الٰہی آگ ہی لگ جائے اس ذوق محبت کو جلے کوئی مرے ک…

جلے کوئی مرے کوئی اندھیرا میری محفل میں
منور لکھنوی
1897 – 1970
منشی بششور پرشاد منور لکھنوی لکھنو میں 8 جولائی 1897 کو پیدا ہوۓ ۔ ان کے والد منشی دوارکا پرشاد افق کا شمار اچھے شاعروں اور معززینِ لکھنؤ میں ہوتا تھا ۔
منور لکھنوی کے خاندان میں سات پشتوں سے شاعری کی روایات موجود ہیں ان کے والد منشی دوارکا پرشاد افق ۔
افق کے پردادا منشی اودے راج مطلع فارسی
افق کے دادا منشی ایشوری پرشاد شعاعی فارسی
افق کے والد منشی پورن چند ذرہ فارسی اردو
افق کے بڑے بھائ منشی رام سہاۓ تمنا
افق کے منجھلے بھائ منشی ماتا پرشاد نیساں اردو
افق کے ماموں منشی شنکر دیال فرحت ناسخ اسکول کے ممتاز شاعر تھے
افق کی رفیقِ حیات مہتاب کنور بھی شعر موزوں کیا کرتی تھیں
منور لکھنوی کو اردو ، فارسی ، عربی ، ہندی ، سنسکرت اور انگریزی میں مہارت حاصل تھی انہوں نے رامائن ، بھگوت گیتا اور دوسرے بہت سے مذہبی وغیر مذہبی متون کا منظوم ومنثور ترجمہ کیا ۔
مشہور جرمن شاعر گوئیٹے کے مشہور شاہکار ڈرامے ‘ فاؤسٹ ‘ کے پہلے حصہ کا منطوم ترجمہ دو جلدوں میں کیا ۔
اقبال کی ‘ ارمغانِ حجاز کے فارسی حصہ کا ترجمہ ‘ سوزِ اقبال ” کے نام سے کیا ہے
سوزِ اقبال
ارمغانِ حجاز فارسی
اردو منظوم
منور لکھنوی نے اس کتاب ‘ سوزِ اقبال ‘ میں بہ عنوان ‘ کچھ مترجم کی طرف سے ‘ میں لکھا ہے
"اقبال کی شاعرانہ عظمت اور مفکرانہ اہمیت صاحبِ نظر حضرات سے پوشیدہ نہیں اور میں ان کے عطا کردہ ادب سے خاص طور پر متاثر ہوں جس کا اظہار میں ابتدائ اوراق میں اپنی نظموں میں کر چکا ہوں ۔ اگرچہ اقبال کے بعض نظریات سے مجھےدیانت داری کے ساتھ اختلاف ہے پھر بھی میں انہیں ٹیگور کی طرح ایشیا کا ایک برگزیدہ ترین اور نمائندہ اہلِ دل شاعر اور مجتہد و مفکر سمجھتا ہوں ۔ اقبال میرے محبوب اور محترم فنکاروں میں ہیں ۔
ڈاکٹر اقبال نے ‘ ارمغانِ حجاز’ میں جو خطاب مسلمانوں سے کیا ہے اس کی نوعیت میرے خیال میں علامتی ہے ۔ ان کے ارشادات میں عالمگیریت کے عناصر نہایت لطیف طور پر چھپے ہوۓ ہیں ۔ کم از کم میں نے اقبال کا مطالعہ محض اس نظریہ کے تحت کیا ہے لیکن ان کے کلام میں جو خلوص اور سوز ہے جو اضطراب اور جوش ہے اس سے ہندو مذہب کا ایک مخلص فرد ہوتے ہوۓ بھی بے حد متاثر ہوں ۔ ”
” میں ارمغانِ حجاز کے ذریعہ دی ہوئ اقبال کی تعلیم کو اپنے منفرد نظریہ کے تحت عالمگیریت کی عالمی تعلیم قرار دیکر ان کے خیالات کو اردو جاننے والوں تک پہنچانا چاہتا ہوں ۔ دنیا کے تمام غیر مسلم دینی طبقے بھی ان تعلیمات سے سبق لیکر خود شناسی اور خودارادیت کے جوہروں کو جنہیں وہ کچھ دنوں سے بھلا بیٹھے ہیں دوبارہ بروۓ کار لا سکتے ہیں ۔ ”
سرودِ رفتہ باز آید کہ ناید ؟
نسیمے از حجاز آید کہ ناید ؟
سر آمد روزگار ایں فقیرے
دگر داناۓ راز آید کہ ناید ؟
بیتا ہوا وہ نغمۂ ساز آۓ نہ آۓ
کچھ ٹھیک نہیں یادِ حجاز آۓ نہ آۓ
سر آمد ابناے زمانہ یہ گدا ہے
اب اور کوئ واقفِ راز آۓ نہ آۓ
عطا کن شور رومی ، سوز خسرو
عطا کن صدق و اخلاص سنائ
چناں پابندگی در ساختم من
نہ گیرم گر مرا بخشی خدائ
