ایک مختصر سا عشقیہ خط شاعر: نزار قبانی (شام) مت…

ایک مختصر سا عشقیہ خط
شاعر: نزار قبانی (شام)
مترجم : شاہدہ حسن
اے میری جان!
بہت کچھ ہے میرے پاس کہنے کے لیے
اے بہت قیمتی ہستی!
کہاں سے شروع کروں، میں اپنی بات
تم میں جو کچھ ہے۔۔۔ سب بہت شاہانہ ہے
تم ۔۔۔ جو میرے لفظوں کو معنی عطا کرکے
انہیں اطلس و ریشم میں ڈھال دیتی ہو
یہ میرے نغمے ہیں، یہ میں ہوں
اس چھوٹی سی کتاب میں، ہم دونوں ہیں
جب آنے والے کل میں، میں اس کے اوراق پلٹوں گا
اک چراغ افسردہ ہوجائے گا
اس کے حروف، خواہشوں کی شدت سے
سبز رنگ میں ڈھل جائیں گے
اس کے اعراب پَر لگا کر اڑنے لگیں گے
مت کہو: کیوں یہ جوان میری باتیں کرتا ہے
بل کھاتی سڑکوں اور ندیوں سے
بادام کے درخت اور کنول کے پھول سے
کیا دنیا نگرانی کرتی رہتی ہے جدھر جدھر میں جاتا ہوں
مت کہو: وہ یہ نغمے کیوں گاتا ہے؟
اب آسمان پر کوئی ستارہ نہیں
جو میری خوشبوؤں سے مہک نہ رہا ہو
آنے والے دنوں میں لوگ مجھے اُس کی نظموں میں دیکھیں گے
اے شراب کے ذائقے سے آشنا
تم لوگوں کی باتوں پر دھیان نہ دینا
تم صرف میری عظیم محبت کی بدولت عظیم ہوگے
اگر ہم دونوں نہ ہوتے
یہ دنیا کیسی لگتی
اگر تمہاری آنکھیں موجود نہ ہوتیں
یہ دنیا کیسی لگتی!
اصل عنوان: رسالة حب صغيرة
مشمولہ: ادبی جریدہ 'دنیا زاد'، شمارہ نمبر ۳۱، صفحہ نمبر۲۳۳
انتخاب: ثمینہ جاوید ملک (راولپنڈی)
بشکریہ
https://www.facebook.com/groups/1876886402541884/permalink/2832125563684625



