منتخب غزلیں

ممتاز شاعر شمیمؔ فاروقی کا یومِ وفات 29؍اگست …

ممتاز شاعر شمیمؔ فاروقی کا یومِ وفات
29؍اگست 2014
نام سید شاہ محمدشمیم احمد قلمی نام شمیم فاروقی تھا۔پیدائش 25؍دسمبر 1943ء کو گیا ضلع کی مشہور بستی بیتھو شریف میں ہوئی۔ 29؍اگست 2014ء کو پٹنہ میں انتقال کر گئے۔
منتخب کلام
بہت گھٹن ہے بہت اضطراب ہے مولا
ہمارے سر پہ یہ کیسا عذاب ہے مولا
سنا تھا میں نے یہی دن ہیں پھول کھلنے کے
مرے لیے تو یہ موسم خراب ہے مولا
کوئی بتائے ہماری سمجھ سے باہر ہے
کسے گناہ کہیں کیا ثواب ہے مولا
ازل سے تیری زمیں پر کھڑے ہیں تیرے غلام
سروں پہ ان کے وہی آفتاب ہے مولا
گناہ جتنے بھی میرے ہیں سب شمار میں ہیں
ترا کرم تو مگر بے حساب ہے مولا
کچھ اور ذلت و رسوائیاں مقدر ہوں
شمیمؔ ویسے بھی خانہ خراب ہے مولا
…..
جو بھی کہنا ہو وہاں میری زبانی کہنا
لوگ کچھ بھی کہیں تم آگ کو پانی کہنا
آج وہ شخص زمانے میں ہے یکتا کہہ دو
جب کوئی دوسرا مل جائے تو ثانی کہنا
غم اگر پلکوں پہ تھم جائے تو آنسو کہیو
اور بہہ جائے تو موجوں کی روانی کہنا
جتنا جی چاہے اسے آج حقیقت کہہ لو
کل اسے میری طرح تم بھی کہانی کہنا
اب تو دھندلا گیا یادوں کا ہر اک نقش شمیمؔ
پھر وہ دے جائے کوئی اپنی نشانی کہنا
…..
کتاب کون سی ہے اور کس زبان میں ہے
سنا ہے ذکر ہمارا بھی داستان میں ہے
اسی نے دھوپ میں چلنے کی جیت لی بازی
وہ ایک شخص جو مدت سے سائبان میں ہے
زمیں کو جو بھی اگانا ہے وہ اگائے گی
مجھے پتہ ہے مرا رزق آسمان میں ہے
وہ لوٹ آئے تو اپنی بھی کچھ خبر دوں گا
مرے لہو کا پرندہ ابھی اڑان میں ہے
اسے بھی چھوڑ کہ اب حوصلہ نہیں باقی
وہ ایک تیر جو اب تک تری کمان میں ہے
یہیں کہیں نہ کہیں ہے شمیمؔ فاروقی
اگر یقیں میں نہیں ہے تو پھر گمان میں ہے
………………


Related Articles

Back to top button
تفکر ڈاٹ کام
situs judi online terpercaya idn poker AgenCuan merupakan salah satu situs slot gacor uang asli yang menggunakan deposit via ovo 10 ribu, untuk link daftar bisa klik http://faculty.washington.edu/sburden/avm/slot-dana/