مختصر کہانیاں

بلیک روز سمرین شاہ قسط نمبر 41 ہما نے زلنی…

???? بلیک روز
???? سمرین شاہ
???? قسط نمبر 41

ہما نے زلنین کو دیکھا اور پھر پھوپھو کو ، ایک دم سے اس کے چہرے پہ تلخ مسکراہٹ آگئی ، لفظ ساس اسے کھبی اتنا بُرا نہیں لگا تھا جتنا پھوپھو کشف کے منہ سے سُن کر ہما کو لگ رہا تھا ۔
زلنین نے ان خنخوار نظروں سے دیکھا پھر جبر کرتے ہوے اس نے اک نظر ہما کو دیکھا جو بالکل سٹل کھڑی تھی اور کچھ سوچتے ہوے بولا ۔
"ہما یہ ہے میری پھوپھو ۔۔۔۔”
"اور آپ کی ہونے والی ساس بھی ۔”
ہما نے چہرہ موڑ کر بے حد عام سے لہجہ میں کہا ۔
"او تمھیں زلنین نے بتایا تھا کے اس کی منگنی پچپن میں میری بیٹی سے ہوئی تھی اگر نہیں بتایا تو زلنین کتنی بُری بات ہے ۔”
"ہاں زلنین کتنی بُری بات ہے ۔”
ہما کے تائیدی انداز پہ زلنین چکرا ہی اُٹھا یہ کس مصیبت میں پھنس گیا ۔ جزلان !!!! ہیلپ ۔
"سب کو چونٹی کی طرح مسل دینے والا زلنین ، آج بے بس سا پھوپھی اور بیوی کے درمیان پھنسا ہوا تھا ۔
"ہمم پھوپھو ہمیں دیر ہورہی ہے ، ہمیں ضروری کام سے جانا ہے ۔”
"نہیں نہیں اتنی بھی جلدی نہیں ، آپ نے اپنی بیٹی کے بارے میں نہیں بتایا جس سے عنقریب شادی ہونے والی ہے ۔”
ہما کے کہنے پر زلنین کا دل کیا یہاں سے کہی بھاگ جائے پھر دل میں سوچا جب کچھ ایسا ہے نہیں تو وہ کیوں گھبڑا رہا ہے ۔ گھبڑا اس لئے رہا ہے کہ وہ سب کو بتا نہیں سکتا ہما اس کی بیوی ہے اور دوسرا ہما کو یہ نہیں بتا سکتا پھوپھو اس کی ایک نمبر کی ڈائن ہے اگر اس کے سامنے وہ پھوپھو کو کچھ کہے گا تو اس کا ایمج خراب ہوگا ۔
"ہاں میں دکھاتی ہوں بہت خوبصورت ہے اِدھر ہی کہی ہو زلنین پرمیس کہاں ہے ۔”
اب ہما کو لگا کہ وہی بے ہوش ہوکر گر جائے گی ۔ پرمیس زلنین کی منگیتر پرمیس ۔۔۔
"اُف اس عورت کی تو میں ۔”
زلنین آگئے بڑھ کر کچھ کرنے لگا جب کسی کی سیٹی کی آواز پہ رُک گیا مڑ کر دیکھا دور گول سیڑھیوں پہ بیٹھا مزے سے گلاس سے سپ لیتا جزلان مزے اس سین کو انجوائی کررہا تھا ۔
زلنین نے اسے اتنی تیز نظروں سے دیکھا جبکہ وہ کھل کر مسکراتے ہوے اسے چڑانے کی بھرپور کوشش کررہا تھا ۔
"مجھے اس مصیبت سے نکالو ۔ "وہ اسے دل میں کہتے ہوے غضب ناک لہجے میں بولا
"تو کس الو نے کہا تھا اس کو یہاں بلائے ۔”
"مجھے کیا پتا تھا یہ عورت اس پورشن میں آئیں گیں یہ گئی ہوئی نہیں تھی اس بڈھے کے ساتھ ۔”
"آج آئیں ہیں ۔ ”
"خدا کے لئے جزلان ۔۔ ورنہ میرا ہاتھ ہوگا اور اس عورت کی گردن ۔”
"تجھے تو کوئی رشتے کا لحاظ ہی نہیں رہا زلنین شرم سے مر جانا چاہئیے تجھے ۔”
