منتخب غزلیں
( غیر مطبوعہ ) ہر بیج کی ہو جیسے نشانی الگ الگ پ…

( غیر مطبوعہ )
ہر بیج کی ہو جیسے نشانی الگ الگ
پانی سے گُل کھِلاتا ہے پانی الگ الگ
–
تنہائی میں علٰحَدہ کیا کیا مَیں کرتا ہُوں
ہر لمحے کی ہے مجھ میں روانی الگ الگ
–
کیا کیا بقائیں ڈھونڈھ کے لانی پڑیں مجھے
رکھّے ہوئے تھے عالمِ فانی الگ الگ
–
ہر دستِ جوہری میں تھیں سوغاتیں اور اور
درپیشِ ہر دکاں تھی گرانی الگ الگ
–
پاؤں کہاں اماں کہ مکانوں میں رکھّی ہے
ہر واقعے کی یاد دھانی الگ الگ
–
پیوست ہو عمارتِ ہستی میں جیسے وہ
اینٹوں سے سر اٹھاتا ہو بانی الگ الگ
–
پہنچا وہاں نوید تو واپس نہ آ سکا
اشیا رکھی ہوئی تھیں پرانی الگ الگ
–
افضال نوید
— with Afzaal Naveed.



