منتخب غزلیں

وہ بھی شاید رو پڑے ویران کاغذ دیکھ کر میں نے اس ک…

وہ بھی شاید رو پڑے ویران کاغذ دیکھ کر
میں نے اس کو آخری خط میں لکھا کچھ بھی نہیں
…..
ظہور نظر کا یومِ پیدائش
Aug 22, 1923

آج 22 اگست اردو ادب کے خوبصورت شاعر ، صحافی ، ڈرامہ نگار اور ادیب ظہور نظر کا جنم دن ھے ۔

ظہور نظر صاحب اردو غزل و نظم کے باکمال شاعر تھے ۔ آپ کی پیدائش ساھیوال پولیس لائینز مین 22 اگست 1923ء کو ھوئی ۔ آپ کا اصل نام ملک ظہور احمد تھا ، اور آپ کے والد کا نام ملک حبیب احمد تھا ۔
پہلا مجموعہ بھیگی پلکیں 1945ء میں عباسیہ اکیڈمی بہاولپور نے شائع کیا ۔ یہ مجموعہ 1942 ء سے 1944ء تک کی نظموں ،غزلوں اور گیتوں پر مشتمل تھا ۔ پبلشر کے ساتھ جھگڑے کی وجہ سے اس کی چند شہروں میں صرف چند کاپیاں فروخت ھوئیں باقی تمام پبلشر کے گودام مین دیمک نے چاٹ لیں ۔ دوسرا مجموعہ ریزہ ریزہ کے نام سے کتاب نما سے شائع ھوا ۔ تیسرا مجموعہ زنجیرِ وفا جس کا بیشتر حصہ غزلوں پر مشتمل ھے ادارہ نگارشات لاھور سے شائع ھوا ۔ 07 سپتمبر 1981ء کو اس خوبصورت اور منفرد لہجے کے شاعر کا بہاولپور میں انتقال ھو گیا ۔

ہر گھڑی قیامت تھی یہ نہ پوچھ کب گزری
بس یہی غنیمت ہے تیرے بعد شب گزری

کنج غم میں اک گل بھی لکھ نہیں سکا پورا
اس بلا کی تیزی سے صرصر طرب گزری

تیرے غم کی خوشبو سے جسم و جاں مہک اٹھے
سانس کی ہوا جب بھی چھو کے میرے لب گزری

ایک ساتھ رہ کر بھی دور ہی رہے ہم تم
دھوپ اور چھاوں کی دوستی عجب گزری

جانے کیا ہوا ہم کو اب کے فصل گل میں بھی
برگ دل نہیں لرزا تیری یاد جب گزری

بے قرار بے کل ہے جاں سکوں کے صحرا میں
آج تک نہ دیکھی تھی یہ گھڑی جو اب گزری

بعد ترک الفت بھی یوں تو ہم جئے لیکن
وقت بے طرح بیتا عمر بے سبب گزری

کس طرح تراشو گے تہمت ہوس ہم پر
زندگی ہماری تو ساری بے طلب گزری


Related Articles

جواب دیں

Back to top button
تفکر ڈاٹ کام
situs judi online terpercaya idn poker AgenCuan merupakan salah satu situs slot gacor uang asli yang menggunakan deposit via ovo 10 ribu, untuk link daftar bisa klik http://faculty.washington.edu/sburden/avm/slot-dana/