"اس سے پہلے میری بیوی کو پتا چل جائے میں ایک جن ہوں تو جلدی آ اور اگر ہما میرے سے دور گئی سب سے پہلے تجھے اللہ کو پیارا کروں گا ۔”
"پہلے اس مصیبت سے نکلو تب کچھ کرنا ۔”
"اچھا ابھی نکلتا ہوں ۔”
وہ پھوپھو کی طرف دیکھنے لگا جو ہما کو پرمیس اور زلنین کی جھوٹی سٹوری بڑھا چڑھا کر سُنا رہی تھی بظاہر تو ہما بڑے آرام سے سُن رہی تھی مگر زلنین جانتا تھا کہ وہ کتنے ضبط سے سُن رہی ہے ۔ وہ اس لئے کررہی تاکہ زلنین کو بتا سکے کہ وہ اس کے لئے کوئی فیلنگز نہیں رکھتی ۔
"ام پھوپھو ۔۔ ”
"پرمیس کی ، ہاں بولو زلنین ۔”
زلنین نے ایک نظر انھیں دیکھا اور اس کی نظروں میں اس وقت اتنی طاقت تھی کہ پتا نہیں کیا ہوا پھوپھو نے اس کی نیلی آنکھوں کو دیکھتی ہی محسور ہوگی اچانک وہ گرنے لگی ۔
"او پھو پھو آپ ٹھیک تو ہیں ۔”
اس نے انھیں پکڑتے ہوے نرمی سے کہا ۔ جزلان کھڑا ہوگیا یہ کمینہ اپنے محبوب کے لئے کسی حد تک جا سکتا ۔ ہما بھی تیزی سے آگئے بڑھی ان کو تھامتے ہوے کہ زلنین نے اسے ٹوکا ۔
"ہما انھیں ہاتھ نہ لگاو ۔۔۔۔۔”
وہ اچانک ہی چیخ پڑا ہما ایک دم ڈر کر پیچھے ہوئی ۔ اس کی آواز ضرورت سے زیادہ بھاری اور اونچی تھی ۔
پھر اس نے پھوپھو کو اپنے زیر کر کے ان کے منہ سے عجیب آوازیں نکالی ۔
"زلنین انھیں کیا ہوا ہے ۔”
ہما کو ان کی بے حد عجیب آوازوں سے خوف آرہا تھا ۔
"کچھ نہیں تم باہر جاو ۔۔ میں تمھیں سب بتاؤں گا ۔”
وہ مڑ کر اسے تسلی دینے لگا پھر اس نے ایک اور کام کیا جان بوجھ کر تاکہ ہما کا دل نرم پڑے اُف اس محبت کے لئے بھی کیا کرنا پڑتا ہے ۔ پھوپھو کے لمبے ناخنوں سے اس نے اپنے چہرے پہ وار کروایا ۔ ہما چیخ پڑی ۔
"یہ شخص پاگل ہوگیا ہے ۔” اور زلنین بھپری ہوئی پھوپھو کو سنبھالنے لگا جو اب چیخ رہی تھی ۔
"میری بچی میری بچی ۔”
ہما ان کو دیکھنے کے بجائے زلنین کو دیکھ رہی تھی جس کے چہرے پہ بڑا سا ناخن کا نیشان آگیا تھا ۔
یہ ان کو کیا ہوا تب تک جزلان کو آنا پڑا کہ یہ سر پھرا جن مزید کس حد تک چلا جائے ۔
"ہما میں کیا کہہ رہا ہوں ۔”
پھر ایک اور اٹیک زلنین صاحب نے اپنے اوپر کروایا ۔
جزلان نے اسے پھوپھو سے الگ کیا جو اب اس کی اثر سے نکل کر ایک بولتے بولتے جزلان کی بازوں میں جھول گئی ۔ زلنین نے اپنے آپ کو سنبھالا ہما تیزی سے اس کے پاس آئی اور پریشانی سے اس کا بازو پکڑ کر اس کا چہرہ دیکھنا چاہا ۔
"یہ کیا ہوا تھا انھیں اچانک سے ، آپ ٹھیک تو ہونا ۔”
زلنین ہلکہ سا سر اُٹھا کر جزلان کو چڑانے والی مسکراہٹ سے دیکھا کہ اب سنبھال میں تو چلا ۔
