بلیک روز سمرین شاہ قسط نمبر 40 "یہ آپ لوگو…

???? سمرین شاہ
???? قسط نمبر 40
"یہ آپ لوگوں نے کیا کمرے کا حشر کیا ہے ؟۔ ”
اس کے الفاظ میں اپنایت بھری خفگی تھی مگر لہجہ ! الفاظ لہجے ایک دوسرے کا ساتھ نہیں دے رہے تھے ۔
زلنین نے اسے غور سے دیکھا ہما کے بشاش چہرے میں چھپا ایک اضطراب تھا ، ایک زبردستی تھی جیسے وہ یہ سب کرنے پہ مجبور تھی لیکن وہ ایسا کیوں کررہی تھی کل تک جو لڑکی اس سے نفرت کا اظہار کررہی تھی آج اتنا نارمل ۔وہ جزلان کو چھوڑ کر آگئے بڑھا اور اس کا ہاتھ پکڑا ۔
اس نے ہما کو اس ہاتھ پر خود کو ہولے سے اچھلتے ہوے دیکھا پھر اس نے بر وقت خود کو سنبھال لیا اور مضبوط لہجے میں بولی ۔
"چلے !۔”
زلنین ایک لمحے اسے دیکھتا رہا پھر اس نے جزلان کو سگنل دیا جزلان سمجھ گیا اور چل پڑا اور ان کے سائڈ پہ گزرا ۔زلنین نے اب تک اس کا ہاتھ تھاما ہوا تھا ۔
"زلنین آپ ہاتھ چھوڑ سکتے ۔”
اب اس آپ کا لفظ ہضم نہیں ہوا تھا ۔
"آپ ! ۔”
اس نے ہولے سے دہرا کر کنفرم کرنا چاہا کہ آیا اس نے یہی کہا ہے ۔
"یہ عزت ، یہ نارمل روایہ کہی یہ میری محبت کہ بدولت تو نہیں کس میں اتنی طاقت تھی کہ تمھاری آنکھیں دماغ بلا آخر کھول اُٹھیں ۔”
"ایسا کچھ نہیں ہے ۔”
وہ اس کے مسرت بھرے لہجے پر چبا کر بولی ، زلنین نے چیک کرنے کے لئے اس کی کمر میں ہاتھ ڈالا اور اسے اپنے ساتھ لگایا اب تو ہما کو واضع طور پہ جھٹکا لگا تھا زلنین اس کے کانوں کے قریب جھک کر بولا ۔
"مگر یہ دھکڑنیں یہ آنکھیں میرا ہی کیوں نام لئے رہی ہیں ۔”
حالانکہ ایسا کچھ نہیں تھا مگر وہ اسے ٹیسٹ کررہا تھا آخر پتا تو چلا یہ ہما ہی ہے یا اس کے پیچھے بہروپیا ۔
"تمھیں غلط فہمی ہے ۔”
اس کی قربت میں ہما کے تو پیسنے چھوٹ گئے تھے ۔ وہ جلد از جلد اس کی گرفت میں نکلنا چاہتی تھی ۔ زلنین نے گرفت مزید مضبوط کی ۔
"اتنی حسین غلط فہمی کی وجہ تو آپ ہی بتائیں گی مسز زلنین ذولفقار ۔”
لہجہ میں بھرپور شرارت تھی ۔
ہما نے سر اُٹھا کر اسے دیکھا اور آنکھوں کی تپش سے بلا آخر پتا چل گیا کہ وہ ہما ہے ۔اس نے گرفت ڈھیلی کر کے اسے چھوڑ دیا اور پھر اس کے کپڑوں کا جائزہ لینے لگا ۔دیکھنے کے انداز سے ہما کو پتا چلا کے وہ اس کا تنقیدی جائزہ لئے رہا ہے جیسے اس کو اس کے حلیے سے اعتراض تھا مگر وہ تاثر سمجھ نہیں پارہی تھی آیا یہی بات ہے کہ کچھ اور ۔۔۔
"ہما تم نے کیا کل رات کو اپنے امی کو خواب میں دیکھا تھا اس کی بات پہ ہما ایک دم سے ساکت ہوگی ۔
•••••••••••
