مختصر کہانیاں

بلیک روز سمرین شاہ قسط نمبر 39 ہاپسیٹل کے …

???? بلیک روز
???? سمرین شاہ
???? قسط نمبر 39

ہاپسیٹل کے لابی میں وہ سر جھکائے بیٹھی ہوی تھی ۔
اس وقت رات کا پہر تھا تو لابی میں اِکا دُکا افراد تھے ۔
بابا ذولفقار انکل کے ساتھ باہر ہاسپیٹل کے لان میں موجود تھے اور ان کو تسلی دے رہے تھے ۔ ڈاکٹرز کا کہنا ہے ان کی حالت تفتیش ناک ہے امی کو ہارٹ اٹیک ہوا تھا ۔ تکلیف کے باعث وہ منہ سے کچھ بول نہ سکی تھی اور ہمت کر کے کچن سے باہر جانے کی کوشش کرنے لگی مگر وہ زمین بوس ہوچکی تھی جس سے ان کا سر پھٹ کر مزید حالت تفتیش ناک بنا چکا تھا ۔
ڈاکٹرز نا اُمید نظر آرہے تھے اور شفق اور بابا کے اندر گہرا سناٹا چھا گیا ۔ اپنی عزیز ہستی کو خود سے دور ہونے کا سوچ کر ہی ان کی حالت خراب ہورہی تھی ۔ وہ کسی بھی حال میں انھیں خود سے جدا ہونے کا تصور نہیں کر سکتے تھے ۔
وہ چہرہ ہاتھوں میں چھپائے سسک رہی تھی ۔ خاموش لابی میں اس کی سسکی باخوبی سُنائی دے رہی تھی ۔
ایک دم کسی کا بھاری ہاتھ اسے اپنے کندھے پہ محسوس ہوا چونکتے ہوے سر اُٹھا کر دیکھا تو فائق کو دیکھ کر اسے مزید رونا آگیا ۔
فائق پریشانی سے اسے دیکھ رہا تھا ۔ اسے جیسے شفق کے آنسو برداشت نہیں ہورہے تھے ۔
"فائیق امی ! ۔۔۔۔”
"وہ ٹھیک ہوجائے گی ڈاکٹرز پُر امید ہیں پلیز رو تو نا ۔”
اس نے شفق کا ہاتھ پکڑتے ہوے اسے تسلی دی ۔
"بیشک وہ ڈانٹتی ہیں، ٹوکتی ہیں ،ہر اس چیز سے منع کرتی ہے جو میری خواہش ہوتی ہے مجھے وہ کھبی کبھار بہت بُری لگتی ہیں کہ میں ان کی اکلوتی اولاد ہوکر بھی اس پیار اور توجہ سے محروم ہوں جو اکلوتے بچوں کا ملا کرتی ہے مگر اب امی کو اس طرح دیکھ کر مجھے احساس ہوا میں ان سے کتنا پیار کرتی ہوں ۔ میری سانسیں جیسے اکھڑنے لگی ہیں یہ سوچ کر کہ ان کو کچھ ہو نہ جائے فائیق اگر وہ نہ رہی تو میں کیا کروں گی ۔ میں تو ان کی ڈانٹ اور روک ٹوک کی اتنی عادی ہوں کہ ایک دن اگر وہ مجھے نہ سمجھائے تو مجھے جھنجھلاہٹ سے ہوتی ہے ۔ وہ ٹھیک تو ہوجائے گیں نا؟۔
کھوے ہوے لہجے میں کہتے ہوے وہ ایک بار پھر روتے ہوے فائیق سے بولی ۔
فائق نے اسے کو ہاتھوں کو زور سے دبایا انداز تسلی دینے والا تھا مگر منہ سے کچھ نہ بولا کیونکہ یہ صورت حال اس کے لئے نئی تھی ایسے میں اسے سمجھ نہیں آرہی تھی وہ کیا کرے ۔
اس نے فائیق کی گرفت سے اپنا ہاتھ چھڑایا اور اپنا چہرہ صاف کرتے ہوے پھر جھک زمین کو گھورنے لگی تھی ۔
فائق جو اس کے لیے پانی کی بوتل لایا تھا اسے اُٹھا کر اسے سامنے کرتے ہوے بولا ۔