"کوئی نہیں بس دورہ پڑتا ہے ان کو چلو ۔”وہ آرام سے کہتا ہوا اس کا ہاتھ پکڑ کر چلنے لگا اور اس کو ساتھ لے کر آگئے بڑھنے لگا کہ ہما نے اپنا ہاتھ چھڑوایا ۔
"نہیں پہلے اپنا زخم پہ کچھ لگا دو کیا بہت زور درد ہورہا ہے ۔”
اس کی فکر پہ زلنین نے مڑ کر اس دیکھا وہ اس کے بجائے اس کے گال پہ نیشان دیکھ رہی تھی اور اسے چھونا چاہتی تھی مگر کچھ روک رہا تھا کیا روک رہا تھا زلنین با خوبی جانتا تھا ۔
"ہاں درد ہورہا ہے کسی کی بے رُخی بہت تکلیف دیتی ہے ۔”
وہ ہما کی آنکھوں میں دیکھتے ہوے بولا ۔ ہما نے اسے دیکھا پھر ایک دم گڑبڑا گئی ۔
"چلو ہما پہلے ہی اتنی دیر ہورہی ہے آو ۔”
وہ بولتے ہوے اس کا ہاتھ پکڑنے لگا کہ ہما نے ایک دم پیچھے کر لیا ۔
"میں کچھ کرلوں گا ویسے بھی نیشان پڑا ہے خون نہیں نکل رہا ۔”
وہ اس کا نظروں کا مفہوم سمجھ کر اسے تسلی دینے لگا ۔
وہ چل پڑا تو وہ بھی اس کے پیچھے جانے لگا جبکہ اس نے مڑ کر دیکھا ضرور تھا یہ کیا وہ دونوں کہاں غائب ہوگئے شاہد وہ ساتھ والے کمرے میں لے گیا تھا ۔عجیب ہی ہیں سارے خود سے کہتے ہوے وہ زلنین کی پیچھے گئی ۔وہ زلنین کی گاڑی کے قریب آئے جب نے زلنین کو دروازے کھولنے سے پہلے روکا ۔
"زلنین یہ سب کیا تھا ۔”
زلنین جا ہینڈل پہ دھرا ہاتھ رُک گیا نا سمجھی سے اسے دیکھنے لگا ۔
"آپ نے مجھے اپنی پھوپھو کے بارے میں نہیں بتایا، پہلے آپ کہتے تھے کہ میں اکیلا رہتا ہوں ٹھیک دیکھنے میں بھی ایسا لگ رہا تھا ۔ اس کے بعد مجھے پتا چلا کے فائیق ذوالفقار آپ کے چچا تھے ٹھیک ہے یہ بھی مانتی ہوں کہ آپ کے ساتھ ان کے ٹرمز کچھ اچھے نہیں تھے ۔ اس کے بعد آپ کے دو کزن جزلان اور پرمیس لندن سے آئے یہ آہستہ آہستہ آپ کا خاندان کیوں ظاہر ہورہا ہے ابھی تو اتنے رشتے بعد میں پتا چلے آپ کا تو پورا جوائن فیملی سسٹم ہے ۔”
"تو تمھیں جوائن فیملی سسٹم سے اعتراض ہے ۔”
وہ اس کی طرف آکر گاڑی کے فرنٹ پہ بیٹھتے ہوے بولا ۔ ہما نے اپنی آنکھیں گھمائیں ۔
"میں نے یہ نہیں کہا آپ کہتے میں آپ پر ٹرسٹ کروں کیسے کروں آپ ہر طرح سے مشکوک ہیں اور سب سے زیادہ غصہ مجھے اپنے آپ پر آرہا ہے کہ میں نے آپ سے شادی کی ۔”
وہ خاموشی سے اسے سُنتا رہا اس کی خاموشی نے ہما کو چڑا دیا ۔
"بولتے کچھ کیوں نہیں ہے آپ ۔۔۔ زلنین میں آپ کے قریب آنا چاہتی ہوں مگر یہ جو کچھ ہورہا ہے یہ بالکل برداشت سے باہر ہے اور ایک اور چیز آپ منگنی شدہ ہیں ؟ آپ نے مجھے تو دھوکہ دیا ہی دیا پر ساتھ میں اس لڑکی پرمیس سے بھی جس سے آپ نے ۔۔۔۔۔”
