, میں نے کچھ لوگوں کو صرف اس لیے فون کرنا شروع کیا…
جب بھی رات کے سناٹے میں ٹرین کی سیٹی گونجتی، دادا جان چارپائی سے اٹھ کر صحن میں آ بیٹھتے۔
میں بچپن میں ان کے ساتھ جا بیٹھتا۔
وہ ریل کی پٹڑیوں کی طرف دیکھتے رہتے، جیسے کسی پرانے دوست کو رخصت کر رہے ہوں۔
ایک رات میں نے پوچھا،
"دادا جان، آپ ہر بار ٹرین کو اتنی دیر تک کیوں دیکھتے رہتے ہیں؟”
وہ مسکرائے۔
"کیونکہ زندگی بھی ایسی ہی ہوتی ہے، فیضان… ایک لمبا سفر، جس میں کوئی مسافر ہمیشہ ساتھ نہیں رہتا۔”
اس وقت میں نے ان کی بات پر صرف سر ہلا دیا۔
مجھے لگا، وہ بڑھاپے کی باتیں کر رہے ہیں۔
—
وقت نے اپنی رفتار نہیں بدلی۔
میں نے بدلنا شروع کر دیا۔
پہلے اسکول ختم ہوا۔
پھر کالج۔
پھر نوکری۔
پھر شادی۔
پھر بچے۔
زندگی ہر روز مجھے کسی نئی منزل کی طرف دھکیلتی رہی۔
اور ہر منزل پر مجھے لگتا، اصل زندگی شاید اگلے اسٹیشن پر میرا انتظار کر رہی ہے۔
—
ایک دن میری بہن کی رخصتی ہوئی۔
گھر وہی تھا، دیواریں وہی تھیں، مگر آوازیں کم ہو گئی تھیں۔
امی کئی دن تک اس کا کمرہ صاف کرتی رہیں، جیسے وہ ابھی واپس آ جائے گی۔
تب پہلی بار محسوس ہوا…
کچھ لوگ مرتے نہیں، صرف اگلے اسٹیشن پر اتر جاتے ہیں۔
—
چند برس بعد ابو ریٹائر ہوئے۔
ان کی میز پر رکھا ہوا شناختی کارڈ ایک دراز میں چلا گیا۔
صبح آٹھ بجے تیار ہونے والا آدمی اب صحن میں بیٹھ کر چائے پیتا تھا۔
میں اکثر جلدی میں ہوتا۔
وہ کہتے،
"بیٹا، پانچ منٹ بیٹھ جاؤ۔”
اور میں جواب دیتا،
"ابو، واپسی پر بات کریں گے۔”
مگر زندگی میں کچھ واپسیاں کبھی نہیں آتیں۔
ایک صبح ان کی کرسی خالی تھی۔
اس دن پہلی بار سمجھ آیا کہ بعض مسافر بغیر شور کیے بھی اتر جاتے ہیں۔
—
دادا جان کی باتیں مجھے پھر یاد آنے لگیں۔
"خالی نشستوں کو مت تکتے رہنا…
دیکھنا، تمہارے ساتھ ابھی کون بیٹھا ہے۔”
میں نے پہلی بار اپنے اردگرد نظر دوڑائی۔
بیوی، جو برسوں سے میری دیر سے واپسی پر بغیر شکایت کے کھانا گرم کرتی رہی تھی۔
میرا بیٹا، جو ہر شام صرف دس منٹ میری توجہ مانگتا تھا۔
میری بیٹی، جو اپنی ہر نئی ڈرائنگ سب سے پہلے مجھے دکھانا چاہتی تھی۔
اور میری ماں…
جو اب بھی فون اٹھاتے ہی یہی پوچھتی تھیں،
"کھانا وقت پر کھا لیا؟”
میں نے محسوس کیا کہ میں اُن لوگوں کے غم میں زندہ تھا جو جا چکے تھے…
اور اُن لوگوں سے غافل تھا جو اب بھی میرے ساتھ سفر کر رہے تھے۔
—
اس کے بعد زندگی بدلی نہیں…
میرا دیکھنے کا انداز بدل گیا۔
میں نے غیر ضروری دعوتیں چھوڑ دیں۔
کچھ بحثیں ادھوری چھوڑ دیں۔
کچھ ناراضگیاں دفن کر دیں۔
اور کچھ لوگوں کو صرف اس لیے فون کرنا شروع کیا کہ ان کی آواز سن سکوں۔
پہلے میں وقت نکالتا تھا۔
اب وقت بناتا تھا۔
—
کئی سال بعد میری عمر بھی دادا جان جتنی ہو گئی۔
ایک شام میں اپنے پوتے کے ساتھ ریلوے اسٹیشن پر بیٹھا تھا۔
ایک مسافر ٹرین آہستہ آہستہ پلیٹ فارم سے گزری۔
کھڑکیوں میں بے شمار چہرے تھے۔
کسی کی ہنسی۔
کسی کی بے چینی۔
کسی کی جدائی۔
کسی کی امید۔
پوتے نے میرا ہاتھ پکڑ کر پوچھا،
"دادا ابو… کیا یہ سب لوگ ایک ہی جگہ جا رہے ہیں؟”
میں مسکرایا۔
"نہیں بیٹا… ہر ایک کی منزل الگ ہے۔”
"پھر یہ اکٹھے کیوں بیٹھے ہیں؟”
میں نے ٹرین کو دور ہوتے دیکھا۔
پھر آہستہ سے کہا،
"کیونکہ زندگی منزلوں سے پہلے ساتھ کا امتحان لیتی ہے۔”
—
ٹرین افق میں ایک نقطہ بن گئی۔
میں دیر تک پٹڑیوں کو دیکھتا رہا۔
پھر اچانک احساس ہوا…
ہم سب اپنی اپنی منزلوں کے مسافر ہیں، مگر ہمیں یاد صرف وہ لوگ رہ جاتے ہیں جنہوں نے سفر کے دوران ہماری تنہائی بانٹی تھی۔
منزل پر پہنچنے کے بعد کوئی یہ نہیں پوچھتا کہ سفر کتنے میل کا تھا۔
لوگ صرف اتنا یاد رکھتے ہیں…
راستے میں ان کے ساتھ کون بیٹھا تھا، کس نے ان کے آنسو خاموشی سے دیکھے، کس نے ہنسی بانٹی، اور کس نے اترنے سے پہلے محبت سے ہاتھ تھام کر کہا تھا،
"اپنا خیال رکھنا۔”
شاید زندگی کی سب سے بڑی سچائی یہی ہے کہ انسان اپنی آخری سانس تک منزل کی طرف نہیں چلتا…
وہ ایک دوسرے کی یادوں میں سفر کرتا رہتا ہے۔
افسانہ: منزل
©️ انتخاب سخن
~ Faizaan ~
#urdu #life #urduadab