"یہ لو تمھارے رونے سے پتا چل رہا تھا ۔ تم نے اپنا گلا خشک کردیا تھوڑی ہمت کرو ۔ مجھے معلوم ہے کہ تمھاری ممی کرٹیکل کنڈیشن میں ہیں مگر تمھیں سٹرونگ بنا ہے اپنے لئے بھی اور اپنے کے لئے بھی ۔”
وہ خاموشی سے سر جھکائے آنسو بہاتی رہی اور وہ مزید بات جاری کرتے ہوے بولا ۔
"بابا بتارہے ہیں وہ بہت پریشان ہیں تم ان کو چل کر تسلی تو دوں بیشک ایک اچھے دوست سے زیادہ درد بانٹنے سے بہتر کوی نہیں ہوتا مگر میرا خیال ہے کہ ایک بیٹی سے زیادہ تسلی اور کوی نہیں دے سکتا ۔”
وہ خاموش ہوگیا ۔
"انھیں کیا تسلی دوں مجھے خود تسلی کی ضرورت ہے ۔”
وہ بھرائی آواز میں بولی ۔فائیق نے اس کے سر پہ ہاتھ کے کر تسلی دی ۔
"میں ہونا ! چلو یہ پانی پیو ، مجھ سے بات کرو خود کو بیٹر فیل کرو گی ۔”
شفق نے مڑ کر اسے دیکھا اور اُمید سے اسے بولی ۔
"وہ ٹھیک ہوجائے گی ۔”
اس نے ہلکی سی مسکراہٹ سے اپنی سنُہری آنکھوں سے اسے دیکھا اور مضبوط لہجے میں کہا ۔
شفق کے اندر اسے چار لفظوں سے اس کے اندر آسودگی سے پھیل گئی تھی وہ کیا تھا جس کے گرد وہ محفوظ کرتی ؟ جس کہ ہر لفظ میں سچائی کے سوا کچھ نہیں تھا اور جو اتنا شناسا لگتا جیسے وہ اسے برسوں پُرانے سے جانتی ہو جیسے وہ کسی طرح اس سے جڑی ہو مگر وہ پردہ ابھی اچاک نہیں ہوا تھا ۔
خاموشی سے وہ دونوں بیٹھے اپنی اپنی سوچ میں گُم تھیں ۔
•••••••
اس سلا کر وہ اب صوفے پہ بیٹھا تھا ۔
پُرسوچ نظریں ہما کی طرف تھی جو اب ہر چیز سے بے نیاز گہری نیند سو رہی تھی ۔
اسے سمجھ نہیں آرہی تھی کہ یہ آخر کون ہے ؟ کون ہے جو اس طرح ہما کو تڑپا رہا ہے آخر کیا چاہتا ہے ۔
اس کا کیا جواز ہے اس کے پیچھے جو کوی بھی ہے بہت گہری دشمنی نکال رہا ہے وہ سوچ میں گُم تھا اچانک ٹیرس سے آتی تیز متوجہ کردینے والی ہوا نے اسے چونکانے پہ مجبور کیا نظریں اچانک ٹیرس سے جاتے جاتے ہوے سیدھا زمین پہ پڑی شفق کی ٹوٹی ہوی تصویر پہ پڑی یہ اس کی جوانی کے ٹائم کی تصویر تھی ۔ اس نے وائٹ ٹاپ کے نیچے بروان سکرٹ پہنی ہوی ہاتھوں میں اس کی پرشین بلی تھی ۔
پیشانی اس کی بڑی سے بروان ہیٹ کے باعث چھپی ہوی تھی مگر وہ ان کی ہما جیسی کالی آنکھیں با خوبی دیکھ سکتا تھا ۔
ٹوٹے ہوے شیشے کی کرچی ہونے کے باوجود ہر نقش بالکل واضع ہورہے تھے ۔ زلنین کو لگا جیسے وہ تصویر اسی سے مخاطب ہے ۔ اسے کچھ کہنا چاہتی ہیں مگر کیا ؟ ۔
زلنین اُٹھا چل کر وہ اس تصویر کے پاس آیا اور اس جھکے کر اُٹھایا ۔
