~ فنِ شکست~ اس کی شروُعات ہوتی ہے بچپن کے ساتھی…

~ فنِ شکست~
اس کی شروُعات ہوتی ہے
بچپن کے ساتھی
پالتو جانور کی
موت کے ساتھ
اُس کُتے کے ساتھ
جو کئی دنوں تک کھانا چھوڑ دے
اُس مچھلی یا پرندے کے ساتھ
جو کسی کنارے پہ مُردہ پایا جائے
اور تُم سوچتے ہو کائنات کا یہ خلا
جسے تُمھارے دُکھ نے جنم دیا ہے
اتنا گہرا ہے کہ کبھی پُر نہ ہوسکے گا
مگر یہ تو بس شُروعات ہے
اُن ناختم ہونے والے فریبی سلسلوں کا
اسکول کی بے رحمی کا
پہلے حرامی بوائے فرینڈ کا
آہستگی سے دیوانے ہوتے ہمسائے کے بچے کا
تُم اس شکستگی کی گرفت میں لئے جاتے ہو
اور یکدم یہ ہر طرف پائے جانے لگتا ہے
گلیوں میں پھرتے بھکاری
اپنے خوابوں کی مُسافت پہ جاری جنگ کی ویرانی
اور جب دادا ابا لنگڑاتے ہوئے کموڈ پہ پہُچتے ہیں
اور کسی لاُابالی لڑکی کی طرح
دروازہ بند کرنے کی فکر سے آزاد استراحت کرتے ہیں
تب تم یہ احساس کرنے لگتے ہو
تصورِ دُنیا کے بغیر وجود رکھنا کسے کہتے ہیں
تمُھارے ارد گرد لوگ بوڑھے ہوکر مرجاتے ہیں
اُور اس رُخصتی کا مطلب خُدا کے پاس چلے جانے،
سڑتے رہنے یا چیونٹی بن کر دوبارہ جنم لینے سے بتایا جاتا ہے
اور ایک بار پھر،
تُم سے پُرسکون رہنے کی امید بھی کی جاتی ہے
تُم دوبارہ اس مرے ہوئے کو نہ دیکھو گے
انھیں کمرے میں اب آتے جاتے نہ دیکھو گے
اپنے بالوں کو نرمی سے چھوتے ہوئے نہ پاو گے
چاہے یہ تھارے ماں باپ کی نصیحت ہی کیوں نہ ہو
یہ کُچھ بھی نہیں۔
انتظار کرو کہ تُمھاری محبوب خالا
شاپنگ مال میں لڑکھڑائے اور بے ہوش ہوجائے
یا وہ ایک لڑکا جس سے تمھیں مُحبت ہے
پہاڑ سے کودے اور بچ جائے ،
لیکن دوبارہ کبھی چل نہ پائے
یہ تُم سے کروا ہی دیتا ہے
اپنی رگیں کٹوا ہی دیتا ہے
( ظاہر ہے استعاراتی معنوں میں ہی
کہ تُم مضبوط ہو اور تُمھیں پتا بھی ہے
زندگی ان حوادث سے لڑنے کا ہی تو نام ہے )
اور تقریباً یہ سب قابلِ برداشت ہو
اگر یہ سب محض یہیں پہ ہی ختم ہو
مگر ایک دن تھارے ماں باپ
گُلشن سے چُپکے سے نکل جاتے ہیں
ستاروں کے مابین کھڑے ہوکر
جیسے چمن کائی دار ہوکر بے رنگ ہو جائے
تمُ اُنھیں ُضرور جانے دو
صرف یہ نہیں
تمُ انھیں زندگی کے
اس بیاباں سے گُزر جانے دو
اور خود کو یہ سمجھا دو
جلد تھارا بھی بُلاوہ آئے گا
اپنے کاغذی پر جُدا کر کے
اسی گُمنامی میں بنا کُچھ لئے کود جاوگے
جیسے یہ سب ، کُچھ بھی نہیں تھا۔۔۔
شاعرہ : ٹشانی دوشی
مُترجم : نودخان
~ The Art of Losing ~
It begins with the death
of the childhood pet –
the dog who refuses to eat
for days, the bird or fish
found sideways, dead.
And you think the hole
in the universe,
caused by the emission
of your grief, is so deep
it will never be rectified.
But it's only the start
of an endless litany
of betrayals:
the cruelty of school,
your first bastard boyfriend,
the neighbour's son
going slowly mad.
You catch hold of losing,
and suddenly, it's everywhere –
the beggars in the street,
the ravage of a distant war
in your sleep.
And when grandfather
hobbles up to the commode
to relieve himself like a girl
without bothering to shut
the door, you begin to realize
what it means to exist
in a world without.
People around you grow old
and die, and it's explained
as a kind of going away –
to God, or rot, or to return
as an ant. And once again,
you're expected to be calm
about the fact that you'll never see
the dead again,
never hear them enter a room
or leave it,
never have them touch
the soft parting of your hair.
Let it be, your parents advise:
it's nothing.
Wait till your favourite aunt
keels over in a shopping mall,
or the only boy you loved
drives off a cliff and survives,
but will never walk again.
That'll really do you in,
make you want to slit your wrists
(in a metaphorical way, of course,
because you're strong and know
that life is about surviving these things).
And almost all of it might
be bearable if it would just end
at this. But one day your parents
will sneak into the garden
to stand under the stars,
and fade, like the lawn,
into a mossy kind of grey.
And you must let them.
Not just that.
You must let them pass
into that wilderness
and understand that soon,
you'll be called aside
to put away your paper wings,
to fall into that same oblivion
with nothing.
As if it were nothing.
Poem by : Tishani Doshi
Urdu by : Nod Khan
بشکریہ
https://www.facebook.com/groups/1876886402541884/permalink/2910639072499940



