عالمی ادب
فرانسیسی ناول نگار رینے گوسینیRéné Goscinny کے ناو…

فرانسیسی ناول نگار رینے گوسینیRéné Goscinny کے ناول Le Petit Nicholas A Des Annuis کے اردو ترجمے "ننھّے نصیر کی پریشانیاں" کا گیارہواں باب
ترجمہ : شوکت نواز نیازی
گیارہواں باب : چاک
کلاس شروع ہوئی تومیڈم بول اٹھیں، "اوہو، چاک ختم ہو گیا ہے۔ اب کون لے کر آئے گا ؟"ہم سب نے ہاتھ کھڑے کر دئے اور چیخنے لگے، "میں، میڈم، میں !" سوائے لطیف کے جس نے سنا ہی نہیں کہ کلاس میں کیا ہو رہا ہے۔ یوں تو کلاس میں جب بھی کوئی چیز ختم ہوتی ہے تو وہ آیان ہی لے کر آتا ہے کیونکہ وہ کلاس میں ہمیشہ اوّل آتا ہے اور میڈم کا چہیتا ہے ۔ لیکن آج اسے زکام ہوا تھا اور وہ سکول نہیں آیا تھا اسی لئے ہم سب چیخنے لگے "میں، میڈم، میں !"
میڈم بولیں، "سب بچّے خاموش ہو جائیں۔ اچھا دیکھتے ہیں۔۔۔ جعفری ، تم جاؤ، لیکن فوراً واپس آنا۔ یہ نہ ہو کہ تم باہر گراؤنڈ میں گھومتے رہو!"
جعفری خوشی خوشی گیا اور تھوڑی میں مسکراتا ہوا واپس لوٹا تو اس کے ہاتھ میں بہت سے چاک تھے۔
میڈم بولیں، "شکریہ، جعفری۔ چلو اب تم اپنی کرسی پر بیٹھ جاؤ۔ لطیف ، تم یہاں بلیک بورڈ کے پاس آؤ ! لطیف میں تم سے بات کر رہی ہوں۔ لطیف!۔۔۔ یہ سو تو نہیں گیا ؟"
گھنٹی بجی تو سوائے لطیف کے ہم سب بھاگتے ہوئے باہر نکلے۔ لطیف کو میڈم نے کلاس میں ہی روک لیا تھا اور ہاتھ ہلا ہلا کر اسے کچھ کہہ رہی تھیں۔ لطیف کو جب بھی بلیک بورڈ کے سامنے بلایا جاتا تو میڈم ہمیشہ اسے بعد میں کچھ نہ کچھ ضرور کہتی ہیں۔
سیڑھیوں سے اترتے جعفری بولا، "باہر نکل کر سب میرے پاس آؤ۔۔۔ تمہیں ایک بڑی زبردست چیز دکھاتا ہوں۔"
ہم سب سکول سے باہر نکلے اور جعفری سے پوچھا کہ وہ کیا چیز ہے جو وہ ہمیں دکھانا چاہتا ہے۔ لیکن جعفری نے چاروں جانب نظر دوڑائی اور بولا، "یہاں نہیں! میرے ساتھ آؤ !" جعفری کو ہر کام رازداری سے کرنے میں بہت لطف آتا تھا اور ہم اس کی اس عادت سے بہت تنگ تھے۔ لیکن ہم اس کے پیچھے چلنے لگے۔ ہم سکول کی دیوار کے کونے پر پہنچے، ہم نے سڑک پار کی، تھوڑی دور چلے، دوباری سڑک پار کی، تھوڑی دور اور چلے اور پھر جعفری رک گیا۔ ہم سب اس کے ارد گرد دائرہ بنا کر کھڑے ہو گئے۔ جعفری نے ایک مرتبہ پھر دوبارہ چاروں جانب نظر دوڑائی اور پھر اپنی جیب میں ہاتھ ڈالا اور بولا، "یہ دیکھو!"
اس کے ہاتھ میں۔۔۔ آپ کو یقین نہیں آئے گا۔۔۔ ایک پورا چاک تھا !
وہ فخریہ انداز میں بولا۔ "ماسٹر موچھل نے مجھے پانچ چاک دئے تھے اور میں نے میڈم کو چار دئے ہیں!"
رفیع بولا، "ارے واہ! تم تو بڑے چالاک نکلے!"
جمیل بولا، "اگر میڈم یا ماسٹر موچھل کو معلوم ہو گیا تو تمہیں سکول سے نکال دیں گے۔ پکیّ بات ہے !"
