کالم

جرا¿ت ِاظہارکاوقت | Khabrain Group Pakistan

نصیر ڈاھا
چین اور بھارت کے درمیان حالیہ کشیدگی کے مابعد اثرات اب کافی حد تک ختم ہوچکے ہیں اور دونوں ممالک نے ماضی میں کیے گئے معاہدوں پر ان کی اصل روح کے مطابق عمل درآمد کرنے کا عہد کیا ہے۔ بھارت اگرچہ بڑی فوج، سواارب کے لگ بھگ آبادی اور بہتر معیشت کے ساتھ ایک بڑا ملک ہے لیکن ان سب کے باوجود بہرحال وہ چین سے کافی نچلے درجے پر ہے۔ چین کی اپنی ایک تاریخ ہے ۔ یہ تاریخ اس کی آبادی، فوج، معیشت، اقتصادی و جغرافیائی حالات وغیرہ کے سبب بڑی دل آویز اور متاثر کن ہے۔ بھارت کی تاریخ زیادہ اس لیے متاثر کن بھی نہیں کہ بھارت اس علاقے کا ایک حصہ تھا جو متحدہ ہندوستان کی شکل میں بھارت، بنگلہ دیش اور پاکستان کے موجودہ علاقوں پر مشتمل تھا۔ چنانچہ ہندوستان کی مجموعی تاریخ اور متاثر کن واقعات کو بھارت کے ساتھ نتھی نہیں کیا جاسکتا اور نہ ہی انہیں بھارت کی تاریخ قرار دیا جاسکتاہے۔ بھارت کی اپنی تاریخ جو تقسیم برصغیر سے شروع ہوتی ہے، کوئی زیادہ متاثر کن نہیں اور نہ ہی بھارت نے ایک بڑے ملک ہونے کے ناطے ایسے کارہائے نمایاں سرانجام دیے ہیں جنہیں بطور مثال پیش کیا جاسکتا ہو۔
قانون تقسیم ہند کی کئی شقوں کی خلاف ورزی کرتے ہوئے بھارت نے اپنے لیے متعدد مسائل پیدا کیے۔ اس کے اپنے ہر پڑوسی ملک کے ساتھ ایسے تنازعات جنم پذیر ہوئے جنہوںنے وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ بھارت کے مسائل میں ازحد اضافہ کردیا۔ ان میں اولین مسئلہ سرحدی تنازع ہے۔ چین کے ساتھ بھارت کی حالیہ جھڑپ اور اس سے پیشتر کی تمام تر جنگیں اور جھڑپیں ان ہی تنازعات کی بدولت وقوع پذیر ہوئیں۔ لداح، ارونا چل پردیش، سکم وغیرہ ایسے علاقے ہیں جن پر چین کا دعویٰ ہے لیکن بھارت نے ان پر زبردستی قبضہ جمارکھاہے۔ اس طرح نیپال کے ساتھ بھی سرحدی تنازعات ہیں اور پاکستان کے ساتھ بھارت کے تنازعات کی ایک طویل تاریخ ہے مثلاً کشمیر کا مسئلہ، سرحدی تنازعات، جوناگڑھ، پٹھان کوٹ، حیدرآباد وغیرہ کے مسائل جن پر بھارت نے زبردستی قبضہ جمالیا۔دریائی پانیوں کی تقسیم کا تنازع اور پھر فوجی و معاشی برتری کے جنون نے بھارت کو پاکستان کے خلاف متعدد اقدامات کرنے اور خاکم بدہن پاکستان کا وجود مٹانے کی فکر میں مبتلا کررکھاہے۔ ایشیائی ٹائیگر بننے کے زعم میں مبتلا بھارت کےلئے کسی طاقتور پڑوسی کا وجود گوارا نہیں اور اس کی کوشش ہے کہ وہ ان ممالک کے امن و امان کو مسلسل تہہ و بالا کرتے ہوئے ایسے حالات پید اکرے جن کی بدولت اس کےلئے اولین قدم کے طور پر پہلے ایشیاکا ٹائیگر اور پھر اس سے آگے دنیا کی ایک بڑی طاقت ہونے کا راستہ ہموار ہوسکے ۔ اس راہ میں بڑی رکاوٹ چین اور پاکستان ہیں۔
