منتخب غزلیں
آج کا لفظ اذیت : دکھ,تکلیف,مصیبت ……. اذیت مصی…

آج کا لفظ
اذیت : دکھ,تکلیف,مصیبت
…….
اذیت مصیبت ملامت بلائیں
ترے عشق میں ہم نے کیا کیا نہ دیکھا
خواجہ میر درد
…….
شب فراق میں یہ حال ہے اذیت کا
کہ سانپ فرش ہے اور سانپ کا ہے من تکیہ
مرزا غالب
……
ہم دوہری اذیت کے گرفتار مسافر
پاؤں بھی ہیں شل شوق سفر بھی نہیں جاتا
احمد فراز
…..
اب تسلی بھی اذیت ہے مجھے
اب دلاسا بھی رلا دیتا ہے
سیف الدین سیف
….
زندگی ایک اذیت ہے مجھے
تجھ سے ملنے کی ضرورت ہے مجھے
میراجی
…….
مجھ کو بھی جاگنے کی اذیت سے دے نجات
اے رات اب تو گھر کے در و بام سو گئے
اظہر عنایتی
……..
تمام شہر گرفتار ہے اذیت میں
کسے کہوں مرے احباب کی خبر رکھے
رمزی آثم
……
تجھ سے اب اور محبت نہیں کی جا سکتی
خود کو اتنی بھی اذیت نہیں دی جا سکتی
نوشی گیلانی
……
کم نہیں ہے یہ اذیت کہ ابھی زندہ ہوں
اب مرے سر پہ کوئی اور بلا کیوں آئے
شہزاد احمد
……..
میں کس قطار میں ہوں جہاں مجھ سے سیکڑوں
مر مر گئے اذیت زنجیر کھینچ کر
مصحفی غلام ہمدانی
……….
طلبؔ بڑی ہی اذیت کا کام ہوتا ہے
بکھرتے ٹوٹتے رشتوں کا بوجھ ڈھونا بھی
خورشید طلب
………
شکوہ نہ بخت سے ہے نے آسماں سے مجھ کو
پہنچی جو کچھ اذیت اپنے گماں سے مجھ کو
قائم چاندپوری
…….
کوئی گھر بیٹھے کیا جانے اذیت راہ چلنے کی
سفر کرتے ہیں جب رنج سفر معلوم ہوتا ہے
مصحفی غلام ہمدانی
……
بشکریہ ریختہ روزن
اذیت : دکھ,تکلیف,مصیبت
…….
اذیت مصیبت ملامت بلائیں
ترے عشق میں ہم نے کیا کیا نہ دیکھا
خواجہ میر درد
…….
شب فراق میں یہ حال ہے اذیت کا
کہ سانپ فرش ہے اور سانپ کا ہے من تکیہ
مرزا غالب
……
ہم دوہری اذیت کے گرفتار مسافر
پاؤں بھی ہیں شل شوق سفر بھی نہیں جاتا
احمد فراز
…..
اب تسلی بھی اذیت ہے مجھے
اب دلاسا بھی رلا دیتا ہے
سیف الدین سیف
….
زندگی ایک اذیت ہے مجھے
تجھ سے ملنے کی ضرورت ہے مجھے
میراجی
…….
مجھ کو بھی جاگنے کی اذیت سے دے نجات
اے رات اب تو گھر کے در و بام سو گئے
اظہر عنایتی
……..
تمام شہر گرفتار ہے اذیت میں
کسے کہوں مرے احباب کی خبر رکھے
رمزی آثم
……
تجھ سے اب اور محبت نہیں کی جا سکتی
خود کو اتنی بھی اذیت نہیں دی جا سکتی
نوشی گیلانی
……
کم نہیں ہے یہ اذیت کہ ابھی زندہ ہوں
اب مرے سر پہ کوئی اور بلا کیوں آئے
شہزاد احمد
……..
میں کس قطار میں ہوں جہاں مجھ سے سیکڑوں
مر مر گئے اذیت زنجیر کھینچ کر
مصحفی غلام ہمدانی
……….
طلبؔ بڑی ہی اذیت کا کام ہوتا ہے
بکھرتے ٹوٹتے رشتوں کا بوجھ ڈھونا بھی
خورشید طلب
………
شکوہ نہ بخت سے ہے نے آسماں سے مجھ کو
پہنچی جو کچھ اذیت اپنے گماں سے مجھ کو
قائم چاندپوری
…….
کوئی گھر بیٹھے کیا جانے اذیت راہ چلنے کی
سفر کرتے ہیں جب رنج سفر معلوم ہوتا ہے
مصحفی غلام ہمدانی
……
بشکریہ ریختہ روزن


Adan
اذیتوں کے تمام نشتر
میری رگوں میں اتار کر وہ،
بڑی محبت سے پوچھتا ہے
تمہاری آنکھوں کو کیا ہوا ہے
ن۔م
Uffffffffff
Classic
me
محبتوں میں اذیت شناس کتنی تھیں ۔۔ بچھڑتے وقت یہ آنکھیں اداس کتنی تھیں۔ بچھڑ کے تجھ سے کسی طور دل بہل نہ سکا۔۔۔ نشانیاں بھی تیری ، میرے پاس کتنی تھیں۔
خواہشیں دل کا ساتھ چھوڑ گئیں
یہ اذیت بڑی اذیت ہے
شب و روز نہ اﺫیت میں گزارے ہوتے
چین آ جاتا اگر کھیل کے ہارے ہوتے
محسن نقوی
Acha silsla ha ye????????
اب دل بھی دکھاؤ تو اذیت نہیں ہوتی
حیرت ہے کسی بات پہ حیرت نہیں ہوتی
اکرم محمود
میرے لئے تو یہ بھی اذیت کی بات تھی
کہ تجھ کو بھی حالِ دل سنانا پڑا مجھے
شاعر: نامعلوم
زندگی ایک اذیت ہے مجھے
تجھ سے ملنے کی ضرورت ہے مجھے
اب یونہی عمر گزر جائے گی
اب یہی بات غنیمت ہے مجھے
شاعر: میرا جی