منتخب غزلیں
( غیــر مطبــوعـہ ) خبردار! میں حق نوا آدمی ہوں …

( غیــر مطبــوعـہ )
خبردار! میں حق نوا آدمی ہوں
مرے پاس مت آ، برا آدمی ہوں
مرے دل کو تم نے دھڑکنا سکھایا
مجھے اب یہ لگنے لگا آدمی ہوں
کبھی میں رہا کرتا تھا اپنے گھر میں
میں اب گھر میں رکّھا ہوا آدمی ہوں
سمجھتا رہا دیوتا کوئی مجھ کو
میں کہتا رہا بارہا، آدمی ہوں
تری یاد اور میرے غم ہم سفر ہیں
میں تنہا نہیں قافلہ آدمی ہوں
جو قیس اور فرہاد کا سلسلہ ہے
اسی زمرے کا تیسرا آدمی ہوں
مجھے منتروں کی ضرورت نہیں ہے
کئی سانپوں کا میں ڈسا آدمی ہوں
میں اب ہوگیا ہوں کماؔل ! اتنا چھوٹا
مجھے لگتا ہے' میں بڑا آدمی ہوں
( احــمد کمـــالؔ حشـمـی )
— with Ahmad Kamal Hashami.

