منتخب غزلیں
فراقؔ گورکھپُوری پَیامِ کیفِ عَدم نغمۂ مجاز بھی ہ…

فراقؔ گورکھپُوری
پَیامِ کیفِ عَدم نغمۂ مجاز بھی ہے
نَوائے ساز صَدائے شِکستِ ساز بھی ہے
حیات ہو کہ اجل، سب سے کام لے غافِل
کہ مختصر بھی ہے کارِ جہاں، دراز بھی ہے
بِنا تمیز پڑے ہیں جو ہوش و ہستی میں
کُچھ اُن سے کہنے کو، وہ چشمِ نیم باز بھی ہے
عجیب کشمکشِ ہوش و بیخودی ہے فِراقّ
کہ مختصر بھی شبِ ہجر ہے، دراز بھی ہے
فراقؔ گورکھپُوری


