مختصر کہانیاں

قسط نمبر 19 جنت کے پتے …

قسط نمبر 19
???? جنت کے پتے ????

البتہ چوتھی سمت اس کے بلمقابل دیوار شیشے کی بنی تھی۔۔۔۔ دراصل شیشے کی اسکرین تھی۔۔۔ جو زمین سے لے کر چھت تک پھیلی تھی۔۔۔ شاید وہ چھوٹا خالی کمرہ کسی بڑے کمرے کا حصہ تھا۔۔۔ جس میں شیشے کی اسکرین لگا کر پارٹیشن کر دی گئی۔۔۔۔
اس نے ذرا غور سے اسکرین کو دیکھا۔۔۔۔ اس کا شیشہ مکمل طور پر دھندلا کر دیا گیا تھا۔۔۔ جیسے مشین پھیر کر بلائنڈ کیا جاتا ہے۔۔۔۔ اس دھندلے شیشے کے پیچھے ایک دھندلا منظر تھا۔۔۔ ہر شے اتنی مبہم اور دھندلی تھی کہ وہ بمشکل ایک خاکہ بنا پارہی تھی۔۔۔۔ یقیناََ وہ شیشہ ایک کمرے کو دو حصوں میں تقسیم کرنے کے لئے لگایا گیا تھا۔۔۔ اور اس کے پار کمرے کا باقی حصہ تھا۔۔۔ بس ایک دھندلا سا خآکہ سمجھ میں آتا تھا۔۔۔شیشے کے اس پار کوئی بڑا پر تعیش آفس تھا اور آفیس ٹیبل کے پیچھے ریوالونگ چئیر پہ کوئی بیٹھا تھا۔۔۔۔۔اس کا رخ حیا کی جانب ہی تھا۔۔۔اس کا چہرہ واضح نہ تھا۔۔۔ بس ایک دھندلی سی آوٹ لائن ہی بنتی تھی۔۔۔خاکی یونیفارم سر پہ کیپ ٹیک لگا کر کرسی پہ بیٹھا۔۔ میز پہ رکھی کوئی چیز انگلیوں میں گھماتا۔۔۔ وہ کس طرف دیکھ رہا تھا۔۔۔ وہ کوئی فیصلہ نہ کر پائی،،،،،،،،
اس کا رخ تو سامنے حیا کی جانب ہی تھا۔۔ شاید دیکھ بھی اسی کو رہا تھا۔۔۔مگر اسکی آنکھیں واضح نہ تھیں۔،۔۔۔بس ایک چیز اس آفیسر کے گندمی چہرے کے دائیں طرف والےآدھے حصے پہ ایک بدنما سی کالک۔۔ جیسے آدھا چہرہ جھلس گیا ھو۔۔۔۔
دفعتاََ وہ شخص آگے کو جھکا۔۔۔ اور میز سے کچھ اٹھا کر کان سے لگایا۔۔۔ فون کا ریسور۔۔۔
ٹرن۔۔ ٹرن۔۔۔
یک دم حیا کے سامنے میز پہ رکھا فون بجنے لگا۔۔۔۔ وہ چونکی فون مسلسل بج رہا تھا۔۔۔۔ کیا وہ شخص اسے کال کر رہا تھا؟؟؟
اس نے دھڑکتے دل سے ریسور اٹھایا اور کان کے ساتھ لگا دیا۔۔۔۔۔
ہیلو!
السلام علیکم۔۔ مس حیا سلیمان۔۔ دس از میجر اسلم۔۔۔ وہی بھاری نرم گرم سا خوبصورت لہجہ۔۔۔ وعلیکم السلام۔ وہ فون ہاتھ میں پکڑ کر کان کے ساتھ رکھے سامنے اسکرین کو دیکھ رہی تھی۔۔۔ جس کے پار آدھے جھلسے چہرے والا آفیسر فون تھامے بیٹھا تھا،۔۔۔ کیا وہی میجر احمد تھا؟؟
میں امید کرتا ہوں ہم نے آپ کو زیادہ تکلیف نہیں دی۔۔
جی اس کو گھٹن محسوس ہونے لگی تھی۔۔۔۔
میرے سامنے موجود لیپ ٹاپ پہ تمام سسٹم کھلا ھوا ھے۔۔ مجھے ایک کلک کرنا ھے اور آپ کی ویڈیو صفہ ہستی سے یوں مٹ جائے گی جیسے تھی ہی نہیں۔۔۔۔۔
دیوار کے پار اس دھندلے منظر میں بیٹھے اس آفیسر کے سامنے بھی ایک لیپ ٹاپ کھلا پڑا تھا۔۔ تو وہی میجر احمد تھا تو وہ سامنے کیوں نہیں آتا۔۔۔۔
اور شہر کے ایک ایک بندے سے میں وہ ویڈیو نکلوا چکا ہوں۔۔۔ بولیئے حیا میں کلک کروں؟؟؟
اور وہ رپورٹ؟؟؟
سمجھیں وہ ھو گئی۔۔ اسے لگا وہ مسکرایا تھا۔۔۔

جاری ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔!!!!!

Related Articles

جواب دیں

Back to top button
تفکر ڈاٹ کام
situs judi online terpercaya idn poker AgenCuan merupakan salah satu situs slot gacor uang asli yang menggunakan deposit via ovo 10 ribu, untuk link daftar bisa klik http://faculty.washington.edu/sburden/avm/slot-dana/