وہ سوئے وی تھی جب اسے اپنے بالوں پہ نرم ، مہربان لمس محسوس ہوا پہلے تو اس کو اپنا وہم لگا مگر جب جانا پہچانی انگلیاں جب پیار سے اس کے بال سہلانے لگی تو ایک دم اس کی آنکھیں کھلی اور ایک دم سے وہ اُٹھی ۔
"امی ! ۔”
اس نے اردگرد دیکھتے ہوے کہا
پھر اپنے دھڑکتے دل کے ساتھ لیٹنے لگی ، جب کسی کی آواز پر ایک دم اچھل پڑی ۔
بستر سے اُتر کر اس نے سپلرز پہنے اسے لگا جیسے امی یہی کہی ہے ۔
"امی ! ۔”
وہ اب انھیں بے قراری سے پکارنے لگی تھی ۔
"کدھر ہیں آپ ۔”
وہ اب دروازہ کھول کر باہر آگئی تھی ۔ آواز ایک بار ہی آئی تھی لیکن ہما کو ایسا لگ رہا تھا جیسے ہر طرف امی کی ہی آوازیں ہیں ، امی اس کے آس پاس ہی ہے ۔
وہ اس وقت حواسوں میں نہیں تھی پھر وہ ایک دم رُک گئی سیڑھیوں کے قریب اسے ہیولہ نظر آیا جو ایک ہی جگہ کھڑا شاہد اس کے منتظر تھا ۔ ہما دیوار کے روشنی سے اس کا ہاتھوں میں موجود خنجر تھا ۔اس کا ہیولہ نظر آرہا تھا مگر دوسری طرف کوئی بھی نہیں تھا ۔
تھوڑی دیر وہ خوف کے مارے کھڑی پھر اپنا ہمیشہ کی طرح وہم گردانتے ہوے وہ کلمہ پڑھ کر آہستہ قدم اُٹھانے لگی ، ہیولہ اب بھی موجود تھا۔
اس نے سوچا کہ کچھ اس کے ہاتھ میں ہوتا جس سے وہ اس پر اٹیک کرتی مگر کچھ بھی نہیں تھا ۔
بے بسی کے مارے اس کے چہرے پہ ٹھنڈی پسینے آگئے تھے ۔
بلا آخر پہنچ گئی تو وہاں ہیولہ یہ دم غائب ہوگیا تھا اور وہاں کوئی نہیں تھا دیکھا وہم تھا ۔
پھر وہ مڑنے لگی جب اسے کسی کی رونے کی آواز آئی
پھر اس نے سامنے بیسمنٹ کے دروازے کو کھلے دیکھا یہ ہمیشہ کھلا کیوں پایا جاتا اور وہ بھی رات کے اس پہر ۔اب وہ سوچ رہی تھی کہ بائیں جانب آتی روتی ہوئی آواز کا تعاقب کرے یا سامنے کھلے دروازے کی طرف بڑھے ۔ سوچنے کی ضرورت نہیں تھی دروازہ اتنی زور سے بند ہوا جیسے کسی نے تیش کے مارے زور سے دروازہ توڑنے کی کوشش کی تھی ۔
"یا اللہ !۔”
وہ تیزی سے رونے کی آواز کا تعاقب کرنے لگی آواز آس پاس کے ڈرائینگ روم سے آرہی تھی اس نے اندر آکر دیکھا کوئی سفید لباس میں کسی شخص کے گھٹنے میں سر دیے رورہی تھی ۔
"ابو ! ابو پلیز یہ ظلم نہ کرے ابو ۔۔”
نسوانی آواز جب ہما کے کانوں کو ٹکرائی تو خاصا جانی پہچانی تھی اسے کیوں لگ رہا تھا جیسے یہ آواز اس سے ملتی جلتی سامنے شخص کا سر جھکا ہوا تھا ورنہ وہ انھیں پہچان لیتی ۔
آگئے بڑھ کر وہ ان کے قریب پہنچی تاکہ ان کی آواز ان کا اندھیرے میں چھپا منہ دیکھ سکے مگر ناکام رہی بلا آخر وہ تھک کر چیخ پڑی ۔
"آپ لوگ کون ہے کیا چاہتے ہیں کیوں میری زندگی اجیرن کردی ہے پلیز یہ ختم کرے عذاب ۔”