بات تو ٹھیک تھی، سکول کے سامان کے ساتھ کوئی الٹی سیدھی حرکت کرنے کی بالکل اجازت نہیں تھی۔ ابھی پچھلے ہفتے ہی ایک بڑے لڑکے نے ہاتھ میں پکڑے نقشے سے ایک دوسرے بڑے لڑکے کو مارا تھا اور وہ نقشہ پھٹ گیا تھا۔ اس پر دونوں لڑکوں کو سزا ملی تھی۔
جعفری بولا، "ٹھیک ہے، جو بزدل اور ڈرپوک ہیں وہ بے شک چلے جائیں۔ باقی ہم سب چاک کے ساتھ مزا لگائیں گے۔"
ہم سب کھڑے رہے۔ پہلی وجہ یہ تھی کہ ہم میں کوئی بزدل اور ڈرپوک نہیں تھا اور دوسری وجہ یہ تھی چاک کے ساتھ بہت ہی مزے مزے کے کھیل کھیلے جا سکتے ہیں۔ ایک مرتبہ میری نانی امّاں نے مجھے ایک چاک کا ڈبّہ اور بلیک بورڈ دلوایا تھا جو سکول کے بلیک بورڈ سے کافی چھوٹا تھا۔ لیکن امّاں نے چاک کا ڈبّہ مجھ سے لے لیا تھا۔ وہ کہتی تھیں کہ میں بلیک بورڈ کے علاوہ گھر کی ہر دیوار پر لکیریں لگا دوں گا۔ امّاں نے میرے ساتھ اچھا نہیں کیا کیونکہ اس ڈبّے میں رنگ برنگے چاک تھے، لال، نیلے، پیلے اور سبز۔ میں نے کہا کہ اگر یہ رنگین چاک ہوتے تو اور بھی زیادہ مزہ آتا۔
جعفری چیخ کر بولا، "واہ بھئی ! میں اپنی جان خطرے میں ڈال کر چاک لایا اور جناب نصیر صاحب کو چاک کا رنگ پسند نہیں آیا ! اگر تم اتنے بہادر ہو تو جاؤ اور ماسٹر موچھل سے رنگ برنگے چاک مانگ لاؤ! جاؤ! یہاں کیوں کھڑے ہو ؟ جاؤ! بس باتیں بنانا آتی ہیں تمہیں، ایک چاک چھپانے کی ہمّت نہیں ہے تم میں ! میں تمہیں خوب جانتا ہوں!"
رفیع بولا، "اور نہیں تو کیا !"
میں نے اپنا بستہ نیچے پھینکا اور رفیع کو کالر سے پکڑ لیا اور چیخا، "کیا کہا تم نے ؟"
اس نے دوبارہ وہی کچھ کہہ دیا اس لئے ہم گتھم گتھا ہو گئے۔ یکایک ہمیں اوپر سے ایک بھاری آواز سنائی دی، "بدمعاشو، کیا شور مچا رکھا ہے یہاں ؟ فوراً بھاگو یہاں سے اور کہیں اور جا کر کھیلو، ورنہ میں ابھی پولیس کو بلاتا ہوں!"
ہم وہاں سے بھاگ اٹھے، ہم نے سڑک کا کونہ مڑا، سڑک پار کی، دوبارہ سڑک پار کی اور تھوڑی دور پہنچ کر رک گئے ۔
جعفری بولا، "اب تم دونوں اگر اپنی بچّوں والی حرکتیں بند کرو تو ہم چاک سے کچھ کھیل لیں ؟"
رفیع میری جانب اشار ہ کرتے ہوئے بولا، "اگر یہ یہاں رہا تو میں جا رہا ہوں۔ تم کھیلتے رہو اپنے چاک کے ساتھ !" یہ کہہ کر وہ چلا گیا۔ میں نے فیصلہ کیا کہ میں زندگی بھر اس سے بات نہیں کروں گا۔
ادریس بولا، "اچھا تو پھر ہم چاک کے ساتھ کیا کریں گے ؟"
جمیل بولا، "اگر دیواروں پر کچھ لکھیں تو بہت مزا آئے گا۔"
مقصود بولا، "ہم دیوار وں پر 'انتقامیوں کا گروہ !" بھی تو لکھ سکتے ہیں۔ یوں علاقے میں ہمارے دشمنوں پر ہماری دھاک بیٹھ جائے گی اور انہیں معلوم ہو جائے گا کہ ہم یہاں آئے تھے!"
جعفری بولا، "واہ یہ بھی خوب کہا ! تاکہ مجھے سکول سے نکال دیا جائے۔ بہت اچھا ! زبردست !"
مقصود بولا، "تم تو واقعی بہت بزدل ہو !"
جعفری نے جواب دیا، "بزدل ؟ اور میں ؟ جس نے ایک چاک کے لئے اپنی جان خطرے میں ڈال دی ؟ مجھے تم پر ہنسی آ رہی ہے !"
مقصود بولا، "اگر تم بزدل نہیں ہو تو پھر لکھو دیوار پر !"
