک پیالی چاے لانے کا اشارہ کیا ۔ نیہا جب تک تازہ د م ہو کر آتی لڑکا چاے لا چکا تھا ۔اسے دعوت دیے بغیر وہ چاے پینے لگا ۔وہ لڑکے کو بولی ۔”چھوٹے ایک پیالی چاے کی میرے لیے بھی لے آو¿۔“
”جی بیگم صاحب!….“کہہ کر وہ ہوٹل کی طرف مڑ گیا ۔اور چند لمحے بعد ہی چاے کی پیالی کے سا تھ حاضر ہو گیا ۔
ان کی شان دار گاڑی کو دیکھ کر ہوٹل والے نے نسبتاََ اچھی پیالیوں میں چاے بھیجی تھی۔
ثوبان نے جیب سے سو کا نوٹ نکال کر بچے کے حوالے کرتے ہوئے کہا ۔”بقایا تمھاری ٹپ ہو گئی ۔“
”مہربانی سر!“اس نے ممنونیت سے کہا۔
نیہا نے اپنا کپ خالی کر کے اس کے حوالے کیا اور ساتھ ہی اپنے شولڈر بیگ سے پانسو روپے بھی نکال کر اسے دیتے ہوئے کہا۔”سو روپے سے چاے کے کپ کے پیسے ہوٹل کے مالک کو دے کر تمھاے لیے کیا بچے گا ؟۔یہ لوکچھ اپنے لیے خرید لینا۔“
”شکریہ بیگم صاحب !….اللہ آپ کو خوش رکھے۔“وہ خوش ہو گیا تھا ۔
”آمین !….اور میرے دشمن یونھی ناکام و نامراد رہیں ۔“
”آمین ۔“لڑکا خشوع و خضوع سے بولا تھا ۔
ثوبان نے خاموشی سے گاڑی آ گے بڑھا دی ۔اس کی بھونڈی حرکتوں کے جواب میںوہ اپنا منہ گندا نہیں کر سکتا تھا۔
نیہا اپنی ماں کوکال کرنے لگی ۔اپنی خیرت سے آگاہ کرنے کے بعد وہ اسے کہنے لگی ۔ ”ماں جی !….ابوجان کو کہیں کہ داداجان کو جلد از جلد جائیداد کی منتقلی پر راضی کریں ۔ہمارے ہنی مون پر جانے کی انھیں بہت خوشی ہے اور ابھی اچھا موقع ہے ۔آپ مجھے اس جہنم سے چھٹکارا دلا سکتے ہیں ۔“
”اب تمھارے ابو خود سے یہ کہنے سے تو رہے ۔“
”ماں جی !….وہ اپنے نام نہاد بھائی کو بھی تو ساتھ ملا سکتے ہیں نا ،بلکہ دونوں بھائی دادا جان کے کسی دوست کو مل کر اس کے ذریعے سے داداجان تک یہ بات پہنچا دیں کہ داداجان کو اپنی زندگی ہی میں اپنی جائیداداپنے دونوں بیٹوں کے نام کر دینا چاہیے ۔اس طرح ان کے انتقال کے بعد دونوں بھائیوں میں زمین جائیداد کا کوئی تنازعہ بھی کھڑا نہیں ہو گا ۔“
شاہینہ نے ہنستے ہوئے کہا ۔”ٹھیک ہے دادی جان !….بتا دوں گی ۔“
”امی جان !….اس میں ہنسنے کی کیا بات ہے ؟“وہ خفا ہونے لگی ۔
”اچھا ٹھیک ہے نہیں ہنستی ۔ تم نے اپنے ابو جان کے دوست سے بات تو کر لی ہو گی، بس تم ایبٹ آباد اتر جانا اور جب وہ منحوس گلگت سے لوٹے گا تو تمھیں یہیں سے اٹھا لے گا۔“
”اس کی ضرورت ہی باقی نہیں رہی ۔“
”کیا مطلب ضرورت باقی نہیں رہی ؟“شاہینہ بیگم نے حیرانی سے پوچھا ۔
”وہ ایسے ماں جی !….کہ آج گھر سے نکلنے سے پہلے دادا جان نے اپنے گلگت کے ایک دوست کا نمبر ہمارے حوالے کر دیا تھا کہ جہاں ہم نے ٹھہرنا ہے ۔اس لیے اب مجھے بھی گلگت ہی جانا پڑے گا ۔آپ ابو جان کو کہہ دیں کہ اپنے دوست کو اس بارے مطلع کر دے ۔“
”تم نے مجھے پہلے کیوں نہیں بتایا۔“شاہینہ پریشان ہو گئی تھی ۔
”کہا تو ہے صبح گھر سے نکلتے وقت داداجان نے یہ بات بتلائی ہے ۔اور پریشان نہ ہونا امی جان !…. کچھ نہیں ہوتا،چلو اس بہانے گلگت بھی دیکھ لوں گی۔“
”اچھا آج زاہد بھی آیا تھا۔“زاہد اس کا خالہ زاد تھا اور امریکا میں جاب کرتا تھا ۔