مگر ہما کو لگا اس کسی نے سُنا نہیں ۔
"کون ہیں آپ ۔”
ایک دم اس عورت کا سر اُٹھا پھر پھر ہما کی چیخ حلق میں اٹک گئی ، سانسیں تھم سے گئی اس عورت کو منہ مڑا تھا مگر جسم وہی تھا ۔ اس عورت کو چہرہ اتنا خوفناک تھا کہ ہما نے زور سے آنکھیں میچ لی تھی اس کے باوجود وہ چہرہ اس کی آنکھوں کے سامنے آرہا تھا ۔
ایک طرف گوشت لٹکا ہوا تھا جبکہ دوسری طرف سفید آنکھ تھی جس کے کون سے خون ٹپک رہا تھا دائیں جانب کے چہرے پہ خراش اور کٹس لگے ہوے تھے اور کالے بال نے چہرے کو مزید خوف ناک بنا دیا ۔
ہما نے دوبارہ آنکھیں کھول کر بھاگنے چاہا تھا کہ وہ عورت اس پر جھپٹ پڑی تھی اور اپنے نوکیلے ناخنوں سے اس کے گردن کو دبوچ کر دیوار کے ساتھ لگا دیا اور اپنا خوف ناک چہرہ ہما کے قریب کیا ۔
"اک مر گئی تھی دوسری کو ضرور آنا تھا کیوں آئی ہو تم یہاں ۔”
اس کی چڑیلوں جیسے چیخ ہما کے کانوں میں پگھلا ہوا سیسہ ثابت ہوئی ۔
اس کے سیاہ لکڑی جیسے ہاتھوں کو ہما نے ہٹانا چاہا مگر گرفت سخت سے سخت ہوتی جارہی تھی ہما کو لگا وہ اگلا سانس نہیں لے پائی گی ۔ اس نے دل میں آیت الکرسی پڑھنا شروع کردی اور پھر اس پر پھونک مارنے لگی اس کلام میں اتنی طاقت تھی کہ وہ سیدھا دور جاکر کھڑکھی پہ جاکر لگی ہما نے اپنے گردن کو پکڑ کر لمبے لمبے سانس لئے اور کچن کی طرف بڑھی ۔
اس نے دیکھا کہ کسی فورس نے اس بھی پیچھے مین ڈور پہ جاکر پھینکا اس کا سر زور سے جاکر دروازے پہ لگا اور وہ منہ کے بل نیچے گری کہرا کر اس نے اللہ کو پکارا۔
سر اُٹھا کر دیکھا تو ایک بھاری بوٹ اس کی طرف آرہے تھے اس نے سر تھام کر مزید اوپر دیکھنا چاہا ۔
"فائق اور شفق کی ایک اکلوتی نیشانی تتتت ۔۔۔”
کوئی کہتے ہوے بھاری گھمبیر آواز میں ہنسا تھا ۔
"ککک کون ہو تم ؟۔”
ہما نے آٹک کر ہر اک لفظ کو ادا کیا ۔
"یہ جانا ضروری نہیں ہے ، یہ بتاو تم یہاں کیا کررہی ہو کیوں آئی ہو کیا اپنے ماں باپ کا بدلا لینے ۔”
بوٹ نظر آرہے تھے مگر چہرے اور جسم کہی بھی نہیں تھا ۔
"کون باپ ؟ ۔”
ہما نے اتنا کہا تھا اور زور دار تھپڑ اس کے چہرے پہ پڑا تھا ۔وہ چیخ پڑی پھر اپنے جلتے گال کو جیسے تھاما تو ساکت رہ گئی یہ ہاتھ تو بالکل زلنین جیسے لگ رہے تھے اس نے بھی ایسے انداز میں مارا تھا کیا یہ زلنین ۔
"زلنین ! زلنین کیا یہ تم ہو دیکھو زلنین میرے ساتھ یہ کھیل مت کھیلو میں بڑی سادی سے لڑکی سادی سے زندگی گزارنا چاہتی ۔۔۔۔۔۔۔
ایک دم سے اس کی بھرائی آواز پر قہقہ گونج اُٹھا ۔
