منتخب نظمیں

پانی ہمیشہ شور مچا کر نہیں آتا۔ کبھی کبھی وہ خامو…

پانی ہمیشہ شور مچا کر نہیں آتا۔

کبھی کبھی وہ خاموشی سے انسان کی زندگی میں داخل ہوتا ہے… اور جاتے جاتے اس کے اندر کا ایک زمانہ بہا لے جاتا ہے۔

اس رات بھی ایسا ہی ہوا تھا۔

بارش کی آواز پہلے چھت پر تھی، پھر کھڑکیوں پر، پھر دروازے کے نیچے سے اندر آنے لگی۔

بازار بند ہو چکا تھا۔

"رحمت بیکرز” کے شٹر گر چکے تھے۔

اور پانچ آدمی اندر رہ گئے تھے۔

وہ قیدی نہیں تھے…

بس پانی نے ان کے لیے دنیا کا دروازہ بند کر دیا تھا۔

اسلم نے موبائل کی اسکرین پر نظریں گاڑ دیں۔

"کوئی سروس نہیں۔”

یہ صرف ایک جملہ نہیں تھا۔

یہ اس کی بیوی، اس کے بچوں، اس کے گھر… سب کے درمیان کھڑی ایک دیوار تھی۔

فیاض نے چپکے سے آنکھیں پونچھیں۔

اس کی بیٹی بخار میں تھی۔

وہ ہر چند منٹ بعد فون ملاتا، پھر خاموشی سے جیب میں رکھ لیتا، جیسے ہر ناکام کال کے ساتھ دل کا ایک ٹکڑا بھی جیب میں ڈال رہا ہو۔

کسی نے اسے روتے نہیں دیکھا۔

پاکستانی مرد اکثر روتے نہیں…

بس ان کے ہاتھ پہلے سے زیادہ زور سے کام کرنے لگتے ہیں۔

باہر سیلاب بڑھتا جا رہا تھا۔

اندر خاموشی۔

ایسی خاموشی جس میں ہر آدمی اپنے گھر کی آوازیں سن رہا تھا۔

کسی کو اپنی ماں کی کھانسی یاد آ رہی تھی۔

کسی کو بچے کی ہنسی۔

کسی کو بیوی کا وہ آخری جملہ…

"جلدی آ جانا۔”

دیوار پر ایک پرانی لکڑی کی پیل لٹک رہی تھی۔

برسوں سے اسی سے روٹیاں تنور میں اتاری جاتی تھیں۔

اسلم نے اسے اتارا۔

ہتھیلی سے آٹے کی تہہ صاف کی۔

پھر آہستہ سے بولا،

"اگر بیٹھ گئے…

تو ڈر ہمیں کھا جائے گا۔”

وہ تنور کے سامنے جا کھڑا ہوا۔

"آگ ابھی زندہ ہے۔”

بس اتنا کہنا تھا۔

باقی چار آدمی بھی خاموشی سے اس کے ساتھ آ کھڑے ہوئے۔

پھر عجیب منظر شروع ہوا۔

ایک آدمی آٹا گوندھ رہا تھا۔

ایک لوئیاں بنا رہا تھا۔

ایک تنور سنبھال رہا تھا۔

اور ہر روٹی کے ساتھ کوئی نہ کوئی دعا بھی پک رہی تھی۔

کوئی زبان سے نہیں مانگ رہا تھا…

مگر اللہ شاید ہاتھوں کی حرکت بھی سن لیتا ہے۔

دو دن…

دو راتیں…

نیند نے ان سے رشتہ توڑ لیا۔

چائے ٹھنڈی ہوتی رہی۔

آنکھیں سرخ ہوتی رہیں۔

ہاتھ آٹے سے سفید ہوتے رہے۔

اور تنور…

وہ مسلسل جلتا رہا۔

جیسے کسی ماں نے اپنے سینے میں آخری حرارت بچا رکھی ہو۔

تیسرے دن جب پانی کچھ اترا تو حاجی رحمت کشتی میں بیٹھ کر بیکری تک پہنچا۔

شٹر اٹھا۔

اس نے اندر قدم رکھا۔

اور وہیں رک گیا۔

ہر شیلف بھرا ہوا تھا۔

ہر میز پر روٹیاں تھیں۔

فرش پر بھی۔

ریکوں پر بھی۔

دیوار کے ساتھ ٹکی وہ لکڑی کی پیل بھی آٹے سے سفید تھی…

اور اس کے قریب پانچ آدمی بیٹھے تھے۔

تھکے ہوئے۔

بے خواب۔

خاموش۔

حاجی رحمت نے بمشکل پوچھا،

"یہ سب… کس کے لیے بنایا؟”

اسلم نے جواب دینے سے پہلے ایک لمحہ آنکھیں بند کیں۔

پھر دھیرے سے بولا،

"اپنے ڈر کے لیے۔”

کمرے میں خاموشی چھا گئی۔

وہ پھر بولا،

"اگر روٹیاں نہ پکاتے…

تو شاید خوف ہمیں اندر سے کھا جاتا۔”

اسی دن وہ تمام روٹیاں کشتیوں میں لاد دی گئیں۔

کسی بھوکے بچے کے ہاتھ میں پہنچیں۔

کسی بوڑھی عورت کی دعا بنیں۔

کسی ریسکیو اہلکار کی طاقت۔

کسی ماں کی تسلی۔

اور شاید…

کسی ایسے انسان کی امید، جو تین دن سے صرف پانی دیکھ رہا تھا۔

مہینوں بعد شہر دوبارہ آباد ہو گیا۔

لوگ اپنے اپنے دکھ سمیٹ کر زندگی کی طرف لوٹ گئے۔

مگر "رحمت بیکرز” کی دیوار پر آج بھی وہ لکڑی کی پیل لٹکی ہے۔

لوگ اسے صرف روٹی پکانے کا اوزار نہیں سمجھتے۔

وہ جانتے ہیں…

کچھ ہاتھ معجزے نہیں کرتے۔

وہ صرف اپنا کام کرتے ہیں۔

اور کبھی کبھی…

دنیا کو معجزہ بھی یہی لگتا ہے۔

اس سال سیلاب صرف گھروں کو نہیں بہا کر لے گیا تھا… اس نے یہ بھی ثابت کر دیا تھا کہ جب انسان کے پاس اپنے پیاروں تک پہنچنے کا کوئی راستہ نہ بچے، تب بھی وہ کسی اور کے لیے روٹی پکانے کا راستہ ضرور ڈھونڈ لیتا ہے۔

Related Articles

Back to top button
تفکر ڈاٹ کام
situs judi online terpercaya idn poker AgenCuan merupakan salah satu situs slot gacor uang asli yang menggunakan deposit via ovo 10 ribu, untuk link daftar bisa klik http://faculty.washington.edu/sburden/avm/slot-dana/