ایک زمین جونؔ ایلیا لیاقت علی عاصمؔ ۔۔۔۔۔ جونؔ اپ…

جونؔ ایلیا
لیاقت علی عاصمؔ
۔۔۔۔۔
جونؔ
اپنے سب یار کام کر رہے ہیں
اور ہم ہیں کہ نام کر رہے ہیں
تیغ بازی کا شوق اپنی جگہ
آپ تو قَتلِ عام کر رہے ہیں
داد و تحسین کا یہ شور ہے کیوں؟
ہم تو خود سے کلام کر رہے ہیں
ہم ہیں مَصرُوفِ اِنتِظام مگر
جانے کیا اِنتِظام کر رہے ہیں
ہے وہ بے چارگی کا حال کہ ہم
ہر کِسی کو سلام کر رہے ہیں
اِک قَتالہ چاہئے ہم کو
ہم یہ اِعلانِ عام کر رہے ہیں
کیا بَھلا ساغرِ سِفال کہ ہم
ناف پیالے کو جام کر رہے ہیں
ہم تو آئے تھے عرضِ مَطلَب کو
اور وہ اِحترام کر رہے ہیں
نہ اُٹھے آہ کا دُھواں بھی کہ وہ
کُوئے دِل میں خِرام کر رہے ہیں
اُس کے ہونٹوں پہ رکھ کے ہونٹ اپنے
بات ہی ہم تمام کر رہے ہیں
ہم عَجَب ہیں کہ اُس کے کُوچے میں
بے سَبَب دُھوم دھام کر رہے ہیں۔۔۔!
۔۔۔۔۔
عاصمؔ
تیرے ناکام کام کر رہے ہیں
صُبح سے، شام شام کر رہے ہیں
جانتے ہیں کہ کُچھ نہیں ہوگا
صِرف حُجَّت تمام کر رہے ہیں
بولتے ہیں کِواڑ کے قَبضے
ایسے جیسے کلام کر رہے ہیں
صِرف گھر سے نہیں نِکلتے بَس
ورنہ کیا کُچھ عوام کر رہے ہیں
عِشق نے کب کِیا ہے منع ہمیں
ہم تو دُنیا کے کام کر رہے ہیں
ایسا لگتا ہے دُور دیس میں ہم
کُوچ کے دِن قیام کر رہے ہیں
جونؔ صاحِب خفا نہ ہوں عاصمؔ
یہ زمیں اپنے نام کر رہے ہیں۔۔۔!




ہے نِصفِ شب، وہ دیوانہ ابھی تک گھر نہیں آیا
کِسی سے چاندنی راتوں کا قِصّہ چِھڑ گیا ہو گا۔۔۔!
جونؔ ایلیا
داد و تحسین کا یہ شور ہے کیوں؟
ہم تو خود سے کلام کر رہے ہیں
………………………………………………
بولتے ہیں کِواڑ کے قَبضے
ایسے جیسے کلام کر رہے ہیں