"ایکٹنگ کتنی بیکار کرتی ہو ، خیر اگر تمھیں نہیں پتا تو کوئی نہیں ہم بتادیتے ہیں ویسے بھی تمھاری ماں ایسی ۔۔۔۔۔”
"بکواس بند کرو اپنی تم جو کوئی بھی ہو اگر تم نے میری ماں کے بارے میں کچھ بھی کہا تو مجھ سے بُرا کوئی نہیں ہوگا ۔”
اب کی بار ہما دھاڑ اُٹھی ۔وہاں خاموشی چھا گئی تھی ۔
"اچھا تو اتنی شریف زادی تو ایک قاتل کے ساتھ اس نے کیوں ماں باپ کی مخالفت لے کر بھاگ کے شادی کی ۔”
اب ہما کو سناٹے میں جانے کی باری تھی ۔
"اس کے بعد اس کے ساتھ پانچ دن گزار کر ماں باپ کے پاس آئی تو ماں باپ نے رُخ پھیر لیا ۔”
"اور پھر تمھاری نانی کسی پلان کے تحت کسی کالا جادو کے چکر میں پڑ گئی اس نے شفق کو فائیق سے الگ کیا اور بلا آخر وہ ایک مہینے کے اندر کامیاب ہوگی ۔”
"تمھاری ماں روتی رہی پٹتی رہی مگر ماں باپ بے رحم ہوگیں انھوں نے تمھاری ماں کا نکاح کسی امیر زادے ریحان سے کردیا جو امریکہ میں تھا سوچ سکتی ہو تمھاری نیک زادی نانو اللہ کرتی پھرتی اس نے نکاح کے اوپر نکاح پڑھایا اس نے کتنا بڑا گناہ کیا اوپر سے تمھاری پریگنیٹ ہوگی اس نے کہا یہ بچہ فائیق کا ہے مگر کوئی سُنتا نہیں تمھارا سوتیلا باپ مارتا تھا پاگل سمجھتا تھا اور تمھاری نانی چُپ چاپ تماشہ دیکھتی رہی ۔۔۔۔۔۔ کتنی معصوم ہو دھوکے میں رکھا تم جیسی بیچاری کو تتت ۔۔۔۔”
ہما کو لگا جیسے وہ ختم ہوجائے گی یہ کیا کہا ہے انھوں نے کیا مما نے ایسا کیا ، ماما ایسا کرسکتی ہیں اور نانو ۔۔۔ مما نے تو چلو ماں باپ کو دُکھ دینے کا گناہ ان سے سرزد ہوا تھا مگر نانو ۔۔۔
"آپ کون ہو ، یہ سب کیسے جانتے ہو ۔”
مگر وہاں اب خاموشی چھا چکی تھی ہما نے اُٹھ کر اس سمیت جانا چاہا جب سامنے پڑی کسی کی لاش دیکھ کر وہ چیخی تو اس کی آنکھ کھل پڑی اس نے اُٹھ کر دیکھا وہ بستر پر تھی ۔
•••••••••••••
اُٹھی تو دیکھا صبح کی ہلکی ہلکی کرن کمرے میں پڑ رہی تھی ۔ اپنے پیسنے سے شرابو چہرے کو صاف کرتی کمبل ہٹایا ، سخت گھبراہٹ محسوس ہورہی تھی ۔
اس نے سر تھام کر اپنے خواب کو سوچا یہ سب کیا تھا
کیا کوئی بندہ اسے بتانے آیا تھا جو سچ وہ ڈھونڈنا چارہی تھی تو کیا اس کا جواب اسے دے دیا گیا تھا ۔
اسے کچھ سمجھ میں نہیں آرہی تھی کسی کا کندھا اسے محسوس ہوا تو وہ تیزی سے اُٹھ کر چیخنے لگی تھی کہ امی کو دیکھ کر وہ ٹہر گئی
"امی ۔”
امی سفید جوڑے میں کوئی پری لگ رہی تھی اور وہ مسکراتے ہوے ہما کو ممتا بھری نظروں سے دیکھ رہی تھی ۔ ہما انھیں دیکھنے کے بعد ایک لمحا نہیں لگایا تھا امی کے ساتھ لپٹنے میں پھر وہ پھوٹ پھوٹ کر رونے لگی ۔