ادریس بولا،"اور اگر ہم سب کو سکول سے نکال دیا تو ؟"
جمیل بولا، "دیکھو، میں تو جا رہا ہوں۔ ورنہ مجھے گھر سے دیر ہو جائے گی اور پھر طرح طرح کی باتیں سننا پڑیں گی۔" یہ کہہ کر جمیل اپنے گھر کی جانب سرپٹ بھاگ اٹھا۔ میں نے آج تک اسے اپنے گھر اتنی تیزی سے جاتا نہیں دیکھا۔
ادریس بولا، "میں تو کہوں، دیواروں پر لگے پوسٹروں پر کچھ بنائیں تو بہت مزا آئے گا۔ میرا مطلب ہے، عینکیں، مونچھیں، ڈاڑھیاں اور پائپ وغیرہ !" ہم سب متفق ہوئے کہ یہ بہت زبردست خیال تھا۔ لیکن اس سڑک پر کوئی پوسٹر دکھائی نہ دیا۔ پھر ہم پوسٹروں کی تلاش میں چلنے لگے۔ لیکن پھر وہی بات؛ جب پوسٹر ڈھونڈنے نکلیں تو سارے شہر میں ایک بھی پوسٹر نہیں ملتا !
ادریس بولا، "مجھے یاد تو آرہا ہے کہ ایک پوسٹر اسی علاقے میں کہیں لگا تھا۔ ۔ ۔ وہی جس میں ایک بچّہ چاکلیٹ کیک کھا رہا ہے۔۔۔ جس کے اوپر کریم بھی لگی ہے۔۔۔"
اصغر بولا، "ہاں، ہاں ، میں نے وہ دیکھا تھا۔ میں نے اس پوسٹر والی تصویر اپنے ابّا کے ایک رسالے سے کاٹ کر اپنے کمرے میں بھی لگائی تھی !"
اس پر اصغر کو یاد آیا کہ اس کے گھر دوپہر کے کھانے کا وقت ہو رہا ہو گا۔ وہ بھی بھاگتا ہوا چلا گیا۔ اب چونکہ دیر ہو رہی تھی اس لئے ہم نے پوسٹر ڈھونڈنے کا منصوبہ ترک کر دیا اور یونہی چاک سے کھیلنا کا اراد ہ کیا۔
مقصود اچانک زور سے بولا، "ارے دوستو، میں بتا تا ہوں! ہم سٹاپو بھی بنا سکتے ہیں ! ہم فٹ پاتھ پر سٹاپو بنا ئیں گے اور۔۔۔"
ادریس بولا، "تم پاگل تو نہیں ہو گئے ؟ سٹاپو تو لڑکیوں کا کھیل ہے !"
مقصود فوراً بولا، "نہیں، جناب، بالکل نہیں ! یہ لڑکیوں کا کھیل نہیں ہے !" اس کے گال سرخ ہورہے تھے۔
لیکن ادریس نے شکلیں بنایا شروع کر دیا اور لڑکیوں والی آواز میں گانے لگا، "مس مقصودہ سٹاپو کھیلے گی ! مس مقصودہ سٹاپو کھیلے گی !"
مقصود چلاّیا، "چلو نہ ذرا میرے ساتھ خالی پلاٹ میں ! وہاں دیکھتے ہیں ہم میں مرد کون ہے!"
یہ کہہ کر مقصود اور ادریس دونوں ایک دوسرے کو گھورتے ہوئے چلے گئے۔ لیکن سڑک کے کونے پر پہنچ کر وہ دونوں الگ ہو گئے۔ ہمیں چاک کے ساتھ اتنا مزا آ رہا تھا کہ ہمیں احساس ہی نہ ہوا کہ اتنی دیر ہو چکی ہے۔
اب میں اور جعفری اکیلے رہ گئے ۔ جعفری نے چاک کو سیگرٹ کی طرح ہونٹوں میں دبایا اور ہوا میں خیالی دھواں نکالنے لگا۔ پھر اس نے چاک کو اپنی ناک اور اوپر والے ہونٹ کے درمیان داب لیا جیسے وہ اس کی مونچھ ہو۔
میں نے کہا، " مجھے بھی تو چاک کا ایک ٹکڑا دو ؟" لیکن جعفری نے سر کے اشارے سے انکار کر دیا۔ میں نے اس کے ہونٹ اور ناک کے درمیان سے چاک اچکنا چاہا تو وہ زمین پر گر گیا اور اس کے دو ٹکڑے ہو گئے۔ جعفری غصّے میں آگ بگولا ہو گیا۔
وہ چیخا، "اب دیکھو میں تمہارے چاک کے ٹکڑے کے ساتھ کیا کرتا ہوں!" یہ کہہ کر اپنی جوتے کی ایڑی سے اس نے چاک کے ایک ٹکڑے کو کچل کر چور چور کر دیا۔
میں بھی چیخا، "اچھا ! اب دیکھو میں تمہارے ٹکڑے کے ساتھ کیا کرتا ہوں!" یہ کہہ کر میں نے بھی اپنے جوتے کی ایڑی کے ساتھ اس کے چاک کے ٹکڑے کو کچل کر چور چور کر دیا۔ پھر چونکہ ہم دونوں کے پاس چاک نہیں تھا اس لئے ہم دونوں اپنے اپنے گھر کو چل دئے۔
ترجمہ : شوکت نواز نیازی، 7 ستمبر 2020
بشکریہ
https://www.facebook.com/groups/1876886402541884/permalink/2869667183263796



