منتخب غزلیں

بشریٰ رحمٰن کا یوم پیدائش (پیدائش:29 اگست 1944ء – …

بشریٰ رحمٰن کا یوم پیدائش
(پیدائش:29 اگست 1944ء – وفات:7 فروری 2022ء)
——
منتخب کلام
——
وقت کس جنتِ موہوم کا لالچ دے کر
مجھ کو ماضی کے جزیروں سے اٹھا لایا ہے
ذہن پر جیسے ہوں بیتے ہوئے لمحوں کے نقوش
جیسے بھولی ہوئی یادیں کسی افسانے میں
اس طرح لا کے یہاں چھوڑ گیا ہے کوئی
جیسے بھٹکا ہوا راہی کسی ویرانے میں
——
تیرے ہاتھوں میں پگھل جانے کو جی چاہتا ہے
آتش ِ شوق میں جل جانے کو جی چاہتا ہے
تجھ سے اک راز کی سر گوشی بھی کرنا چاہوں
پھر وہی راز نگل جانے کو جی چاہتا ہے
دل یہ چاہے کہ تِرے دل میں رہوں دل بن کے
پھر اسی دل سے نکلنے کو جی چاہتا ہوں
وحشت آباد مکانوں میں نہیں جی لگتا
شہر سے دور نکل جانے کو چاہتا ہے
ہم سے یہ رسم کی زنجیر بھی کب ٹوٹ سکی
دل کی ضد پر بھی مچل جانے کو جی چاہتا ہے
——
سلگتی چاندنی راتیں ہمیں واپس عطا کر دو
ادھوری وہ ملاقاتیں ہمیں واپس عطا کر دو
خیال و خواب میں پہروں خیالِ یار کی مستی
وفورِ شوق کی باتیں ہمیں واپس عطا کر دو
خفا ہونا، بگڑنا، روٹھنا پھر بھی تڑپ اٹھنا
محبتوں کی وہ سوغاتیں ہمیں واپس عطا کر دو
ہر اک موسم کی چوکھٹ پر تمہاری آہٹیں سننا
وہ جلتے دن وہ نم راتیں ہمیں واپس عطا کر دو
ہمارے شہر کے ہر موڑ پر اک یاد بیٹھی ہے
نظاروں کی یہ برساتیں ہمیں واپس عطا کر دو
اگر کچھ دے نہیں سکتے تہی دامن تہی دل ہو
تو پھر وعدوں کی باراتیں ہمیں واپس عطا کر دو
مِرے سجدوں کی رعنائی محبت میں نہ کام آئی
معطر با وضو راتیں ہمیں واپس عطا کر دو
جنہیں انجام کار افسردہ و بے چین رہتا تھا
وہ وقتِ آرزو راتیں ہمیں واپس عطا کر دو
——
کس موڑ پر ملے ہو؟
وہ خواب کا زمانہ
وہ رُوپ کا خزانہ
سب کچھ لٹا چکے ہم
یہ جسم و جاں جاناں
کس موڑ پر ملے ہو؟
کیا نام ہے تمہارا
کس نام سے پکاروں
کس طرح تجھ کو جیتوں
کس طرح تجھ کو ہاروں
کس موڑ پر ملے ہو؟
دروازہ کیسے کھولوں
دستک نہ دو خدارا
یہ قفلِ قیدِ ہستی
قسمت پر کس کو یارا
کس موڑ پر ملے ہو؟
اب دل کی وادیوں کے
جگنو بھی سو چکے ہیں
خوابوں کے سب جزیرے
ویران ہو چکے ہیں
کس موڑ پر ملے ہو؟
مڑ کر بھی آنا چاہوں
مڑ کر بھی آ نہ پاؤں
دامن بچانا چاہوں
دامن چھُڑا نہ پاؤں
کس موڑ پر ملے ہو؟
——
ہجر نامہ
بدلتے موسم بدل رہے ہیں
ہزار رستے نکل رہے ہیں
تمہاری دستک کی منتظر ہوں
تمہیں سنانے کو گیت کتنے
لبوں پہ میرے مچل رہے ہیں
ندیم میرے
کلام میرے کلیم میرے
چلے بھی آؤ میں تھک گئی ہوں
سجا کہ رکھوں گی یہ گھر گھروندہ
مگر ادھورا ہے سیج سپنا
نہ جانے یہ کیسے ہو رہا ہے
وہ دور مجھ سے، میں دور اس سے
جو ہے جہان بھر میں ایک اپنا
حسین میرے
حریمِ دل میں مکین میرے
چلے بھی آؤ میں تھک گئی ہوں
ہر ایک نعمت کی ایک نعمت
تمہاری چاہت، تمہاری صورت
مگر تمہیں کس طرح بتاؤں
ہے فرشِ دل پہ نظر جمائے
ہماری چاہت، ہماری صورت
سہاگ میرے
حسین ملہار راگ میرے
چلے بھی آؤ میں تھک گئی ہوں
…………………


Related Articles

Back to top button
تفکر ڈاٹ کام
situs judi online terpercaya idn poker AgenCuan merupakan salah satu situs slot gacor uang asli yang menggunakan deposit via ovo 10 ribu, untuk link daftar bisa klik http://faculty.washington.edu/sburden/avm/slot-dana/