افسانے

تہہ شدہ رومال جانے اب کہاں ہے۔۔ڈاکٹر ستیہ پال آنند


گھر بنانے میں اسے برسوں لگے تھے
سب سے پہلے گھر کی بنیادوں کے پتھر
پانچ دریاؤں کے چٹیل ساحلوں سے چُن کے لایا
ان پہ اپنا نام کندہ کر کے بنیادیں بنائیں
چار دیواری کھڑی کی
طاق ، دروازے، تراشیدہ دریچے اور روشندان جَڑ کر
دھوپ سے، تازہ ہوا سے گھر کو جیسے ذی نفس کی زندگی دی!
اور پائیں باغ کی پھر ابتدا کی
سبز پودے، گلبدن لہراتی بیلیں
تتلیاں ، بھنورے، پرندے
صبح کی شبنم
سہانی سردیوں کی دھوپ کے ٹکڑے سنہرے
اور بچوں کے لے قوسِ قزح سا ایک جھولا!
آسماں کا ایک ٹکڑا کاٹ کر
چوکور سا رومال کی مانند پھیلایا
نئے گھر اور پائیں باغ کو اس میں لپیٹا ۔۔۔۔۔۔۔
اور پھر وہ چل دیا
ان دُور کے ملکوں میں
جن میں سال کے بارہ مہینے
اک ٹھٹھرتی رُت، سمٹتی دھوپ، یخ بستہ ہواؤں کا چلن تھا!
اب زوالِ عمر کا مارا ہوا وہ ایک بوڑھا
برف زا ر موسم میں سردی اوڑھ کر بیٹھا ہوا ہے
تہہ شدہ رومال جانے اب کہاں ہے؟
کون ہے وہ ؟




بشکریہ

Related Articles

جواب دیں

Back to top button
تفکر ڈاٹ کام
situs judi online terpercaya idn poker AgenCuan merupakan salah satu situs slot gacor uang asli yang menggunakan deposit via ovo 10 ribu, untuk link daftar bisa klik http://faculty.washington.edu/sburden/avm/slot-dana/