”ارے وہ بدھو امریکہ سے کب لوٹا ؟“
”دودن ہو گئے ہیں۔“
”تو پہلے کیوں نہیں آیا ،اس سے ملاقات ہی ہو جاتی۔“
”واپسی پر ہو جائے گی،اب تو مستقل لوٹ آیا ہے۔جس کمپنی میں وہ جاب کرتا ہے وہ پاکستان میں بھی اپنی ایک شاخ کھول رہی ہے ۔“
”پھر تو بہت بڑی دعوت بنتی ہے امی جان !….زاہد کو کہو تیار رہے۔“
”ہاں وہ وعدہ کر کے گیا ہے کہ تمھاری واپسی پر بہت بڑی دعوت کرے گا ۔“
”اس کی گوری میم صاحبہ کیسی ہیں ؟“
”چند ماہ ہوئے طلاق ہو گئی ہے ۔“
” کیوں ،طلاق کیسے ہو گئی ؟“وہ حیران رہ گئی تھی ۔
”واپسی پر خود اسی سے پوچھ لینا۔“
”وہ تو میں ضرور پوچھوں گی ۔“
”ویسے وہ طلاق کی بابت پہلے بتا دیتا تو میں دادا جان کے کہنے سے پہلے تمھاری نسبت اس کے ساتھ طے کر دیتی ۔“
وہ ہنسی ۔”اچھا رشتا ڈھونڈا ہے ،اب یہ بدھو ہی رہ گیا ہے میرے لیے۔“
”اچھا ہے نا ،ہمیشہ تابعداری کرے گا ۔اور میرے خیال میں ثوبان سے بہتر ہی ہوگا۔“
اس نے نخوت سے کہا ۔”اس سے تو چوھڑا چمار بھی بہتر ہو گا۔“
”تو بس ٹھیک ہے ،تمھاری خالہ سے میں ابھی سے بات کر لیتی ہوں ۔“
”اچھا ماں جی !….بعد میں بات ہو گی۔“اسے اپنی شادی کی بات کرنا اچھا نہیں لگ رہا تھا ۔وہ بھی ایسی حالت میں کہ پہلو میں دشمن بیٹھا ہوا تھا ۔رابطہ منقطع کر کے وہ باہر کا نظارہ کرنے لگی ۔وہ ہری پور عبور کر آئے تھے ۔موسم میں واضح تبدیلی محسوس ہو رہی تھی ۔
اس کی بات چیت سے ثوبان کو اندازہ لگانے میں دیر نہیں لگی تھی کہ وہ پہلے کہیں رستے میں اترنے کا پروگرام بنائے ہوئے تھی ۔مگر دادا جان کی مداخلت سے اس کا یہ منصوبہ ناکام ہو گیا تھا ۔اگر داداجان کا گلگت کا دوست نہ ٹپکتا تو اس کا منصوبہ قابل عمل تھا ۔ثوبان کی بھی اس سے جان چھوٹی رہتی ۔قسمت ان کے ساتھ عجیب مذاق کر رہی تھی ۔وہ جتنا دور ہونے کی کوشش کرتے اتنا ہی نزدیک آنے کے بہانے پیدا ہوتے جاتے ۔اس بات کا تو ثوبان کو بھی معترف ہونا پڑا کہ وہ ثوبان سے زیادہ اس سے دور ہونے کی کوششوں میں مصروف تھی۔وہ نیہا کے خالہ زاد زاہد کو بھی جانتا تھا ۔اچھا خاصا ہینڈ سم لڑکا تھا بس تھوڑا بے وقوف تھا ۔بچپن میں وہ ایک دو بار ثوبان سے پٹ بھی چکا تھا ۔
ایبٹ آباد کا خوب صورت پہاڑی سلسلہ شروع ہوا اور نیہا اس روح پرور نظارے میں کھو گئی ۔کسی پہاڑی علاقے میں آنے کا اس کا پہلا موقع تھا ۔وہ سوچنے لگی کہ اگر ثوبان ساتھ نہ ہوتا تو یہ سفر اس کی زندگی کا سب سے سہانا سفر ثابت ہوتا ۔اب تو سفر کی ساری رنگینیوں پر ثوبان کی منحوس پرچھائیں چھائی ہوئی تھی ۔
ایبٹ آباد کے اونچے نیچے بازار سے گزرتے وقت اس نے گاڑی کی رفتا مدہم رکھی تھی ۔وہ جانتا تھا کہ یہ تما م علاقے نیہا کے لیے بالکل نئے ہیں او ران دیکھے ہیںجبکہ وہ خود کئی بار وہاں آچکا تھا ۔ایسے دیکھے ہوئے علاقوں کے بارے اچھی خاصی معلومات رکھنے کے باوجو دوہ اپنی معلومات نیہا کے گوش گزار نہیں کر سکتا تھا ۔پہاڑیوں پر لکھے پاک آرمی سنٹر کے مختلف سنٹروں کے نعروں،آرمی آفیسرز کی سب سے بڑی درس گاہ پی ایم اے کاکول اکیڈمی ،الیاسی مسجد ،شملہ پہاڑی ،سربن پہاڑی ۔ان سب کے ناموں اور ان کے بارے معلومات کو وہ دل ہی دل میں دہر اکر رہ گیا ۔
