منتخب غزلیں
( غیر مطبوعہ ) ہاتھ میں اک لکیر قسمت کی جب بھی…

( غیر مطبوعہ )
ہاتھ میں اک لکیر قسمت کی
جب بھی دیکھا اسے تو حیرت کی
کون سمجھا ہے درد ِدل کو یہاں
جو ملا اس نے بس ملامت کی
ایک امّید تھی شریک ِسفر
آج اس نے بھی دل سے رحلت کی
چل دیئے سب ہی چھوڑ کر تنہا
جانے والوں نے کتنی عَجلت کی
جب بھی کھایا ہے عشق میں دھوکا
ہم نے اک بار پھر مَحبّت کی
دل میں اب کچھ نہیں رہا باقی
چند یادیں ہیں بس ضرورت کی
چاک سے خود بَہ خود اتر جاتے
اپ نے خوا مخواہ زحمت کی
رہ گئے ہو کے راندۂ درگاہ
داستاں بس یہی ہے ہجرت کی
(طـــاہرؔ زیــــدی )