"مجھے ایسا کیوں لگ رہا ہے سارے سوالوں کے جواب آپ کے پاس ہیں ، سارے راز جو مجھ سمیت ہما کو نہیں معلوم وہ آپ کے اندر دفن ہیں ۔ یہ کیا ہورہا آپ کی کیے ہوی سزا آپ کی بیٹی کیوں جھیل رہی ہے وہ تو بہت معصوم ہے اس نے تو کسی کا کھبی بُرا نہیں چاہا ۔ مجھے اسے تکلیف میں دیکھ کر دُکھ ہوتا ہے ۔ آپ جانتی نہیں آپ سے بھی زیادہ تکلیف ۔ آپ بھی ان کی طرح بزدل نکلی آپ سارے خود غرض تھے سب کو اپنی پڑی ہوی تھی مجھے لگتا تھا آپ کم سے کم ان سے مختلف ہونگی مگر آپ کی وجہ صرف آپ کی وجہ سے میرے چاچو یہ سب قدم اُٹھانے پہ مجبور ہوے اور میں اپنے سب رشتے سے محروم ہوگیا مگر اب نہیں آپ کی وجہ سے میں اب کسی بھی قیمت میں ہما کو نہیں کھو سکتا ۔”
بولتے ہوے نمی ٹوٹ کر شفق کے تصویر پہ گری تھی ۔
ایک روشنی اک دم سے اس کے چہرے پہ پڑی تو وہ بے اختیار پیچھے ہٹا ۔
اس نے چہرے پہ ہاتھ رکھ دیکھنا چاہا مگر یہ خاصی تیز روشنی تھی ۔اس نے سنبھل کر اُٹھ کے دیکھنا چاہا تو اسے سفید لباس میں کوی نظر آئی اور وہ کوی اور نہیں شفق تھی ہما کی امی شفق ! ۔
••••••••••••••
زلنین حیرت سے انھیں دیکھ رہا تھا وہ اس وقت پورے سفید فراک میں ملبوس تھی جبکہ چہرے کے گرد سفید ڈوپٹے کے ہالے میں اسی سفیدی کا حصہ لگ رہی تھی ۔ ان کا چہرہ ایسا دمک رہا تھا کہ زلنین کو ان کی طرف دیکھنا بھی مشکل ہوگیا ۔انھوں نے اسے پھر اپنی بیٹی کو دیکھا جو بستر پہ دراز آنکھیں بند کیے کسی اور جہاں میں چلی گئی تھی ۔
وہ چل کر اس کی طرف آئی زلنین کو نجانے کیوں ان کے روپ میں ایک خطرہ معلوم ہوا وہ آگئے بڑھنے لگا جب ان کی نرم آواز پر رُک گیا ۔
"جانتی ہوں تم اسے میرے سے زیادہ چاہتے ہو مگر ایک ماں ہوں اور ماں کھبی بھی اپنی اولاد کو نقصان نہیں پہنچا سکتی ۔”
اور زلنین جہاں تھا وہی رُک گیا ۔
وہ چل کر اس کے پاس آئی اور اس کے سرہانے بیٹھ گئی اور اسے دیکھنے لگی جبکہ زلنین ان کی حرکت کو دیکھ رہا تھا اسے یقین نہیں آرہا تھا ایک جن ہوکر وہ اس معجزے پہ یقین نہیں رکھ سکتا تھا ۔ایسے کیسے ہوسکتا تھا پھر اس نے سوچا نانو بھی تو مری تھی تو پھر کیا یہ زندہ ہے ۔۔۔
سامنے بیٹھی شفق نے اس کی محویت توڑی ۔
"جانے والے کھبی واپس نہیں آتے زلنین اور میں اس دُنیا سے چلی گئی ہوں ۔ امی ابھی بھی اس دُنیا میں موجود ہیں اس لیے وہ تم سب کے آس پاس ہیں ۔”
زلنین کو جھٹکا لگا انھوں نے کیسے اس کی سوچ پڑھ لی ۔وہ ہما پہ نگاہیں رکھتے ہوے مزید بولی ۔
"میں صرف ایک سوچ ہوں ! یا کہہ سکتے ہیں ایک خواب جو صرف اپنے پیاروں کے پاس اسی کے ذریعے آسکتی ہوں مجھے حیرت سے کہنا پڑ رہا ہے کہ ان پیاروں میں تم بھی شامل ہو عجیب بات ہے نا جبکہ تم تو مجھ سے نفرت کرتے ہو مگر میری ذات کے حصے ہما سے اتنی شدید محبت کہ اس کو ہلکی سی بھی خراش آجائے تو تمھارا دل تکلیف سے بل بلا اُٹھتا ہے شروع میں مجھے لگا تم فائیق کی طرح ہو مگر میں غلط تھی ۔۔۔”
ایک دم خاموشی چھا گی اور زلنین ساکت کھڑا انھیں یک ٹک دیکھے جارہا تھا ۔