"امی آپ کہاں چلی گئی ہیں ، آپ نے اپنی بیٹی کو کس بے حس اور ظالم دُنیا میں پھینک دیا ہے ۔ میں بالکل اکیلی ہوگی ہوں کوئی میرا نہیں کوئی اپنا نہیں ہے میرا ۔۔۔ ایک آپ تھیں ، آپ جنھوں نے مجھ سے سچی محبت کیں ورنہ یہاں تو ہر کوئی مجھ نفرت کی نگاہ سے دیکھتا ہے ۔امی مجھے اپنے ساتھ لے جائے میں یہاں نہیں رہ سکتی ۔ آپ کی بیٹی برباد ہوجائے گی ختم ہوجائے گی امی ۔۔۔۔”
اس کا بس نے چل رہا تھا ماں کی مہربان گود میں خود کو چھپا لے جبکہ شفق نے اس کے گرد بازوں پھیلا کر اس کے سر پہ محبت بھرا بوسہ دیا ۔
"بس میری جان ، مت رو میری اتنی بریو ہما رو رہی ہے تو مجھے تکلیف ہورہی ہے پلیز اپنی مما کو تکلیف نہ دو ایک تم ہی تو ہے جو مجھ سے اتنا پیار کرتی ہو میری چھوٹی سی تکلیف پہ تڑپ جاتی تھی ورنہ اس پاگل عورت سے کون محبت کرتا ہے ۔”
ہما نے اپنا گیلا چہرہ اُٹھا کر ماں کو دیکھا جہاں نور کے سوا کچھ نہیں پھوٹ رہا تھا اس نے عقیدت سے ماں کے ہاتھ چوم لئے اور آہستہ سے بولی ۔
"امی ۔۔۔”
"شش میری جان مجھے بولنے دو تم کہتی ہو تمھارا کوئی نہیں ہے ایسا کیوں کہتی ہو سب سے بڑی ذات وہ رب ہے جس نے تمھیں بنایا وہ پوری جہاں کا مالک وہ جو شہہ رگ سے بھی زیادہ قریب ہے اپنے بندے کے تو اپنے آپ کو کیوں اکیلی سمجھتی ہو ، دوسرا تمھارا شوہر’ تم سے بے انتہا محبت کرنے والا پیارا شخص
تم اس سے کیوں اتنی بدتمیزی سے پیش آتی جس انسان نے تم سہارا دے کر زمانے کی سرد گرم سے بچایا اس سے یہ برتاؤ ! ہما سوچو اگر وہ نہ آتا تو تم میری بچی تم برباد ہوجاتی سوچو نہ ہما اس وقت تمھارے بابا آئیں تھے ، اس وقت تمھارے نانو آئیں تھیں ، کیا اس وقت کوئی بھی ایسا شخص آیا تھا جسے تم زلنین سے زیادہ مخلص سمجھتی ہو نہیں میری جان صرف اور صرف زلنین آیا تھا تمھارا زلنین
تمھاری آدھی سے زیادہ پریشانیاں تب حل ہونگی جب تم زلنین سے صلاح کرو گی اور ہر کسی بھی بھروسہ کرنا ٹھیک نہیں ہے میری بچی یہ دُنیا بڑی ظالم ہے ۔”
ہما نے ان کی بات پہ خاموشی سے دیکھا دیکھا پھر
اس کے لب پلے تو کانپ اُٹھے ۔
"امی میں کون سا یہ سب خوشی سے کررہی ہوں ،میں اس شخص کو بے انتہا چاہتی ہوں اور اس کے بغیر زندگی میری سانسیں روک دیتی ہے ۔ عجیب بات ہے نا امی مگر امی جب انسان کا اس شخص پہ مان فوت جائے جو اسے اس پر تھا تو دراصل وہ ٹوٹ جاتا تو امی آپ کی بیٹی ٹوٹ گئی ہے اور وہ شخص مجھے سمجھ نہیں آرہی اسے کیا ہوا کھبی سختی سے پیش آتا ، کھبی سراپا محبت ہوتا ، کھبی ایسی بیگانگی برتا ہے ، تو کھبی میری پانچ منٹ کی غیر موجودگی میں پاگل ہوجاتا ہے اور یہ ممی تب سے ہوا جب سی وہ بیمار ہوا ہے ۔ امی میں نے دوہری شخصیت کے شخص سے تو محبت نہیں کی تھی ۔ میں نے وہ صاف ، مہربان دل جس میں خلوص اور سچائی کے علاوہ میں نے کچھ نہیں پایا تھا ۔ امی اگر یہ سب نہ ہوتا تو میں یہ بات کہتی کہ اس جیسا شخص کوئی نہیں مگر وہ تو اک عام مرد نکلا اور اس کے عام نکلنے پر میرا دل روتا ہے ۔”
امی نے اس کی بات پر اس کے چہرے پہ پیار کیا پھر گویا ہوئی ۔
"ہما زندگی میں ہمیشہ تصویر کے دو رُخ ہوتے ہیں ۔ آپ کو لگتا ہے یہ سب سے اچھا انسان ہے درحقیقت وہ بُرائی کا بادشاہ ہوتا ہے تو کھبی آپ کسی انسان کی ایک غلطی کو دیکھ کر بُرا جان لیتے ہو پر اس میں ساری اچھایاں بھری ہوتی ہے مگر وہ ظاہر کرنا پسند نہیں کرتا ۔ اب زلنین کی بات تم نے کہا نا وہ اندر سے ویسا ہی تھا جیسے وہ باہر تھا تو وہ اب بھی ویسا ہے
مگر تمھارے ساتھ ساتھ اس کی بھی مشکل کی گھڑی چل رہی ہے اور ہما ہم سب سے زیادہ تم اسے اچھی طرح سمجھتی تو دوسرا کہتی ہو تمھیں اس سے محبت ہے ۔ محبت تو کوئی عیب نہیں دیکھتی مگر تم ۔۔۔۔۔
ہما کی آنکھیں یک ٹک انھیں ہی دیکھتی جارہی تھیں ۔
ان کی باتوں میں کتنا سکون تھا بلکہ جادو تھا اور وہ ان کی باتوں کے سحر میں جکھڑی جارہی تھی ۔
"اب جس طرح چل رہا ہے چلنے دو ۔ کھبی کبھار جو چیز آپ کے بس میں نہیں ہوتی تو اسے اللہ پہ چھوڑ دینا چاہیے ۔تم بھی ایسے کرو اور اس رشتے کو ایکسپٹ کرو جانتی شروع میں مشکل ہوگا مگر خاموشی اور تعبداری کو فل حال اپنی طاقت جانو یہ سب تمھاری نفرت کو طاقت بنا رہے ہیں ۔ میرا چندا جن لوگوں سے میں ہاری ہوں ۔ تم نے نہیں ہارنا کیونکہ تم ہما زلنین ہو شفق فہیم نہیں ۔
اس کے بعد امی کہی غائب ہوگیا ۔
"امی ! ، امی ! ۔”
ہما ان کو پاگلوں کی طرح پکارنے لگی پھر جب اس کی آنکھیں کھلی تو وہ بستر پہ تھا ۔ پچھلے خواب کی طرح کمرے میں روشنی پھیلی ہوئی تھی ۔ اسے لگا وہ پھر خواب دیکھ رہی ہے مگر جب احساس ہوا وہ اب واقعی جاگ چکی ہے تو بستر سے اُٹھی ۔ اس نے دیکھا اس کو ٹیبل پہ پڑا فون چمک رہا تھا اس نے اُٹھا کر دیکھا زلنین کو مسیج تھا ۔ وہ اسے اپنے گھر بلا رہا تھا ۔
پہلے سوچا کہ وہ نہ جائے مگر اب وہ لیٹ ہوجائے گی دوسرا امی کی بات زہن میں گونج رہی تھی ۔ اب اسے بار سچ مچ اللہ پہ چھوڑ کر وہ اُٹھ کر تیار ہونے لگی ۔
••••••••••••••
"تو تمھیں کیسے پتا ۔۔۔۔”
ہما اس کے درست اندازے پر بونچھکا گئی ۔
زلنین نے اپنے لب دبائے ۔کیا کرے اسے کیا بتادیے ۔نہیں!
