منتخب غزلیں

کبھی جنگل کبھی صحرا کبھی دریا لکھا اب کہاں یاد کہ …

کبھی جنگل کبھی صحرا کبھی دریا لکھا
اب کہاں یاد کہ ہم نے تجھے کیا کیا لکھا

شہر بھی لکھا مکاں لکھا محلہ لکھا
ہم کہاں کے تھے مگر اس نے کہاں کا لکھا

دن کے ماتھے پہ تو سورج ہی لکھا تھا تو نے
رات کی پلکوں پہ کس نے یہ اندھیرا لکھا

سن لیا ہوگا ہواؤں میں بکھر جاتا ہے
اس لئے بچے نے کاغذ پہ گھروندا لکھا

کیا خبر اس کو لگے کیسا کہ اب کے ہم نے
اپنے اک خط میں اسے دوست پرانا لکھا

اپنے افسانے کی شہرت اسے منظور نہ تھی
اس نے کردار بدل کر مرا قصہ لکھا

ہم نے کب شعر کہے ہم سے کہاں شعر ہوئے
مرثیہ ایک فقط اپنی صدی کا لکھا

(شین کاف نظام)

انتخاب :-: ابوالحسن علی ندوی

Related Articles

Back to top button
تفکر ڈاٹ کام
situs judi online terpercaya idn poker AgenCuan merupakan salah satu situs slot gacor uang asli yang menggunakan deposit via ovo 10 ribu, untuk link daftar bisa klik http://faculty.washington.edu/sburden/avm/slot-dana/