"میرا خیال تھا کہ دنیا میں دو ہی قسم کے لوگ ہ…

"میرا خیال تھا کہ دنیا میں دو ہی قسم کے لوگ ہوتے ہیں؛ایک وہ جو خاموشی سے موت کو گلے لگا لیتے ہیں اور دوسرے وہ جو چیختے اور چلاتے ہیں لیکن موت پھر بھی انہیں آن لیتی ہے؛ لیکن پھر میں نے تیسری قسم کو دیکھا،جس رات ہم نے بھگت سنگھ،سکھ دیو اور راج گرو کو پھانسی دی۔وہ چلتے جا رہے تھے ان کی گردنوں پر کوئی ملال نہ تھا پھر آگے بڑھے اور ایک دوسرے کے گلے ملے اور "انقلاب زندہ باد ! " کے نعرے مار کر سیاہ کپڑوں میں لپٹی موت کو اپنے سروں پہ لپیٹ لیا۔ہمیں عوام کی بغاوت کے ڈر سے انہیں اصل وقت سے 11 گھنٹے قبل پھانسی دینے کا حکم دیا گیا تھا۔ان کی لاشیں جیل کی پچھلی دیوار سے باہر نکال کر جلا دیں اور راکھ ستلج میں بہا دی۔وہ (بھگت سنگھ)کہا کرتا تھا :
"مکینلی صاحب! تم لوگوں کو تو مار سکتے ہو لیکن ان کے نظریوں کو کبھی نہیں مار سکتے؛بڑی بڑی سلطنتیں تباہ ہوتی ہیں لیکن نظریات کبھی ختم نہیں ہوتے"
ایک بار اسے بلایا جبکہ وہ لینن کی سوانح پڑھ رہا تھا،تو بولا :"خاموش؛کیا تم دیکھتے نہیں ایک انقلابی دوسرے انقلابی سے بات کر رہا ہے"
میں آنکھ بند کروں تو وہ مجھے آج بھی یاد آتے ہیں؛چلتے ہوئے۔۔۔۔۔۔۔یہ تیسری قسم تھی جو موت سے پہلے جشن مناتے ہیں اور یہ بس میں نے اس رات ہی دیکھی تھی"۔
●●●●●●●●●●●●
☆بھگت سنگھ اور اس کے ساتھیوں کو پھانسی دینے والے انگریز جیلر "جیمز مکینلی" کی خودنوشت بیاض سے ایک اقتباس۔۔۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
☆An account from the diary of
"JAMES MCKINLEY";the then jailor at Lahore when Bhagat singh,Rajguru and Sukhdev were given Capital punishment on 23rd March.1931 at
7:30pm.
????:
1: بھگت سنگھ ۔ راج گرو ۔ سکھ دیو
2:بھگت سنگھ کی موت کا سرکاری سرٹیفکیٹ
#حنظله_خليق


بشکریہ
https://www.facebook.com/groups/1876886402541884/permalink/2811919422371906



