عالمی ادب

#کتاب_سدھارتھ #مصنف_ہرمن_ہیسے #مترجم_آصف_فرخی_صا…

#کتاب_سدھارتھ
#مصنف_ہرمن_ہیسے
#مترجم_آصف_فرخی_صاحب
#انتخاب_و_ٹائپنگ_نعمان_خالد

ایک اور موقعے پرجب سدھارتھ گووند کے ساتھ اپنے ساتھیوں اور استادوں کے لئے بھیک مانگنے جنگل میں سے چلا تو سدھارتھ یُوں کہنے لگا "ہاں تو گووند! کیا ہم صحیح راستے پر جا رہے ہیں؟ کیا ہمارے علم میں اضافہ ہورہا ہے؟ کیا ہم مکتی کی جانب بڑھ رہے ہیں یا پھر ہم دائروں میں گھوم رہے ہیں۔۔۔ہم جنہیں چکروں سے فرار سکوں گیا تھا؟"
گووند نے جواب دیا "ہم نے بہت کچھ سیکھا ہے سدھارتھ۔پھر بھی ہم میں کچھ سیکھنا باقی ہے۔ہم دائروں میں نہیں گھوم رہے ہیں۔ہم اوپر جا رہے ہیں۔ہمارا راستہ چککردار ہے۔ہم کئ سیڑھیاں اوپر جاچکے ہیں۔"
سدھارتھ نے کہا "تمہارے خیال میں ہمارا قابل قدر گرو وہ سب سے بوڑھا سادھو کتنا بوڑھا ہے؟"
گووند نے جواب دیا "میرے خیال میں وہ ساٹھ کے پیٹے میں ہوگا۔"
سدھارتھ نے کہا "وہ ساٹھ برس کا ہے اور پھر بھی اسے نروان حاصل نہیں ہوا۔وہ ستر برس کا ہوگا پھر اسی سال کا ہوجائے گا اور میں اور تم! ہم بھی اس جتنے بوڑھے ہوجائیں گے، ہم تپسیا کریں گے۔برت رکھیں گے۔گیان دھیان کریں گے مگر ہمیں نروان نہ ملے گا۔نہ اسے نہ ہمیں۔گووند مجھے وشواس ہے کہ ان سادھوؤں میں سے کوئی بھی نروان حاصل نہ کرسکے گا۔ہم بہانے ڈھونڈ لیتے ہیں۔ہم اپنے آپ کو دھوکا دینے کے لئے ترکیبیں نکال لیتے ہیں مگر جو اصل چیز ہے جو راستہ ہے وہ نہیں ملتا۔"
"اتنے خوفناک الفاظ منہ سے نا نکالو سدھارتھ۔"گووند نے کہا "ایسے کیسے ہوسکتا ہے کہ اتنے سارے عالموں، اتنے سارے برہمنوں، اتنے سارے قابلِ احترام سادھوؤں، برہمچاریوں، اتنے سارے ڈھونڈنے والو، باطنی زندگی کے عارف لوگوں میں سے، اتنے سارے نیک لوگوں میں سے کوئی بھی راستہ نہ ڈھونڈ پائے گا؟"
"سدھارتھ کی آواز میں جتنا دکھ تھا اتنی ہی تضحیک تھی۔اس نے اپنی ہلکی کچھ دکھ بھری اور کچھ مذاق اڑاتی آواز میں کہا "گووند! جلد ہی تمھارا دوست سادھوؤں کا راستہ چھوڑ دے گا جس پر وہ تمھارے ساتھ اتنے دنوں سے چل رہا ہے۔میں پیاس کا مارا ہوں گووند اور سادھنا کے اتنے لمبے راستے پر چلتے ہوئے میری پیاس کم نہ ہوئی۔مجھے ہمیشہ علم کی پیاس رہی ہے۔میرا من ہمیشہ سے سوالوں سے بھرا رہا ہے۔سال بہ سال میں نے برہمنوں سے سوال کئے ہیں۔سال بہ سال میں نے مقدس ویدوں سے سوال کئے ہیں۔لیکن گووند اگر میں نے گینڈے یا لنگور سے سوال کئے ہوتے تو شاید اتنا ہی اچھا ہوتا۔اتنی ہی عقلمندی ہوتی۔میں نے فقط اتنی سی بات سیکھنے میں اتنا عرصہ لگا دیا جو ابھی تک پورا بھی نہیں ہوا گووند کہ آدمی کچھ بھی نہیں سیکھ سکتا۔میں سمجھتا ہوں ہر شے کے جوہر میں ایسی چیز ہے جسے ہم علم نہیں کہہ سکتے۔

#نوٹ
میرے دوست علم صرف ایک ہے جو ہر جگہ ہے۔جو آتما ہے۔جو مجھ میں اور تم میں اور ہر شے میں ہے اور مجھے یقین ہوچلا ہے کہ اس علم کا سب سے بڑا دشمن نام نہاد عالم ہے۔

بشکریہ
https://www.facebook.com/groups/1876886402541884/permalink/2859965384233976

Related Articles

جواب دیں

Back to top button
تفکر ڈاٹ کام
situs judi online terpercaya idn poker AgenCuan merupakan salah satu situs slot gacor uang asli yang menggunakan deposit via ovo 10 ribu, untuk link daftar bisa klik http://faculty.washington.edu/sburden/avm/slot-dana/