منتخب غزلیں

" مکافات " آؤ کہ مے کدوں میں گزاریں تما…

" مکافات "

آؤ کہ مے کدوں میں گزاریں تمام رات
تنہائیوں میں صحبتِ جام و سبو رہے
خاموشیوں میں کیفیتِ گفتگو رہے
یادوں کے پیچ و خم کو سنواریں تمام رات
زہرِ حیات دل میں اتاریں تمام رات

یہ در جو بند ہو تو کہیں اور اٹھ چلیں
ظلمت بڑھے تو آتشِ غم تیز تر کریں
پروانہ وار جل کے بنیں خاکِ رہ نشیں
انبوہِ گرد باد میں رقصِ شرر کریں
افتادگی میں آرزوئے بال پر و کریں

لے جائیں کس کے پاس یہ داغِ خود آگہی
اے سوزِ ہجر کوئی تِرا رازداں نہیں
یہ شہرِ ناشناس یہ ویرانئ ہجوم
اس قافلے میں اہلِ نظر کا نشاں نہیں
سب اجنبی ہیں کوئی ہم زباں نہیں
بیٹھیں شفق کے سایے میں خونِ جگر پئیں
آؤ کہ اہلِ رسمِ خرابات ہے یہی
ہر عشقِ سخت جاں کی مکافات ہے یہی

(منیب الرحمٰن)

المرسل :-: ابوالحسن علی ندوی

Related Articles

جواب دیں

Back to top button
تفکر ڈاٹ کام
situs judi online terpercaya idn poker AgenCuan merupakan salah satu situs slot gacor uang asli yang menggunakan deposit via ovo 10 ribu, untuk link daftar bisa klik http://faculty.washington.edu/sburden/avm/slot-dana/