منتخب غزلیں
گُزر رہے ہیں عجَب موسمِ کمال سے ہم جُدا ہُوئے …

گُزر رہے ہیں عجَب موسمِ کمال سے ہم
جُدا ہُوئے ہی نہیں ہیں تِرے خیال سے ہم
جُدا ہُوئے ہی نہیں ہیں تِرے خیال سے ہم
بنی وہ ایک جَھلک زندگی کا حاصِل یُوں
تھے جیسے محوِ نظارہ ، ہزاروں سال سے ہم
نصیب سایۂ زُلفِ دراز ہو گا ضرُور
توقّع خُوب کی رکھتے ہیں خوش جمال سے ہم
اب اُن سے ہجر کی کیا داستاں کہیں، کہ یہاں !
نبرد آرا سا رہتے ہیں کِس وبال سے ہم
نئے بَرس سے توقّع، نہ خیر کی اُمِّید !
کہ خوش رہے نہ کسی بھی گُزشتہ سال سے ہم
مِلے وہ ہم کو ،جسےہم نے اپنا مانا ہے
دُعائیں روز کریں ربِّ ذوالجلال سے ہم
رہے گا ذکر ہمارا، ہمارے بعد سہی !
سُخنوری سے رہے کم نہ کُچھ کمال سے ہم
زبانِ خلق پہ رہتا ہے ذکر یُوں بھی خلِشؔ
کہ عاشقی میں ہیں اُن کی نہ کم مِثال سے ہم
کمال، فہْم وفصاحت میں شعر یُوں ہیں خلِشؔ
کہ گُفتگوُ میں رہے دُور اِبتذال سے ہم
شفیق خلشؔ

