منتخب غزلیں

( غیر مطبوعہ ) گہری تنہائی کے اسرار مرے سامنے تھے…

( غیر مطبوعہ )

گہری تنہائی کے اسرار مرے سامنے تھے
اپنے گھر کے در و دیوار مرے سامنے تھے

میں نے جگراتا چُنا رات کے اسباب سے کیوں
خواب گردی کے بھی آثار مرے سامنے تھے

جیسے وہ آنکھ سے اوجھل ہی نہ ہو پائے ہوں
کچھ مناظر کہ لگاتار مرے سامنے تھے

میں کہ تصویر میں دھستا ہی چلا جاتا تھا
جانے کس کے لب و رخسار مرے سامنے تھے

سانس لیتے ہوئے جنگل سے گزر تھا میرا
لہلہاتے ہوئے اشجار مرے سامنے تھے

اِس لیے سجدہ گزاری سے گزارا خود کو
خواب میں کل مرے سرکار مرے سامنے تھے

وہ بھی کیا وقت تھا محفل کے تمّدن پہ کہ جب
میرے احباب ' مرے یار مرے سامنے تھے

جو علامت میں ڈھلے اُن کو ہی برتا آزرؔ
ورنہ لفظوں کے تو انبار مرے سامنے تھے

( دلاورعلی آزرؔ )

— with Dilawar Ali Aazar.

Related Articles

جواب دیں

Back to top button
تفکر ڈاٹ کام
situs judi online terpercaya idn poker AgenCuan merupakan salah satu situs slot gacor uang asli yang menggunakan deposit via ovo 10 ribu, untuk link daftar bisa klik http://faculty.washington.edu/sburden/avm/slot-dana/