لچھے والا…..

وقاص شریف
لچھا لفظ تو آپ سب نے سنا ہی ہو گا بالخصوص خواتین تواس لفظ سے بخوبی واقف ہوں گی۔جولوگ لچھے سے واقف نہیں وہ یقینا بیرون ملک بڑھے اور پھولے ہوں گے۔
یہ ان دنوں کی بات ہے جب میں اسکول سے تازہ تازہ بگھوڑا ہوا۔
بے ہنرے تو ہم ہمیشہ سے ہی ٹھہرے تو آسان روزی کے حصول کیلۓ ہم نے سائیکل پرلچھے کی دوکان سجا لی۔اس سےہمارا دل بھی لگ گیا اور شام تک چار پیسے بھی اکٹھے کر لیتے تھے۔
اسکول میں ماسٹر صاحب روز بلاوجہ پٹائی کرتے تھے اور یہاں روز گلیوں کے بچے ہماری سائیکل کی گھنٹی اور ہماری آواز کا انتظار کرتے ہیں۔ لچھے نے تو ہمیں خوشحال کر دیا تھا۔
پھرایک دن لچھا بیچتے بیچتے ہمارا گزر اک عالیشان گھر کے آگے سے ہوا۔ ہم سائیکل کی گھنٹی کے ساتھ لچھا لےلو لچھا لے لو کی آواز بھی لگا رہے تھے۔ابھی اس گھر کا نظارہ کر ہی رہے تھے کہ گیٹ کا دروازہ کھلا اور ایک بہت خوبصورت چہرہ دکھائ دیا۔ عمر میں ہم سے ایک دوسال چھوٹی دکھ رہی تھی ۔ایسا لگ رہا تھا جیسے آسمان سے کوئ پری اتری ہو۔اسکی آنکھوں کی مسکراہٹ نے تو ہمیں مار ہی ڈالا،اتنے میں وہ تیزی سے ہماری طرف بڑھی اور ہمارے ہاتھوں میں پیسے تھماتے ہوۓ رعب سے بولی یہ گلابی رنگ کا لچھا دو۔ لچھے کے ساتھ وہ ہمارا دل بھی لے گئ ۔
اب ہم روز اسکی گلی سے دس بار گزرتے اور اونچی آوازیں لگاتے، لچھا لےلو،لچھا لے لو۔ وہ ظالم ہفتے میں ایک آدھ بار نظر آتی اور گلابی لچھا لے کر غائب ہو جاتی۔ ہم بھی اب صرف گلابی رنگ کا ہی لچھا بیچتے تھے۔
وہ جب بھی ہمیں دیکھتی تھی،اسکی آنکھیں اور چہرہ مسکرا رہا ہوتا تھا۔اب تو ہمیں بھی گمان ہونے لگا تھا کہ اس شہزادی کو بھی ہم سے الفت ہوگئ ہو گی۔ہم شب وروز اسکے ہاتھوں میں گلابی لچھے کے خیالوں میں محو رہتے۔
آج پھر اسکی گلی کیطرف جاتے دل سے آواز آ رہی تھی کہ وہ آج ضرور نظر آۓ گی اور محبت بھری نظروں سے ہماری طرف دیکھے گی۔
خواب سجاۓ جب ہم اسکے گھر تک پہنچے کہ اک اور لچھے والا کمبخت اسکے دروازے پر کھڑا تھا۔ ہماری سائیکل کی گھنٹی اور ہماری آواز "لچھا لے لو” دونوں خاموش ہو گئیں۔
وہ شہزادی گھر سے باہر آئ ،پرآج عجیب بات یہ تھی کہ اس کی آنکھیں اور چہرہ اس بوڑھے لچھے والے کو دیکھ کر بھی ویسے ہی مسکرا رہے جیسے مجھے دیکھ کر مسکرایا کرتی۔
اسکی نظر میں تو سب لچھے والے ایک ہی شکل کے ہیں
اصل میں اسکو لچھے سے محبت تھی۔
یعنی اسکی آنکھیں صرف گلابی لچھے کو دیکھ کر خوش ہوتی تھیں۔
ہم بھی مسکراۓ اور آواز لگائ
"لچھا لے لو لچھا لے لو”
وقاص شریف