نیہا اس سے بھی زیادہ بے چین تھی ان خوب صورت مقامات کے بارے جاننے کے لیے مگرثوبا ن والی مشکل اسے بھی درپیش تھی ۔پہاڑی پر لکھے لبیک اور ہوم آف پفرز کے نعروں کے بارے جاننے کے لیے اس دماغ میںبھی سوال مچلے ۔غازی یا شہید کے نعرے اس نے بھی کھوجتی نظروں سے پڑھے ۔کاکول اکیڈمی کانام اس نے بھی سن رکھا تھا ۔مگر یہ سب کچھ وہ اپنے ہم سفر سے نہ پوچھ سکی۔ بہ ظاہر تو وہ میاں بیوی کے مقدس رشتے میں بندھے تھے مگر بہ باطن ان کے درمیان نفرت کی گہری خلیج حائل تھی ۔
ثوبا ن نے ایبٹ آباد ہی میں رات گزارنے کا فیصلہ کیا ہواتھا ۔اسے گلگت پہنچنے کی اتنی جلدی بھی نہیں تھی ۔جس مصیبت سے وہ جان چھڑانے کے لیے گلگت روانہ ہوا تھا وہ گلے کے ہار کی طرح اس کے ہمراہ تھی ۔ایک خوب صورت سے ہوٹل کی پارکنگ میں گاڑی روک کر وہ نیہا کو مخاطب ہوا۔
”میں یہیں رات گزاروں گااور صبح یہا ں سے آٹھ بجے قریب روانہ ہوں گا ،باقی تمھاری مرضی ۔“
وہ کندھے اچکاتے ہوئے نیچے اتری اور ہوٹل میں داخل ہونے کے بجائے باہر کی طرف چل دی ۔البتہ چلتے ہوئے اس نے ہوٹل کانام پڑھ لیا تھا۔ثوبان اسے حیرت سے جاتے ہوئے دیکھتا رہا ۔اس انجان شہر میں وہ اکیلی کہاں جاتی ۔پھر لڑکی ذات ہونے کے ناتے اس کے ساتھ کچھ بھی الٹا سیدھا ہو سکتا تھا ۔یوں بھی اس کی شکل و صورت ایسی تھی کہ کسی کو بھی بے ایمان ہونے میں دیر نہ لگتی ۔اور کسی بھی حادثے کی صورت میں داداجان اور چچا تو کیا خود اس کا والد بھی اسے معاف نہ کرتا ۔وہ چاہے کتنی بھی قابلِ نفرت ہوتی مگر اس کی ذمہ داری تھی ۔
”بات سنو۔“دل پر جبر کر کے اس نے نیہا کو پکارا ،مگر وہ دھیان دیے بغیر چلتی رہی ۔
”نیہا !….میں تمھیں مخاطب ہوں ؟“اس مرتبہ اس نے طوعن و کرہن اس کا نام لے کر اسے آواز دی ۔
وہ حیران ہو کر پیچھے مڑی ۔مگر اس نے لب نہیں کھولے تھے ۔
چند قدم لے کر وہ اس کے قریب ہوا ۔”اسی ہوٹل میں رات گزار لو علاحدہ کمرہ لے لینا ۔“
”کیوں،میرے کسی اور ہوٹل میں ٹھہرنے پر تمھیں کیا تکلیف ؟….اور تمھیں حق کس نے دیا مجھے مشورہ دینے کا۔“
”مجھے کوئی شوق نہیں ہے تمھیں ساتھ پھرانے کا مگر اس اجنبی شہر میں ایک لڑکی کا یوں اکیلے گھومنامناسب نہیں۔“
”گو یہاں پر میں کہہ سکتی ہوں جسٹ شٹ اپ !….مگر کہوں گی نہیں ۔“نخوت بھرے لہجے میں کہہ کر دوبارہ چل دی تھی ۔
غصے کو کنٹرول کرنے کے لیے اس نے دو تین گہرے سانس لیے اور پھر واپس ہوٹل کی طرف مڑ گیا۔
(***********جاری ہے**********
اگر پوسٹ اچھی لگی تو شئیر ضرور کیجیے گا………مزید ایسی پوسٹ کے لیے ہمارا پیج لائیک کریں اور ساتھ فالو کے بٹن پر کلک کر کے سی فرسٹ آل See First All پر کلک کریں

Related Articles

جواب دیں

Back to top button
تفکر ڈاٹ کام
situs judi online terpercaya idn poker AgenCuan merupakan salah satu situs slot gacor uang asli yang menggunakan deposit via ovo 10 ribu, untuk link daftar bisa klik http://faculty.washington.edu/sburden/avm/slot-dana/