عطا ہو شورِ رومی سوزِ خسرو
عطا ہو صدق و اخلاصِ سنائ
بنا ہوں بندگی سے اس طرح میں
نہ لوں ہرگز جو تو بخشے خدائ
متاعِ بے بہا ہے درد و سوزِ آرزو مندی
مقامِ بندگی دے کر نہ لوں شانِ خداوندی
تو می دانی حیاتِ جاوداں چیست
نمی دانی کہ مرگِ ناگہاں چیست
ز اوقات تو یک دم کم نہ گردد
اگر من جاوداں باشم زیاں چیست
بخوبی جانتا ہے تو حیاتِ جاوداں کیا ہے
خبر لیکن نہیں تجھ کوکہ مرگِ نا گہاں کیا ہے
تری اوقات سے اک سانس بھی ہو کم نہیں ممکن
مری ہستی جو ہوجاۓدوامی تو زیاں کیا ہے
بہ پایاں چوں رسد ایں عالم پیر
شود بے پردہ ہر پوشیدہ تقدیر
مکن رسوا حضورؐ خواجہ ما را
حسابِ من ز چشم او نہاں گیر
جہانِ کہنہ کا رخ جب ہو جانبِ پایاں
ہر ایک راز قسمت کا آدمی پہ عیاں
حضورِ خواجہ نہ ہوجاۓ میری رسوائ
مرے حساب سے اس کی نظر سے رکھ پنہاں
( یہ رباعی اقبال نے اسی خیال کی بنیاد پر لکھی ہے جو اس رباعی میں پیش کیا گیا تھا
تو غنی از ہر دو عالم من فقیر
روز محشر عذر ہائے من پذیر
ور حسابم را تو بینی ناگزیر
از نگاہ مصطفےٰ پنہاں بگیر
تو دونوں عالم سے بے نیاز ہے اور میں ایک عاجز سوالی ہوں
روز قیامت میری ایک عرض قبول کر لینا
اگر میرا حساب نامہ اعمال دیکھنا بڑا ہی ضروری ہے تو
برائے مہربانی حضور ؐ کی نگاہوں سے بچا کر حساب کرنا
اور اقبال نے ڈیرہ غازی خان کے جناب محمد رمضان عطائ کو ان کی درخواست کہ یہ رباعی انہیں بخش دی جاۓ قبول کر لی اور حسبِ وعدہ ارمغانِ حجاز میں میں طبع نہیں ہونے دی بلکہ اس کے بجاۓ الفاظ بدل کر یہ رباعی رقم فرمائ ۔ )
ادب گاہسیت زیرِ آسماں از عرش نازک تر
نفس گم کردہ می آید جنید و بایزید اینجا عزت بخاری
عرش سے نازک ہے زیرِ چرخ یہ جاۓ ادب
اس جگہ آتے ہیں دم کھولے جنید و بایزید
(زیرِ آسماں مدینہ ایک ایسی ادب گاہ ہے جہاں حضرت جنید بغدادی اور با یزید بسطامی بھی ادب سے اونچا سانس نہیں لیتے ہیں )
بایں پیری رہ یثرب گرفتم
نوا خواں از سرورِ عاشقانہ
چوآں مرغے کہ درصحرا سرِ شام
کشاید پر بہ فکرِ آشیانہ
اس بڑھاپے میں چلا یثرب کی سمت
میں نوا زن مست زورِ عشق سے
شام کو صحرا میں اس طائر کی طرح
پر جو فکرِ آشیاں میں کھول دے
گناہ عشق و مستی عام کردند
دلیلِ پختگاں را خام کردند
بآہنگِ حجازی می سرایم
نخستیں بادہ کاندر جام کردند
مستی و عشق کا گنہ شیوۂ عام کردیا
جو تھی دلیلِ پختگاں اس کو بھی خام کردیا
لے جو یہ ہے مجاز کی چھیڑ کے گا رہا ہوں
پہلے مگر شراب کو داخلِ جام کردیا
( دوسرے شعر کا دوسرا مصرع فخر الدین عراقیؔ کا ہے
نخستیں بادہ کاندر جام کردند
ز چشمِ مست ساقی دام کردند
سب سے پہلے جو شراب پیالے میں ڈالی گئ وہ ساقی کی مست آنکھ سے ادھار لی گئ ۔ یعنی کائنات میں سب سے پہلے نورِ محمدیؐ پیدا کیا گیا اور باقی کائنات اس کا پرتو ہے ۔ )
ز من بر صوفی و ملا سلامے
کہ پیغامِ خدا گفتند ما را
ولے تاویل شاں در حیرت انداخت
خدا و جبریل و مصطفیٰ را
میری جانب سے تو ہر صوفی و ملا کو سلام
مجھ کو پہنچایا انہوں نے ذاتِ باری کا پیام
جب مگر تاویل ان باتوں کی دونوں سے سنی
مصطفٰے ، جبریل ، حق سب ہوگۓ حیرت مقام
….
بشکریہ وسیم سیّد

