"بقائے دوام" کے پہلے باب کے پہلے صفحے سے…

"بقائے دوام" کے پہلے باب کے پہلے صفحے سے ایک اقتباس:
" ۔۔۔۔ وہ لائف گارڈ کے قریب سے گزری اور جب وہ اس سے تین چار قدم آگے نکل گئی تو اس نے اپنا چہرہ گھمایا، مسکرائی اور اس کی طرف ہاتھ ہلایا۔ اس لمحے مجھے اپنے دل میں درد کی ایک لہر محسوس ہوئی! اس کا بازو ایک مسحور کن روانی سے اٹھا تھا۔ اس مسکراہٹ اور اس اشارے کا تعلق ایک بیس سالہ لڑکی سے تھا، یہ ایسا تھا جیسے وہ کسی چنچل انداز سے شوخ رنگوں کی ایک گیند اپنے عاشق کی طرف اچھال رہی ہو۔ اس مسکراہٹ اور اس اشارے میں حسن اور وقار تھا، جبکہ چہرے اور جسم میں اب کوئی حسن باقی نہیں رہ گیا تھا۔ یہ ایک اشارے کا حسن تھا جو جسم کی بے حسن ہیت میں ڈوب رہا تھا، مگر اس عورت نے ، اگرچہ وہ اس بات سے باخبر تھی کہ وہ اب حسین نہیں رہی تھی، ایک لمحے کے لیے اس بات کو فراموش کر دیا۔ ہم سب کا کچھ حصہ ایسا ہوتا ہے جو وقت کی حدود سے باہر رہتا ہے، شاید کچھ غیر معمولی لمحوں میں ہم اپنی عمر سے باخبر ہوتے ہیں، اور زیادہ تر وقت بے عمر ہوتے ہیں۔ بہر صورت، جس سمے وہ مڑی، مسکرائی اور اس نوجوان لائف گارڈ کی طرف اپنا بازو لہرایا {جو خود پر قابو نہ رکھ سکا اور قہقہہ بار ہو گیا} وہ اپنی عمر سے بے خبر تھی۔ وقت سے آزاد، اس کے حسن کا جوہر، ایک لمحے کے لیے اس اشارے میں بے نقاب ہوا اور مجھے خیرہ کر گیا۔ میں ایک اجنبی احساس سے بھرا گیا۔ اور پھر ایک لفظ ایگنس میرے ذہن میں در آیا۔۔۔ ایگنس ۔۔ میں ایگنس کے نام کی کسی عورت سے کبھی بھی شناسا نہیں رہا تھا۔"
۔۔۔۔۔
نوٹ: جب میں نے دوسری بار اس ناول کو پڑھنے کے لیے اٹھایا تو میرا بے اختیار جی چاہا کہ ناول کا یہ اقتباس آپ سب سے شیر کروں۔ میلان کنڈیرا کو ایک اشارے میں وہ عورت ملی جسے اس نے "ایگنس" کے نام سے پہچانا۔ وہ عورت جس سے وہ کبھی نہیں ملا تھا۔ ایک اشارے نے ایک کردار اور پھر اس کردار کی کہانی کو ناول بنایا۔ تو یوں فکشن نگار کے تخیل نے عدم میں وجود تلاش کرکے ایک شاندار ناول تخلیق کیا۔
میلان کنڈیرا کے ناول Immortality کا اردو ترجمہ ڈاکٹر ارشد وحید نے "بقائے دوام" کے نام سے کیا اور جمہوری پبلیکیشنز نے اسے ۲۰۱۵ میں شائع کیا۔ ارشد وحید اس سے قبل مارکیز کے ناول Love in the days of cholera کو نوّے کے عشرے میں "وبا کے دنوں میں محبت" کے نام سے ترجمہ کرکے اپنے ترجمے کی تخلیقی صلاحیت منوا چکے ہیں۔ بعد ازاں یہی ناول اکادمی ادبیات نے چند سال پہلے دوبارہ شائع کیا۔
{کوثر جمال}
بشکریہ
https://www.facebook.com/groups/1876886402541884/permalink/2994489884114858



