منتخب غزلیں
( غیــر مطبــوعــہ ) سوز کو ساز کیا, وَجد کو وِجد…

( غیــر مطبــوعــہ )
سوز کو ساز کیا, وَجد کو وِجدان کِیا
دل کو دالان کیا, یار کو مہــــمان کیا
حُجرۂ جسم میں معمول کا سنّاٹا تھا
پھر کسی لمس کی آواز نے حیران کیا
دے دیا تیرے تصوّر کے تصرّف میں یہ دل
شمع فانُوس ہوئی, گُل کو گُلِستان کیا
تُو کبھی دے نہ سکا مجھ کو خُوشی کے آنسُو
میں نے سب کچھ تری مُسکان پہ قربان کیا
تجھ کو فُٹ پاتھ پہ شب زاد نظر آئیں گے
دن ڈھلے تُو نے خرابوں پہ اگر دھیان کیا
زندہ رہنے کا ہنر آ گیا آتے آتے
زخم کو پھول کیا, درد کو درمان کیا
آئے دن کرب و اذیّت سے یہاں مرتے رہے
ایک روز اصل میں پھر مَوت نے احسان کیا
مسئلہ ہجر کا پے چیدہ بہت تھا 'احــــمدؔ !
کلیہِ صبر نے قدرے اسے آسان کیا
( احمـــــدؔ نواز )

