عالمی ادب
"حلاج” آئینے میں پھر سے منعکس ہوا: ہوا میں اپنے …

"حلاج”
آئینے میں پھر سے منعکس ہوا:
ہوا میں اپنے گیسیوؤں کے بادل کے ساتھ
ایک بار پھر”اناالحق”پکارتا لہو رنگ نغمہ
اس کی زبان پر ہے
تو نے عشق کی نماز میں کیا پڑھا
کہ عرصہ ہوا
تو دار… More پر چڑھا اور یہ بوڑھے کوتوال
تیری لاش سے اب تک
گریزاں ہیں
تیرا نام’اشارے ہی اشارے میں
نیشاپور کے سینہ چاک رند
مستی کے لمحوں میں
—مستی اور راستی—-
دھیرے دھیرے زیر لب دہراتے ہیں
اس وقت جب تو’دار کی لکڑی پر
خموش اور بے پرواہ
کھڑا تھا
ہم:
تماشائی گدھوں کا ہجوم
مامور کوتوالوں سے
زیادہ معزور مامور… More


بشکریہ
https://www.facebook.com/groups/1876886402541884/permalink/2967564003474113