"ایک منٹ ایک منٹ پہلی بات ہے کہ میں خاموش اس لئے تھا کہ تمھیں آرام سے بولنے دوں ، تمھارا غبار نکلے
جب ساری بات کلیر ہوجائے تو پھر بولوں ویسے بھی جب میں نے کچھ کیا ہی نہیں تو میں صفائی کیوں دوں ، ہما میں تم پر ہر چیز سے بھی زیادہ ٹرسٹ کرتا ہوں تم نہیں کرتی اس میں میں کیا کرسکتا ہوں تکلیف ہوتی ہے پر میں تمھارے دل میں گھس کر اعتماد پیدا کرنے سے تو رہا ۔رہی بات پھوپھو کی ایسی کوئی بات نہیں پھوپھو مینٹیلی ٹھیک نہیں ہے ان کو اکثر دورے پڑتے ہیں وہ بہت عجیب باتیں کرتی ہیں یہ تو کچھ بھی نہیں کل جزلان کو اپنے بیٹی بول رہی تھیں اور میں ہمیشہ کی طرح ان کی ہر بیٹی کا داماد اور جب ان کی باتوں پر کوئی آگئے سے خاموش اور غیر دلچسپی ظاہر کرتا ہے تو ان کی حالت بگڑ جاتی ہیں ۔ پرمیس انھیں اپنے ساتھ لائی تھی تاکہ ماحول کی تبدیلی ہوسکے
مگر کچھ اثر نہیں ہوا اور میں نے تمھیں ان سے اس لئے نہیں ملوایا تاکہ تمھیں ان سے نقصان نہ پہنچ سکے ۔بس یا کچھ اور بھی رہتا ہے ۔”
وہ اپنی بات کہہ کر اس کے جواب کا منتظر تھا مگر وہ اسے دیکھتی رہی پھر اس کے آنکھوں میں پیشیمانی آگئی ۔ پہلے اس پر اٹیک ہوا اوپر سے وہ اپنی پریشانی اور درد ظاہر بھی نہیں کررہا ۔وہ اسے سوری کرنا چاہتی تھی مگر کر نہیں پارہی تھی زلنین سمجھ گیا وہ اسے سوری کہلوانا بھی نہیں چاہتا تھا ۔ اس کی کوئی غلطی ہی نہیں اور اگر غلطی ہوتی بھی تب بھی وہ نہیں چاہتا کیونکہ اس نے اس لڑکی سے تمام تر خوبیوں اور خامیوں سمیت قبول کیا ہے اور یہی محبت کا تقاضا ہے ۔
"آو دیر ہورہی ہے ویسے اس گرے ڈریس میں اچھی لگ رہی ہو ۔”
ماحول کا تناو کم کرنے کے لئے اس نے اس کی تعریف کی ۔ ہما نے اسے دیکھا وہ اب اُٹھ کر کار میں بیٹھ چکا تھا ۔وہ اس کی پُشت کو دیکھنے لگی پھر ایک اور بات اس کے دل میں آئی مگر سر جھٹک کر وہ سیٹ پہ بیٹھ گئی لیکن دل بار بار کہہ رہا تھا کہ وہ اس سے پوچھ لیں کیونکہ جو پرمیس کی زلنین کے لئے نظروں میں دلچسپی تھی وہ ہما سے چھپی نہیں رہ سکتی تھی ۔
"زلنین کیا آپ کا پرمیس سے کوئی رشتہ ۔۔۔”
"ہما میں پہلے بھی بتا چکا ہوں کہ ایسی کوئی بات نہیں ہے اور پھوپھو کا تمھیں ۔۔۔۔
اس کی بات ہما نے کاٹی ۔
"وہ سب میں جانتی ہوں مگر کسی طرح کی انولومنٹ تھی ۔”
اندیشہ اچانک لبوں پر آگیا زلنین کے لبوں پہ بے ساختہ مسکراہٹ آئی وہ اب گھر سے نکل چکے تھے ۔
ہما نے اس کی چہرے پہ گہری مسکراہٹ دیکھی تو اسے انجانے میں آگ لگ گئی ۔
"آپ مسکرا کیوں رہے ہیں ! ۔” اس کے کہنے پر زلنین کھل کر ہنسنے لگا ۔
