منتخب غزلیں
(قتیل شفائی) سلام اس پر کہ سب انسانیت جس سے شناسا…

(قتیل شفائی)
سلام اس پر کہ سب انسانیت جس سے شناسا ہے
پسر ہے جو علی کا اور محمّد کا نواسہ ہے
تضاداتِ مشیت دیکھئے، اس کے حوالے سے
جو اپنی ذات میں ہے اک سمندر، اور پیاسا ہے
برہنہ سر، لٹی املاک اور کچھ راکھ خیموں کی
مدینے کے سفر کا بس اتنا سا ہی اثاثہ ہے
علی اصغر تکے جاتے ہیں اس عالم کو حیرت سے
نہ لوری پیاری امّاں کی، نہ بابا کا دلاسہ ہے
کسی نے سر کٹایا اور بیعت کی نہ ظالم کی
سنی تھی جو کہانی، اس کا اتنا سا خلاصہ ہے
نہ مانگا خوں بہا اپنا خدا سے روزِ محشر بھی
مگر نانا کی امّت کے لیے ہاتھوں میں کاسہ ہے
قتیل اب تجھ کو بھی رکھنا ہے اپنا سر ہتھیلی پر
کہ تیرے شہر کا ماحول بھی اب کربلا سا ہے
قتیل اس شخص کی تعظیم کرنا فرض ہے میرا
جو صورت اور سیرت میں محمّد مصطفٰی سا ہے