"میں غلط تھی تمھاری محبت فائیق جیسے نہیں فائیق میں بزدلی کے ساتھ ساتھ ایمان کی کمزوری بھی تھی
اور جس شخص کا ایمان کمزور ہو تو وہ سچی محبت کھبی اس کے مقدر میں لکھی نہیں جاتی اور فائیق کے ساتھ یہی ہوا اس نے محبت کا روگ لگا لیا مگر اللہ سے لو نہیں لگائی اللہ آزمائش ڈالتا ہی ان بندوں میں جن کو وہ چاہتا اور وہ فائیق کو چاہتے تھے مگر فائیق نے کیا کیا دُنیا کے ساتھ ساتھ اپنے خدا سے بھی منہ موڑ لیا مگر تم زلنین تم ہمیشہ ایسی رہنا مجھے بہت فخر ہے کہ تمھارے ساتھ اتنا ظلم ہوا تم اتنے تنہا ہوگے ۔ فائیق کی طرح تم نے ہر شخص سے منہ موڑ لیا مگر تم نے تم نے اللہ کو کھبی نہیں چھوڑا اور دیکھو اللہ نے تمھیں میری بیٹی سونپ دی ۔”
وہ ایک بار پھر رُکی اور زلنین کو لگا وہ اب سانس نہیں لے سکے گا ۔
"یہ تمھارا امتحان ہے زلنین اس میں تم نے کھبی نہیں ہارنا بلکہ اگلے کو ہرانا ہے بہت سے ایسے موقع آئے گے جس میں نا اُمیدی تمھارے دل میں ضرور آئے گی مگر زلنین تم فائیق نہیں ہو تم اپنے مضبوط ایمان سے اس جنگ میں فتاحع پاو گے ۔ بس اللہ پہ بھروسہ رکھنا وہ ان شا اللہ سب ٹھیک کردے گا جلدبازی نے ثابت قدمی سے کام لینا میری بیٹی کو ہر شر سے بچا کر رکھنا ۔ میری روح پُرسکون رہے گی ۔”
اور وہ ایک دم غائب ہوگی ۔
"آ آ شفق ، آنٹی ۔”
ایک دم اس کی آنکھیں کھلی اس نے خود کو ایک صوفے پہ نیم دراز پایا باہر ٹیرس سے تازہ دھوپ آرہی تھی جو اب اس کے پاؤں پہ پڑ رہی تھی ۔اس نے اپنی مندی ہوی آنکھوں سے اردگرد دیکھا تو ہما بستر پہ ابھی بھی موجود تھی اس نے مڑ کر اردگرد دیکھا وہ نہیں تھی وہ کیا تھی وہ کیسے آئی ابھی تو رات تھی اک دم سے صبح اس نے دیکھا تصویر ابھی بھی زمین پہ موجود تھی اور مسکراتی ہوی نگاہیں زلنین کی طرف جارہی تھی اور ان آنکھوں میں زلنین کو ایک اُمید نظر آئی وہی اُمید جو انھیں زلنین سی تھیں۔
زلنین اُٹھ کر تصویر کو اُٹھانے لگا پہ دل میں کچھ عہد کرتے ہوے وہاں سے غائب ہوگیا ۔
••••••••••
جزلان کچن میں بیٹھا اخبار پڑھ رہا تھا اس نے ابھی تھوڑی دیر پہلے اپنا ناشتہ مکمل کیا اور پھر وہی بیٹھ گیا ۔
وہ کچھ صفحے پلٹ رہا تھا کہ اچانک رُک گیا اس نے
جو خبر پڑھی اس کے تو اچھے خاصے حواس اُڑ گئے یہ کیا کیا کمینے نے ۔ ہاں وہ اسے یہی کہہ سکتا تھا وہ اسی لفظ کے مستحق تھا ۔
وہ پڑھ رہا تھا جب اس نے پھوپھا کشف کی آواز سُنی اس نے سر اُٹھایا پھوپھو کشف اس کے انداز سے چونک پڑی ۔
"کیا ہوا جازی یہ رنگ چونے کی طرح سفید کیوں ہوگیا تمھارا ۔”
"وہ وہ ۔۔۔۔۔”
وہ ہلکلایا ۔
"وہ وہ کیا لگا رکھی ہے بتاو اور یہ باقی سب کہاں ہے پرمیس مجھے کہی نظر نہیں آرہی ۔”