ہما نے بیگ اُٹھا کر زور سے اس کے کندھے پہ مارا ۔ آنکھیں انجانے میں مرطوب ہوگئیں ۔
"آگ برابر جگہ لگی ہے ۔”
وہ ہنستے ہوے بولا جبکہ وہ اپنے آنکھیں صاف کرتی شیشے کی طرف دیکھنے لگی ۔
••••••••••••••••
"تمھاری ماما کی طبیعت ٹھیک ہے اب ؟ ۔”
زرینہ اس سے ملنے ہاسپٹل آئی تھی ۔ بابا کو شفق نے رات کو یہاں رہنے کے باعث صبح گھر بھیج دیا تھا کہ وہ آرام کر لیں وہ شروع سے بضد تھے کہ شفق چلی جائے لیکن شفق گھر نہیں جانا چاہتی تھی ۔اس کے اصرار پر انکل نے انھیں منوا کر بلا آخر اپنے ساتھ لے گئے ۔
فائیق البتہ اس کے ساتھ تھا ۔ ابھی تھوڑے دیر پہلے اس کے لئے کچھ کھانے کے لئے لینے گیا تھا کہ پانچ منٹ بعد ہی زرین کی آمد ہوگئی اور اسے مل کر دلاسہ دینے لگی شفق جو اس دن کی بعد سے اس سے بات نئیں کررہی تھی ۔ ایک دوست کا کندھا پاکر ساری چیزیں بھلا کر اس کے ساتھ بیٹھی رورہی تھی اور زرین نے اس کو تسلی دینے کے بعد اسے تھوڑا حوصلہ ہوا ۔تو وہ شفق کی امی کے بارے میں پوچھنے لگی ۔
"اوپریشن تو ہوگیا ہے مگر ان کی حالت ابھی بھی کریٹیکل ہے بس دعا کرو امی کو کچھ نہ ہو ۔”
"ان شا اللہ شفق وہ بالکل ٹھیک ہوجائے گی تم ٹینشن نہ لو ۔”
وہ اس کا ہاتھ تھامتے ہوے بولی ۔
"ویسے تمھیں کیسے پتا چلا ؟ ۔”
شفق کو اچانک خیال آیا صرف ان کو اور فائیق کی فیملی کے علاوہ کسی کو نہیں پتا تھا اور زرینہ کے ٹریمز اپنے نیبرز کے ساتھ کچھ اچھے نہیں تھے ۔
"وہ یونی گئی تھی مس نے اطلاع کی تھی آج اتنی اہم پروجیکٹ تھا اور شفق نہیں آئی پھر انھوں نے تمھارے گھر پر کال کروائی تو تمھارے بابا نے فون اُٹھایا کہتے ہیں کہ وہ ابھی ہاسپٹل سے آئے ہیں اور تمھاری مدَر کو ہارٹ اٹیک آیا ہے میں چونکہ تمھارے گھر کے قریب رہتی ہوں تو انھوں نے مجھے بتادیا کہ میں خبر لے لو ۔”
"بہت شکریہ تمھارے آنے کا ، آئیم سوری میں تم سے لڑ پڑی ۔”وہ بہت مشکور نظروں سے زرین کو دیکھتے ہوے بولی ۔ زرین نے ہولے سے مسکراتے ہوے اس کا ہاتھ تھپ تھپایا ۔
"کوئی بات نہیں یار ہوجاتا ہے ۔”
"شفق تمھاری کافی ۔”
فائیق کی آواز پہ وہ دونوں سر اُٹھا کر مڑے اور زرینہ کا حیرت سے منہ کھل گیا فائیق یہاں پر ۔فائیق کے ہاتھ میں کافی کے دو کپ تھے ۔زرینہ کے تاثرات یک دم عجیب ہوگئے جبکہ فائیق بالکل نارمل انداز میں ان دونوں کو دیکھتا ہوا شفق کو کپ دے کر جانے لگا جب شفق نے روکا ۔
"زری ایک سیکنڈ ! فائیق آپ میرے ساتھ آئے ۔”
وہ اُٹھ کر فائیق کا ہاتھ پکڑ کر سائڈ پہ لے کر گئی اور زرین ان دونوں ک سائڈ پہ جاتا ہوا دیکھنے لگی ۔ اس نے اپنی مٹھی زور سے بیگ پر بھینچ لی تھی ۔لب کو اس نے زور سے دبا دیا تھا ۔