"تمھارے اسے رویے سے مجھے لگا ، اصل میں میری امی بھی میرے خواب میں آکر نصیحت کرتی تھیں اور میں ان کی باتیں سُن کر جب خواب سے اُٹھتا تو ان کی باتوں پہ عمل کرتا ۔ ایسا تمھارا لگا مجھے شاہد خیر اگر کچھ چیزوں آپ سے نہیں ہوتی تو اسے کوشش نہیں کرنا چاہیے میری موجودگی میں ان ایزی فیل کرتی ہو تو ۔۔۔۔
"نہیں ! ایسی کوئی بات نہیں ہے ، میں آپ کو قبول کرلیا ہے بس یہ سب اوکورڈ لگ رہا ہے ۔۔۔
زلنین نے اس کی بات کاٹ کر اس کے گال تھپ تھپائے پھر نرم لہجے میں بولا ۔
"جانتا ہوں مجھے بھی ایسا لگ رہا ہے سو بہتر ہے ہم سب کچھ شروع سے سٹارٹ کرے نکاح بیشک ہوگیا ہے مگر ہم ایک دوسرے کے ویسے ہی پرانے دوست بنا ہے ، ایک دوسرے میں انڈرسٹینڈک پیدا کرنی ہے کہ چاہیے کوئی بھی برابلم آئیں ہمارے میں کوئی ٹرسٹ ایشو نہ ہو آج سے ہم ہسبینڈ اینڈ وائف کے بجائے صرف پرانے دوست جیسے ہم ہوا کرتے تھے شاہد چیزیں بہتر ہونا شروع ہوجائے ۔”
ہما اس کو خوبصورت چہرہ دیکھتی جہاں وہی اس کا دوست زلنین آگیا تھا شاہد چیزیں ٹھیک ہوجائے گی امی نے صحیح کہا تھا چیزیں بہتر ہوجاتی ہیں اگر اسے اللہ پہ چھوڑ دیا جائے ۔اس نے سر آہستگی سے سر ہلایا زلنین کے چہرے پہ مسکراہٹ آگئی ۔اس نے ہاتھ آگئے کیا ۔
"ہائی میں ہوں زلنین زولفقار ، ایسی پی جسے آپ چھچھوڑا بھی کہتی ہیں ۔”
اس کے ویسے ہی لہجے پہ ہما کی چہرے پہ بھی تبسم پھیل گیا ۔اس نے ہاتھ آگئے کر کے اس سے ملایا ۔
"ہما ! ۔”
"پورا نام پلیز ۔۔۔۔۔”
وہ شرارت سے گویا ہوا ۔ اب ہما ٹہر گئی ۔
"تمھارا سوتیلا باپ ریحان ! ۔”
"تم فائیق کی بیٹی ہوں ۔”
"تمھاری ماں بھاگ گئی تھی ۔”
"تمھاری نانو نے ظلم کیا تھا ۔”
ایک دم ساری آوازیں اس کانوں میں آنے لگی تھی ۔
ایک دم اس نے سر جھٹک کر کہا ۔
"ہما شفق ۔”
ہاں وہ ماما کی بیٹی تھی اسے فل حال دوسرے نام کی کوئی ضرورت نہیں تھی ۔
زلنین نے اسے رُک کر دیکھا پھر مسکرا کر اس کا ہاتھ چھوڑا ۔
"تو مس ہما شفق کلاس کے لئے دیر ہورہی ہے چلے ۔”
ہما نے سر ہلایا زلنین ہنس پڑا ۔ہما نے دیکھا تو اس کی آنکھوں میں نا سمجھی کا تاثر تھا ۔
"مجھے یہ سب اوکورڈ لگ رہا ہے ۔”
وہ اس کے ساتھ چلتے ہوے باہر آیا تو بولا ہم کچھ کہنے لگی تھی جب پھوپھو کشف کے سامنے آنے پر زلنین کا چہرہ سفید ہوگیا ۔
"او تو یہ ہے تمھاری دوست ۔”
وہ اس کا سرتاپا جائزہ لیتے ہوے زلنین کو دیکھتے ہوے زہریلی مسکراہٹ سے بولی ۔
ہما نے انھیں اور پھر زلنین کو دیکھا ۔
"زلنین یہ ۔۔۔”
"میں اس کی پھوپھو اور ہونے والی ساس کیوں زلنین تم نے اپنی دوست کو بتایا نہیں ۔”
اس کی بات پر زلنین کا دل کیا اپنی پھوپھو کو شوٹ کردے
جاری ہے


