منتخب غزلیں
جوان بیوہ کی آہوں کے استعارے تھے ہوائے شام کے…

جوان بیوہ کی آہوں کے استعارے تھے
ہوائے شام کے جھونکے نہیں تھے آرے تھے
ہوائے شام کے جھونکے نہیں تھے آرے تھے
دلاسہ دیتے ہوے لوگ کیا سمجھ پاتے
ہم ایک شخص نہیں کائنات ہارے تھے
مرے کریم کھلی آنکھ سے گزار کبھی
وہ قافلے جو مرے خواب سے گزارے تھے
یہ اور بات کہ پیاسے کی پیاس لے ڈوبی
فرات نے تو بڑے ہاتھ پاؤں مارے تھے
ہمارے پیار کی تفصیل پوچھنے والو
ہم ایک باہمی دریا کے دو کنارے تھے
پھر ایک دن میں منافق بنا تو یار بنے
وگرنہ جان کے دشمن تو ڈھیر سارے تھے
راکبؔ مختار
اِنتِخاب
سفیدپوش




فرداً فرداً تمام احباب کا عمیقِ قلب سے شکر گزار ہوں
فاروق کوہاوڑ
ماشاءاللہ
عمدہ الفاظ
Bhut aaaaalaaaa
نوجوان شاعروں میں منفرد اور توانا آواز راکب مختار صاحب ہیں۔
اچھا کلام پڑھنے کو ملا ۔مگر میں یہ ضرور کہوں گی کہ ہمارے ادب کو رجائیت سے مملو ہونا چاہئے تاکہ اہل ِوطن بھی ہرے بھرے موسموں کے پیچھے جگمگاتی سحر کی طرف گامزن ہوں۔
Khoob
Khoob
wahhhhh
Bht khoobsurat kalam
کیا بات ھے راقب صاحب
Wah bht khoob
Waah ji Rakib Sahab.
پھر ایک دن میں منافق بنا تو یار بنے…..wahhhhh
خوبصورت شاعر
خوبصورت اور پسندیدہ غزل
Raakib Mukhtar
ہر پل جیئں آپ ❤️
Umda
Bohhttt khoobsurat ❤️
واہ واہ
Wah
Wah
Hum aik shakhs nhe kainat hary thy….
Kya kahny #Sir❤
کمال
کیا کہنے وااااااااااااہ
Wa wah
Basit Takhliya