فائیق جو کسی لڑکی سے بات کرنا پسند نہیں کرتا تھا ۔ آج اس عام سی شکل و صورت والی کو ہاتھ پکڑنے کے اجازت بھی دے دی اور اس کے ساتھ ہاسپٹل میں بھی رہا اور اب اس کے خیال سے اس کے لئے کافی بھی لے آیا ۔ ہاں وہ اس لڑکی سے محبت کرتا ہے اس نے اس کی آنکھوں میں دیکھ لیا تھا ۔ اس کی تھکی ہوی آنکھوں میں شفق ہی شفق تھی ۔
کچھ بھی سوچے بغیر وہ یہاں سے اُٹھ گئی اور شفق جو فائیق کو جانے کا کہنے لگی تھی اور زری کے متعلق بھی پوچھنا تھا ایک دم زرینہ کو بھاگتا ہوا دیکھ کر اسے جھٹکا لگا ۔
"زری ! ۔”
"اسے کیا ہوا ؟ ۔”
فائیق نے بھی حیرت کا اظہار کیا ۔
•••••••••••••••••
"ہیر یو گو ۔”
وہ بلا آخر پہنچ گئے راستے میں ان کے درمیان کوئی بات نہیں ہوئی تھی ۔ ہما سمجھ رہی تھی کہ وہ اسے منائے گا مگر ایسی کوئی بات نہیں ہوئی ۔ وہ بالکل خاموش تھا اور ہما کو اس کی خاموشی بے حد بُری لگ رہی تھی ۔ وہ خود سے بار بار الجھ رہی تھے پہلے چاہتی وہ اسے تنگ نہ کرے اور جب وہ اسے کچھ نہیں کہہ رہا تو پھر چاہتی ہے کہ وہ اس سے بات کرے ۔
زلنین بار بار اس کی بدلی کیفیت پہ غور کررہا تھا ۔ اس نے اس وقت الجھی ہوئی ہما کو ڈسڑب کرنا ضروری نہیں سمجھا۔ جب وہ پہنچ گئے تب وہ بولا ۔
ہما غصے سے بیگ اُٹھا کر جانے لگی جب زلنین نے اس کا ہاتھ پکڑ لیا ۔
"تم بہت عجیب ہو ہما ۔”
"تو اس عجیب لڑکی سے شادی کرنے کو کس نے کہا تھا کرتے نا اس سمجھدار خوبصورت گورے چٹے رنگ کی پرمیس سے ۔”
وہ جل کر بولی ، زلنین کو ہنسی آنے لگی ۔
"تمھیں پتا ہے ہما ، میں نے تمھاری علاوہ کسی کو نظر اُٹھا کر نہیں تھا یہ تو تم بتا رہی ہو اس کا رنگ چٹا اور مجھے اب پتا چلا ۔”
"پلیز ! یہ چیزی لائنز مت بولے ۔۔۔ ”
"میں کب بول رہا ہوں جو سچ ہے وہ بتا رہا ہوں ۔”
"میرے سے سمپل آپ نے ہمدردی کی تحت کی تھی ورنہ مجھ میں کیا تھا ۔”
وہ کوشش کررہی تھی کے اس کی آنکھوں میں آنسو نہ آئے ۔ وہ نہیں برداشت کرسکتی بیشک وہ اسے اب بھی بُرا لگتا تھا ۔ لیکن دل کو ٹھیس اُٹھتی تھی اگر زلنین کے ساتھ کسی اور لڑکی کا ذکر ہوا کرتا تھا ۔
زلنین نے ہاتھ اپنی ٹھوڑی پہ رکھی ۔
"یہ تو دل میں جھانک کر پوچھو ہما کے تم میں کیا ہے ۔ ریلیکس رہو اور جاو کلاس کے لئے لیٹ ہورہی ہو اور اپنا خیال رکھنا اور میری ہیدائت پہ عمل کرنا ۔
اس کے ہاتھ کو اُٹھا کر اسے نرمی سے چومتا وہ چھوڑ چکا تھا ۔
