منتخب غزلیں

تسہیلِ شکوہ قسط نمبر 2: "ہم سے پہلے تھا عجب تیرے …

تسہیلِ شکوہ قسط نمبر 2:

"ہم سے پہلے تھا عجب تیرے جہاں کا منظر
کہیں مسجود تھے پتھر کہیں معبود شجر
خُوگرِ پیکرِ محسوس تھی انساں کی نظر
مانتا پھر کوئی اَن دیکھے خدا کو کیونکر؟
تجھ کو معلوم ہے لیتا تھا کوئی نام ترا؟
قوتِ بازوئے مُسلم نے کیا کام ترا”
مسجود: جسے سجدہ کیا جاۓ
معبود: جسکی عبادت کی جاۓ
خوگرِ پیکرِ محسوس: مادی اور ٹھوس اشیاء کی عادی
"بَس رہے تھے یہیں سلجوق بھی ، تُورانی بھی
اہلِ چیں چین میں ، ایران میں ساسانی بھی
اسی معمورے میں آباد تھے یُونانی بھی
اسی دنیا میں یہودی بھی تھے نصرانی بھی
پر ترے نام پہ تلوار اُٹھائی کس نے؟
بات جو بگڑی ہوئی تھی وہ بنائی کس نے؟”
سلجوق: ترکوں کا ایک قبیلہ
تورانی: ترکستان کے باشندے
ساسانی: ایران کے قدیم حکمران
معمورہ: دنیا
"تھے ہمیں ایک ترے معرکہ آراؤں میں
خُشکیوں میں کبھی لڑتے کبھی دریاؤں میں
دیں اذانیں کبھی یورپ کے کلیساؤں میں
کبھی افریقہ کے تپتے ہوئے صحراؤں میں
شان آنکھوں میں نہ جچتی تھی جہانداروں کی
کلمہ پڑھتے تھے ہم چھاؤں میں تلواروں کی”
معرکہ آراء: جنگ لڑنے والے
کلیسا: چرچ، عیسائیوں کی عبادت گاہ
آنکھوں میں نہ جچنا: معمولی سمجھنا
"ہم جو جیتے تھے تو جنگوں کی مُصیبت کے لئے
اور مرتے تھے ترے نام کی عظمت کے لئے
تھی نہ کچھ تیغ زنی اپنی حکومت کے لئے
سر بکف پھرتے تھے کیا دہر میں دولت کے لئے؟
قوم اپنی جو زرومال جہاں پر مرتی
بُت فروشی کے عوض بُت شکنی کیوں کرتی”
تیغ زنی: تلوار بازی
سر بکف: کف کہتے ہیں ہتھیلی کو، سر ہاتھ میں لے کر پِھرنا، موت سے نہ گھبرانا۔ یوں کہہ لیں سر پہ کفن باندھ کر نکلنا۔
دہر: زمانہ
زر: دولت
بُت فروشی: پتھر کے بُت بیچنا
بُت شکنی: پتھروں کے بُت توڑنا، اشارہ غالباً محمود غزنوی کی جانب ہے جس نے سومنات کا مندر توڑا تھا۔

٭٭٭قاضی حارث٭٭٭


Related Articles

جواب دیں

Back to top button
تفکر ڈاٹ کام
situs judi online terpercaya idn poker AgenCuan merupakan salah satu situs slot gacor uang asli yang menggunakan deposit via ovo 10 ribu, untuk link daftar bisa klik http://faculty.washington.edu/sburden/avm/slot-dana/