میں جنرل ٹکا خان سے انٹرویو کرنے والے پہلے صحافی ک…

میں جنرل ٹکا خان سے انٹرویو کرنے والے پہلے صحافی کی حیثیت سے اتنا ہی مشتاق تھا جتنا کہ جنرل کسی ہندوستانی سے سروکار نہ رکھنے کے بارے میں پر عزم تھا۔۔ اسے غصہ تھا کہ ہندوستانی پریس اسے " بنگلہ دیش کا قصائی " کے نام سے موسوم کرتا رہا تھا اور ہندوستانی فوج کی طرف سے پاکستان پر مسلط کی گئی رسوا کن شکست پر اذیت کا شکار تھا۔۔۔ اس انٹرویو کے لئے میرے خط کا جواب نہیں دیا تھا۔۔ وہ منظور قادر تھا جس نے اس سے میری سفارش کی تھی اور مجھے " پاکستان کا ایک دوست " قرار دے کر قائل کیا تھا۔۔۔
جنرل ٹکا خان نے اپنے بنگلے میں خوش اخلاقی و شائستگی سے میرا استقبال کیا۔۔۔ وہ چھوٹے قد کا گٹھیلا تند خو نظر آنے والا شخص تھا۔۔۔ وہ سپاہی سے زیادہ ایک بینک کلرک دیکھائی دیتا تھا۔۔ اس کے ساتھ اس کا اردلی تھا، پٹھانوں جیسی ٹوپیئ پہنے، کلف زدہ پگڑی باندھے ایک لحیم و شحیم آدمی۔۔ جب میں نے اردگرد نظر ڈالی تو اونچے رتبوں والے فوجیوں کے گھروں میں عمومی طور پر دیکھائی دینے والے لوازمات دیکھے۔۔ رجمنٹل امتیازی نشانات، ٹرافیاں اور چاندی کے فریموں والی تصویرں۔۔ دیواروں اور مینٹل پیس پر قرآن کی آیات آوازیں تھیں، ان میں سے ایک کو میں پڑھ سکتا تھا۔۔ میں نے اسے اپنے تک رکھا کیونکہ میں نے محسوس کیا کہ جنرل کے ساتھ مکالمے کے دوران میں یہ میرے کام آئے آگئی۔۔۔
وہ ایک تلخ آدمی تھا۔۔ اس نے کہا کہ ہندوستانی اور غیر ملکی پریس میں پاکستانیوں کی طرف سے کئے گئے قتل عام اور گروہی زنا ( گینگ ریپ ) کی کہانیان جھوٹی تھیں۔۔ ہم اللہ سے ڈرنے والے لوگ ہیں۔۔ میرے سپاہی نظم و ضبط کے پابند تھے۔۔ انہوں نے معصوم بنگالیوں کو قتل نہیں کیا اور نہ ہی ان کی عورتوں کی بے حرمتی کی۔۔۔ یہ تم ہندوستانی ہو جنہوں نے جھوٹ کو پھیلایا اور برطانوی اخباروں نے ہمارے طرف ان بہتانوں کو شائع کیا۔۔ اس نے براہ راست میری آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر کہا۔۔۔
میں نے ہلکا سا احتجاج کیا۔۔ میں نے اسے بتایا کہ میں نے جنگ کے فوری بعد بنگلہ دیش کا دورہ کیا تھا اور وہاں بنگالی مسلمانوں کے منہ سے پاکستانی فوجیوں اور آفسروں سے سرزد ہونے والے مظالم کی کہانیاں سنی تھیں۔۔ وہ سب جھوٹ نہیں ہو سکتے۔۔ میں نے کہا۔۔ اور میں نے پاکستانیوں کے خلاف بہت زیادہ اشتعال دیکھا۔۔ ہندوستانی فوجیوں کے ان کی حفاظت کرنے کے باوجود بنگلہ دیشی ہجوم پاکستانی جنگی قیدیوں کو ہلاک کر رہا تھا۔۔۔
" اس طرح کے چند واقعات ہوئے ہوں گئے۔۔ " اس نے تسلیم کیا۔۔ ہر ریوڑ میں کالی بھیڑیں بھی ہوتی ہیں اور تم جانتے ہو کہ بنگلہ دیشی ہر بات کو بڑھا چڑھا دینے کے معاملے میں کتنے طاق ہوتے ہیں !!
••••••
کتاب : سچ محبت اور زرا سا کینہ
مصنف : خوشونت سنگھ
مترجم : Ahsan Butt
انتخاب و ٹائپنگ : احمد بلال
بشکریہ
https://www.facebook.com/groups/1876886402541884/permalink/2848722415358273



