منتخب غزلیں

چمکتی آنکھوں میں شوخ جذبے گلاب چہرے پہ مسکراہٹ وہ …

چمکتی آنکھوں میں شوخ جذبے
گلاب چہرے پہ مسکراہٹ
وہ ساحلوں کی ہوا سی لڑکی
جو راہ چلتی تو ایسا لگتا
کہ جیسے لہروں پہ چل رہی ہو۔
وہ اس تیقن سے بات کرتی
کہ جیسے ساری دنیا
اسی کی آنکھوں سے دیکھتی ہو
جو اپنی رستے میں دل بچھاتی ہوئی نگاہوں سے ہنس کے کہتی
“تمھارے جیسے بہت سے لوگوں سے
میں یہ باتیں بہت سے برسوں سے سن رہی ہوں۔
میں ساحلوں کی ہوا ہوں، نیلے سمندروں کے لئے بنی ہوں۔“
وہ کل ملی تو اُسی طرح تھی
چمکتی آنکھوں میں شوخ جذبے
گلاب چہرے پہ مسکراہٹ
کہ جیسے چاندی پگھل رہی ہو۔
مگر جو بولی تو
اس کے لہجے میں وہ تھکن تھی
کہ جیسے صدیوں سے دشتِ ظلمت میں جل رہی ہو۔

( امجد اسلام امجد)

انتخاب :-: ابوالحسن علی ندوی

Related Articles

Back to top button
تفکر ڈاٹ کام
situs judi online terpercaya idn poker AgenCuan merupakan salah satu situs slot gacor uang asli yang menggunakan deposit via ovo 10 ribu, untuk link daftar bisa klik http://faculty.washington.edu/sburden/avm/slot-dana/