منتخب غزلیں

YaadaiNیادیں جس کے لیے ہیں جاں بلب ‘ اس کو نہیں …

YaadaiNیادیں

جس کے لیے ہیں جاں بلب ‘ اس کو نہیں ملال بھی
اے دلِ نا صبور اب عادت ِ ہجر ڈال بھی

دامن یار تک کہاں عشقِ زبوں کی دسترس
حشمتِ حُسن دیکھ کر بھول گیا سوال بھی

کب سے ہیں لوگ سر بکف ‘ راہ میں مثلِ آ ہواں
اب تو مرے شکار خُو ‘ تیر و کماں سنبھال بھی

جس کے بغیر روز و شب سخت بھی تھے محال بھی
اس کے بغیر کٹ گئے کس طرح ماہ و سال بھی

انجم و مہر و ماہتاب ‘ سرو و صنوبر و گلاب
کس سے تجھے مثال دوں ‘ ہو تو کوئی مثال بھی

اس کے خرامِ ناز سے ایسی قیامتیں اُٹھیں
اب کے تو مات کھا گئی چرخِ کہن کی چال بھی

ہم کو تو عمر کھا گئی خیر ہمیں گلہ نہیں
دیکھ تو کیا سے کیا ہوےٓ یار کے خدّوخال بھی

اب کے فراؔز وہ ہوا جس کا نہ تھا گمان تک
پہلی سی دوستی تو کیا ‘ختم ہے بول چال بھی…!

✍…احمد فراؔز (از___شہرِ سخن آراستہ ہے )

_______________________________
نا صَبُور ۔ بے صبر ‘ بے قرار ‘ بے چین ‘ مضطرب ۔
زبوں ۔ (کاشتکاری) وہ زمین جو بہت کم فصل دے ۔ پیداوار کے لحاظ سے کم تر یا گھٹیا زمین ۔ ذلیل و رسوا ۔ صحت کے لئے خراب ۔
گرفتار (عموماً صید کی صفت کے طور پر) ۔
حشمت ۔ دبدبہ ‘ مرتبہ’ عظمت ‘ لوازماتِ شان و شوکت (مثلاً دولت ‘ سازوسامان ‘ نوکر چاکر فوج و لشکر)۔
سربکف ۔ ہتیلی پر سر رکھے ہوےٓ ‘ جان دینے پر آمادہ ‘ مرنے پر تیار۔
آہو ۔ بکری سے مشابہ نکیلے سینگوں اور بڑی آنکھوں کا ایک صحرائی جانور ‘ ہرن ۔
شکار خُو ۔ مارنے والا ‘ قتل کرنے والا ۔ پھنسا کر مارنے والا
انجم و مہر و مہتاب ۔ چاند سراروں پر دسترس
چرخِ کہن ۔ چرخِ پیر ‘ آسمان ۔


Related Articles

Back to top button
تفکر ڈاٹ کام
situs judi online terpercaya idn poker AgenCuan merupakan salah satu situs slot gacor uang asli yang menggunakan deposit via ovo 10 ribu, untuk link daftar bisa klik http://faculty.washington.edu/sburden/avm/slot-dana/