ہما اس کے صفائی نہ دینے پر تیش آرہا تھا ۔ وہ کچھ کہہ کیوں نہیں رہا کل تک جو پاگلوں کی طرح بار بار ہر چیز کی وضاحت دے رہا تھا ۔ آج بالکل چُپ اور زلنین اسے کیا بتاتا یہ سب وہ اس کی ماں کے کہنے پر کررہا ہے اس نے ہر چیز اللہ پہ چھوڑ دی ہے ۔ وہ جو کچھ کرے گا ۔ بہتر ہی کرے گا ۔
••••••••••••
پرمیس سر جھکائے کھڑی تھی ۔ وہ کُرسی پہ جھولتی اپنی تسبی کے دانوں کو کچھ چھوتے پڑھ رہی تھی ۔
اس کی آنکھیں بے حد لال تھیں جبکہ سیاہ بال کو اونچے جوڑے کی شکل میں لپیٹا ہوا تھا ۔ پیچھے سے ایک لڑکی آئی اور اس کے پیچھے سے جوڑے کو کھولا
اس کے لمبے بال کھل کر زمین میں آچُکے تھے ۔
اس لڑکی نے ہاتھ بڑھا کر برش اُٹھایا اور اس کے سیاہ لمبے بالوں پہ کنگھی کرنے لگی پھر اس کو دیکھ کر گویا ہوئی تو کا لہجہ نفرت اور حقارت سے بھرپور تھا ۔
"اگر رہائی چاہتی ہو تو ہمارا کام کرنا ہوگا تمھیں ۔”
پرمیس کے پیروں میں زنجیر باندھی گئی تھی ۔ اس کا سر جھکا ہوا تھا وہ سامنے بے بسی کا مجسمہ بنی ان کے حُکم کی منتظر تھی ۔
"کسی بھی طرح تمھیں اس کا کو بون میرو لانا ہوگا ۔ اب یہ تم پر ہے کہ تم کیسے لاتی ہو ۔”
وہ اس عورت کی کنگھی کررہی تھی ساتھ میں پرمیس کو دیکھ کر ایک ایک لفظ کو آئستگی سے ادا کررہی تھی ۔ آس پاس کی کھڑکھیاں کھلی ہوئی تھی وہاں تیزی ہوائیں اور سور کی آوازیں آرہی تھیں ۔اس کی آوازوں سے چیر پہ بیٹھی عورت کے دل میں عجیب سا سکون پھیلتا جارہا تھا مگر آنکھوں کی تپش اب بھی برقرار تھی جیسے یہ آواز وہ ان جانوروں کی نہیں بلکہ کسی اور کے حلق سے سُنا چاہتی تھی اور یہ آواز کسی ذبع ہوے وے تڑپنے ہوے جانور کی طرح ہو ۔
"اور ہاں کوشش کرنا اس کے ناخن کا ایک ٹکڑا بھی لے آنا اور جہاں تک ممکن ہوسکے اس جنزادے کی غیر موجودگی میں ہو اگر ایسا ہوا تو سزا کے لئے تیار رہنا ۔”
"جی ۔”
پرمیس کی مری مری سے آواز نکلی ۔
"شاباش ! یہ سب تیس مئی سے پہلے ہوجانا چاہئیے یعنی کے دو ہفتے ہے تمھارے پاس یہ کام کرو پھر تو ہماری رہاہیں آسان ہوجائے گی ۔”
اس کی لڑکی کی بات پر چیر پہ بیٹھی عورت کے لال آنکھوں میں عجیب سی چمک آگئی تھی اور اس چمک میں ایک انتظار تھا وہ دعا کررہی تھی کہ کب وہ پل آئے اور کب وہ ہما زولفقار کا آخری پل انجوائی کرے
جاری ہے

Related Articles

جواب دیں

Back to top button
تفکر ڈاٹ کام
situs judi online terpercaya idn poker AgenCuan merupakan salah satu situs slot gacor uang asli yang menggunakan deposit via ovo 10 ribu, untuk link daftar bisa klik http://faculty.washington.edu/sburden/avm/slot-dana/