چلیے، چین تو ایک طاقتور ملک ہے جو بھارت کو ناکوں چنے چبوانے کی بھرپور صلاحیت رکھتا ہے لیکن دوسری جانب ایک چھوٹا سا ملک نیپال بھی ہے جس نے بھارت کو اس کی اصل اوقات دکھانے میں کوئی کسر باقی نہیں رکھی۔ نیپال کے بھارت کے ساتھ سرحدی تنازعات ہیں ۔ نیپال نے ایک قدم اور آگے بڑھتے ہوئے چند دن پہلے بھارت کے کئی سرحدی علاقوں کو اپنا حصہ قراردیتے ہوئے ایک نئے نقشے کی توثیق کی تھی جس کے بعد دونوں ممالک میں سردجنگ میں اضافہ ہوگیا۔ اب نیپال نے بھارتی ریاست بہار کے محکمہ آبی وسائل کو اپنی سرحد سے ملحقہ علاقوں میں کام کرنے سے روک دیا ہے اور کہا ہے کہ وہ علاقے اس کا حصہ ہیں جہاں بھارت کے زیرانتظام محکموں کو کام کرنے کی قطعاً اجازت نہیں۔یہ نیپال کا زبردست جرا¿ت مندانہ اقدام ہے جس کی جتنی ستائش کی جائے کم ہے۔ نیپال جو ایک چھوٹا سا کمزور ملک ہے اپنا حق لینا اور بھارت کو اس کی اوقات میں رکھنے کا ہنر بخوبی جانتا ہے اور دوسری جانب ایک ہم ہیں کہ جو دنیا کی ساتویں ایٹمی طاقت ہونے کے باوجود ہمہ وقت بھارت سے خوفزدہ رہتے ہیں۔ بھارت نے نہ صرف ہمارے امن و امان کو بری طرح تہہ وبالا کررکھا ہے بلکہ وہ بلوچستان اور اندرون سندھ میں علیحدگی کی کئی تحریکوں کو چلانے میں بھی ملوث ہے۔ سرحدی تنازعات اور آئے دن کی فائرنگ اور گولہ باری سے ہمارے کئی لوگ شہید ہوچکے ہیں۔ پھر کشمیر ہے جسے قائداعظم نے پاکستان کی شہ رگ قراردیا تھا۔ بھارت نے اس شہ رگ پر قبضہ کرتے ہوئے اسے اپنی ایک ریاست قرار دے ڈالا ہے لیکن ہم پھر بھی خاموش ہیں۔ کشمیری مردوزن بھارتی جوروستم کا بری طرح شکار ہیں اور کشمیری مائیں بہنیں اپنی تار تار عزتوں پر نوحہ کناں ہماری طرف مدد اور نصرت کے لیے دیکھ رہی ہیں لیکن ہم پھر بھی خاموش ہیں۔ چین کی طرح بھارت کے خلاف کارروائی بے شک نہ کیجیے لیکن نیپال کی طرح بھارت کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر تو بات کیجیے۔ کشمیری بیٹیوں کی صدا پر لبیک کہنے کی اشد ضرورت ہے۔ وہ بیٹیاں درحقیقت پاکستان کےلئے اپنی عزتیں نیلام کررہی ہیںلیکن ہم خوابِ غفلت میں ڈوبے ہوئے ہیں۔ کشمیر پاکستان کےلئے زندگی اور موت کا مسئلہ ہے ۔ ایسا نہ ہو کہ ہم آج کشمیر پر بھارت کا تسلط تسلیم کرکے اُسے اور زیادہ مضبوط بنادیں اور کل بھارت ہمارے لیے سخت نقصان دہ ثابت ہو جس طرح کے وہ ماضی میں ہمارے ساتھ کرتا چلا آیاہے۔ بہترین حکمت عملی اور ہماری جرا¿ت ہی ہمارے استحکام کی ضمانت ہے۔
(دبئی میں مقیم‘ سیاسی وسماجی موضوعات پرلکھتے ہیں)
٭….٭….٭



بشکریہ

Related Articles

جواب دیں

Back to top button
تفکر ڈاٹ کام
situs judi online terpercaya idn poker AgenCuan merupakan salah satu situs slot gacor uang asli yang menggunakan deposit via ovo 10 ribu, untuk link daftar bisa klik http://faculty.washington.edu/sburden/avm/slot-dana/