منتخب غزلیں
محترمہ صالحہ بیگم پروینؔ – جے پور 1866 – 1944 پڑے …
محترمہ صالحہ بیگم پروینؔ – جے پور
1866 – 1944
پڑے چہرے پر جب گیسو تو عقدہ کھلا پروینؔ
کہ ہے صبح وطن میں بھی اثر شامِ غریباں کا
….
ہزار بار کیا قصد توبہ پر ہر بار
خیال رحمت رب غفور آنے لگا
…
کہا جو حشر میں کیوں کی خطا تو پوچھوں گا
کہ تیرا نام غفور الرحیم تھا کہ نہ تھا
…
نماز پڑھنے سے منھ پر جو نور آنے لگا
مصلّیوں کی ہے عادت غرور آنے لگا
….
جو دیکھا دل نہیں پہلو میں تو وہی مانگا
سوال کرکے مجھے خوب لاجواب کیا
…
زندگی کا مزا آجائیگا اللہ کرے
جان عاشق کی تمہارے تہہ زانو نکلے
….
عشق بازی اور شئے ہے فسق ہے کچھ اور چیز
نیک نامی کو نہ کہہ پروینؔ کہ رسوائی ہوئی
1866 – 1944
پڑے چہرے پر جب گیسو تو عقدہ کھلا پروینؔ
کہ ہے صبح وطن میں بھی اثر شامِ غریباں کا
….
ہزار بار کیا قصد توبہ پر ہر بار
خیال رحمت رب غفور آنے لگا
…
کہا جو حشر میں کیوں کی خطا تو پوچھوں گا
کہ تیرا نام غفور الرحیم تھا کہ نہ تھا
…
نماز پڑھنے سے منھ پر جو نور آنے لگا
مصلّیوں کی ہے عادت غرور آنے لگا
….
جو دیکھا دل نہیں پہلو میں تو وہی مانگا
سوال کرکے مجھے خوب لاجواب کیا
…
زندگی کا مزا آجائیگا اللہ کرے
جان عاشق کی تمہارے تہہ زانو نکلے
….
عشق بازی اور شئے ہے فسق ہے کچھ اور چیز
نیک نامی کو نہ کہہ پروینؔ کہ رسوائی ہوئی


بہت خوب زبردست