نہیں پھوپھو کو بتانا نہیں ہے ابھی اسے ڈیش زلنین کے بچے سے میں خود نپٹو گا ۔
"کچھ نہیں پھوپھو وہ کچھ میرے اپنے مسئلے آپ بتائیں آپ کب آئی ۔”
پھوپھو اسے مشکوک نظروں سے دیکھتی رہی پھر سرجھٹک کر بولیں ۔
"ہاں وہ کام میرا مکمل ہوگیا تھا اب تم سب کو میں نے خبر سُنانی تھی لیکن یہ سب سُنانے سے پہلے میں چاہتی ہوں کہ پرمیس اور زلنین کی شادی ہوجائے آج اسی سلسلے میں یہاں آئی کہ بابا سے بات کرلوں ۔”
اس کی بات پہ جزلان کا سر مزید گھوم گیا ۔
"کیا ؟۔”
اس کے چلا کر کہنے پر کشف جو ایک بوتل سے ڈرنک گلاس میں ڈال رہی تھی ناگواری کے تاثرات ان کے چہرے پہ آئے ۔
کھڑکھی کھلی ہوی تھی جس سے ان کے کالے لمبے بال لہرا رہے تھے جسے وہ ٹھیک کرتی اشارے سے کھڑکھی بند کرنے لگی اور چل کر اس کے پاس آئی ۔
"کیا بات ہے ! دیکھو زلنین کے لئے وہ وقتی کشش ہوگی
جو ایک نہ ایک دم ختم ہوجائے گی نہیں ختم ہوگی تو میں ختم کردوں گی اس لئے اتنا پریشان ہونے کی ضرورت نہیں ہے تمھیں ! میں نے شادی کا فیصلہ کیا ہے دوسرے لاہور کے ایک پوش علاقے کا وہ سردار ہے میرے پہ عاشق ہوگیا ۔۔۔۔۔
آگئے سے وہ کچھ بولنے جارہی تھی کہ جزلان کا قہقہ پورے زوالفقار ہاوس کو ہلا کر رکھ چکا تھا ۔
"ہاہاہاہاہہاہاہا ! اس عمر میں شادی پھو پھو ۔۔۔
اُف ہنستے ہوے جیسے آگ اس کی آنکھوں سے ٹپک رہی تھی اتنی سٹریس فل سچیوشین میں یہ بات اس کے لیے بات امیوزنگ تھی ۔وہ ہنس ہنس کر دوہرا ہورہا تھا اور پھوپھو کشف کا غصے سے بُرا حال دھاڑ کر اسے چُپ کروایا تو وہ ایک دم خاموش ہوگیا مگر چہرے اور آنکھوں میں ابھی بھی شرارت چھپی ہوی تھی ۔
"تمھیں کیا لگتا ہے کہ میں بڈھی ہوگی ہوں ۔”
اس نے ان کے تیش سے کہنے پر تیزی سے نفی میں سر ہلایا ۔
"نہیں نہیں پھوپھو آپ تو ابھی بیس سال کی ہیں صرف مجھ سے ایک سال بڑی ! زلنین آپ سے بڑا ہے ابھی تو آپ کی شادی کی عمر ہے مگر وہ کیا ہے نا پھوپھو اب سب سے تو بلوا لیں گی مگر وہ سامنے آئینہ تو مجھے آپ کے ہلکے ہلکے سفید بال اور پیشانی پہ جھڑیاں ۔
اس سے آگئے وہ کچھ کہنا پھوپھو کشف نے گلاس اُٹھا کر اس پہ وار کیا اور وہ تیزی سے وہاں سے غائب ہوگیا ۔
گلاس سیدھا دیوار پہ جاکر لگا ۔
"بدتمیز ! الو کا پٹھا ۔”
وہ بڑبڑائی ۔
جزلان سیدھا زلنین کے کمرے میں آیا جو بند تھا وہ چاہ کر بھی اندر نہیں گھس سکتا تھا یہ کیا ہر طرف سے راستہ کیوں بند کروادیا ۔ وہ اب غصے سے اس کا دروازہ کھٹکھٹانے لگا ۔
"زلنین اگر تم نے نہ کھولا دروازہ تو سب کو تمھاری ۔۔۔
زلنین نے تیزی سے دروازہ کھولا اسے کے چہرے پہ غصے اور جنھجھلاہٹ کی لہر تھی وہ اس وقت یونی فورم میں ملبوس خوبصورت لگ رہا تھا جزلان نے اسے کا گیربان پکڑتے ہوے ایک مکا اس کے منہ پہ مارا زلنین پیچھے کو جاکر گرا ۔
