منتخب غزلیں
شفیق خلشؔ غَرض کسے کہ یہ سر تاجدار ہو کہ نہ ہو …

شفیق خلشؔ
غَرض کسے کہ یہ سر تاجدار ہو کہ نہ ہو
کریں گے اُن سے، اُنھیں ہم سے پیار ہو کہ نہ ہو
مچلتے رہنے کی عادت بُری ہے دِل کو مِرے
ہر اچھّی چیز پہ، کچھ اِختیار ہو کہ نہ ہو
کہیں گے مُنہ پہ، رَویّوں کا اُن کے اُن سےضرور!
نتیجہ اس کے عِوَض شاندار ہو کہ نہ ہو
… More


