منتخب غزلیں

جوان بیوہ کی آہوں کے استعارے تھے ہوائے شام کے…

جوان بیوہ کی آہوں کے استعارے تھے
ہوائے شام کے جھونکے نہیں تھے آرے تھے

دلاسہ دیتے ہوے لوگ کیا سمجھ پاتے
ہم ایک شخص نہیں کائنات ہارے تھے

مرے کریم کھلی آنکھ سے گزار کبھی
وہ قافلے جو مرے خواب سے گزارے تھے

یہ اور بات کہ پیاسے کی پیاس لے ڈوبی
فرات نے تو بڑے ہاتھ پاؤں مارے تھے

ہمارے پیار کی تفصیل پوچھنے والو
ہم ایک باہمی دریا کے دو کنارے تھے

پھر ایک دن میں منافق بنا تو یار بنے
وگرنہ جان کے دشمن تو ڈھیر سارے تھے

راکبؔ مختار

اِنتِخاب
سفیدپوش


Related Articles

23 Comments

  1. نوجوان شاعروں میں منفرد اور توانا آواز راکب مختار صاحب ہیں۔
    اچھا کلام پڑھنے کو ملا ۔مگر میں یہ ضرور کہوں گی کہ ہمارے ادب کو رجائیت سے مملو ہونا چاہئے تاکہ اہل ِوطن بھی ہرے بھرے موسموں کے پیچھے جگمگاتی سحر کی طرف گامزن ہوں۔

جواب دیں

Back to top button
تفکر ڈاٹ کام
situs judi online terpercaya idn poker AgenCuan merupakan salah satu situs slot gacor uang asli yang menggunakan deposit via ovo 10 ribu, untuk link daftar bisa klik http://faculty.washington.edu/sburden/avm/slot-dana/