"کیا بکواس ہے !!! ۔”
وہ دھاڑا ۔
"نہیں تو تم مجھے بتاو کہ کیا بکواس جس شخص نے خود وہ چیز بند کی اور سب کو کہا کہ کوی بھی اس جگہ کے قریب نہ جائے گا اور یہ محترم اشتہار لگائے بیٹھے کہ بلیک روز از اوپنگ سون ! وی میڈ امپلوئیز
تو کس سے پوچھے بغیر فائیق چاچا کی پراپرٹی پر کلیم کر سکتا ہے ! جس شخص سے نفرت کرتے تھے آج اس کی جائیداد کو اپنا بنا رہے ہو دماغ گھٹنے میں چلا گیا ہے تیرا کیا ۔”
زلنین اس سے پہلے ردعمل کرتا اس کی بات پہ ایک منٹ کے لیے رُک گیا ۔
"اس معاملے میں تم مت پڑو جزلان یہ تمھارے لئے بہتر
ہے ۔”
"نہیں تو اپنی ساری مصیبتیں میرے سر مت لئے کر آو کرو بہت کر لی تم نے اپنی من مانی مگر میں یہ سب ہونے نہیں دوں گا پہلے مصیبت کم ہیں جو تم اور لارہے ہو اس ہما کی بچی نے تمھیں سچ مچ عقل سے پیدل کردیا پولیس والے ہو تو پولیس والے رہو ۔ اس کام سے تم اللہ کا واسطہ ہے دور رہو ورنہ میں نے تمھیں مار دینے میں زرا بھی دیر نہیں کرنی ۔”
جزلان کی بات پر زلنین نے اس کو پکڑا اور سیدھا ٹھا کر کے دیوار پہ جاکر مارا ۔ جزلان نے کہرا کر پیٹ کو پکڑا اور سر اُٹھا کر خونخوار نظروں سے دیکھا اور سیدھا اُٹھ کر اسے مارا وہ دونوں اب پاگلوں کی طرح لڑنے لگیں کمرے کا تو جیسے حشر ہوچکا تھا
سب کو اپنی ضد پوری کرنے کی پڑی تھی ۔
"آج تو تمھیں میں جان سے ماردوں گا ایس پی ۔”
"تو تو کون سا زندہ رہے گا آئین سٹائن کے پُتر ۔”
بستر تو دور جاکر پہنچا ۔
لیمپ ٹوٹ کر گر چکا تھا اور شیشہ اس سے پہلے ٹوتا کہ کسی کی نسوانی آواز پہ وہ دونوں رُکے ۔زلنین اور جزلان کو جھٹکا لگا وہ ہما گرے شلوار قمیض میں ملبوس پرس تھامے بالکل تیار کھڑی حیرت سے ان دونوں
کو دیکھ رہی تھی ۔اس نے ان دونوں کو پھر اس کمرے کو دیکھا تکیہ پھٹنے کے باعث ہوا میں اُڑ رہی تھی ۔
"ہما تم کیسے ۔”
زلنین کو اس کی اندر آنے پہ حیرت ہوی جبکہ ہما کے چہرے پہ خفگی آگئی جزلان نے جھک کر اس کے کان میں کہا ۔
"مجھے ایسا کیوں لگ رہا ہے تیری بیوی اب جوتی اُٹھا کر تجھے مارے گی ۔”
زلنین نے اسے گھور کر دیکھا ۔
"تم نے خود مسیج کیا تھا گھر آجانا ضروری فائل دینی ہے پھر ساتھ چلیے گے اور تم باہر نہیں آئے تو اور یہ سب کیا ہے یہ تم لوگوں نے کیا کمرے کا حشر کیا ہے
جاری ہے

Related Articles

جواب دیں

Back to top button
تفکر ڈاٹ کام
situs judi online terpercaya idn poker AgenCuan merupakan salah satu situs slot gacor uang asli yang menggunakan deposit via ovo 10 ribu, untuk link daftar bisa klik http://faculty.washington.edu/sburden/avm/slot-dana/