منتخب غزلیں

تو اک قدم بھی جو میری طرف بڑھا دیتا میں منزلیں …

تو اک قدم بھی جو میری طرف بڑھا دیتا
میں منزلیں تری دہلیز سے ملا دیتا

خبر تو دیتا مجھے مجھ کو چھوڑ جانے کی
میں واپسی کا تجھے راستہ بتا دیتا

مجھے تو رہنا تھا آخر حدِ تعین میں
وہ پاس آتا تو میں فاصلہ بڑھا دیتا

ہم ایک تھے تو ہمیں بے صدا ہی رہنا تھا
پکارتا وہ کسے؟ میں کسے صدا دیتا؟

وہ خواب دیکھ رہی تھیں یہ جاگتی آنکھیں
چراغ خود نہیں بجھتا، تو میں بجھا دیتا

ہوا کے رخ پہ مرا گاؤں ہی نہ تھا ورنہ
جو مٹھیوں میں بھری تھی وہ خاک اڑا دیتا

(کیفی وجدانی)

المرسل :-: ابوالحسن علی (ندوی)

Related Articles

جواب دیں

Back to top button
تفکر ڈاٹ کام
situs judi online terpercaya idn poker AgenCuan merupakan salah satu situs slot gacor uang asli yang menggunakan deposit via ovo 10 ribu, untuk link daftar bisa klik http://faculty.washington.edu/sburden/avm/slot-dana/